Published From Aurangabad & Buldhana

روہت، وینیش، رانی، منیکا اور تھانگایلو کوکھیل رتن کی سفارش

نئی دہلی : بھارت کے محدود اوورز کے کپتان روہت شرما ، اسٹار خاتون ریسلر وینیش پھوگاٹ ، ٹیبل ٹینس اسٹار منیکا بترا،بھارت کی خاتون ہاکی ٹیم کی کپتان رانی رامپال اور ریو پیرالمپک طلائی تمغہ جیتنے والے کھلاڑی ماریپن تھانگایلو کو ملک کے سب سے اعلی کھیل اعزاز راجیو گاندھی کھیل رتن قرار دینے کے لئے سفارش کی گئی ہے۔

وزارت کھیل کی 12 رکنی ایوارڈ کمیٹی نے کھیل رتن کے لئے پہلے چار ناموں کی سفارش کی تھی جس میں بعد میں رانی رامپال کا نام شامل کیا گیا جس پر حتمی فیصلہ مرکزی وزیر کھیل کرن رجیجو نے کرنا ہے۔ اس کمیٹی کے چئیرمین سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس مکندکم شرما تھےاورکمیٹی ممبران میں سابق کرکٹر وریندر سہواگ ، ہاکی کے سابق کپتان سردار سنگھ ، پیرا اولمپک سلور میڈلسٹ دیپا ملک ، سابق ٹیبل ٹینس پلیئر مونالیزا باروا مہتا اور باکسر وینکٹیسن دیواراجن شامل تھے۔ کمیٹی نے سائی کے صدر دفتر میں ایک اجلاس منعقد کیا اور ان چاروں ناموں کی سفارش کی۔

نیشنل اسپورٹس ایوارڈز کے ضوابط میں کھیل رتن کا یہ اصول ہے کہ ایک اولمپک سال میں ایک سے زیادہ کھلاڑیوں کو کھیل رتن سے نوازا جاسکتا ہے جبکہ غیر اولمپک سالوں میں ایک کھیل کے لئے کھیل رتن دیا جانا چاہئے۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے یہ روایت ہے کہ ایک سے زیادہ کھلاڑیوں کو کھیل رتن دیا جارہا ہے۔تاہم یہ دوسرا موقع ہے جب کھیل رتن کے لئے پانچ کھلاڑیوں کے ناموں کی سفارش کی گئی ہے۔ اس سے قبل 2016 کے ریو اولمپکس کے بعد سلور میڈلسٹ پی وی سندھو ، کانسی کا تمغہ جیتنے والی ساکشی ملک ، چوتھی پوزیشن کی جمناسٹ دیپا کرماکر اور شوٹر جیتو رائے کو کھیل رتن سے نوازا گیا تھا۔

2009 میں ، تین کھلاڑی باکسر ایم سی میری کوم ، وجیندر سنگھ اور پہلوان سشیل کمار کو کھیل رتن سے نوازا گیا۔ وجیندر اور سشیل نے 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں کانسی کے تمغے جیتے تھے جبکہ میری کوم چوتھی بار عالمی چمپیئن بنی تھیں ۔ پانچ بار دو کھلاڑیوں کو یہ اعزاز ملا ہے۔ 1997 میں ویٹ لفٹر کنجورانی دیوی اور ٹینس پلیئر لینڈر پیس ، 2003 میں شوٹر انجلی بھاگوت اور ایتھلیٹ کے کینمول ، 2012 میں لندن اولمپکس کے بعد شوٹر وجے کمار اور پہلوان یوگیشور دت نے کھیل رتن حاصل کیا۔ 2017 میں پیرا اتھلیٹ دیویندر جھاڑیا اور ہاکی کے کھلاڑی سردار سنگھ ، ویٹ لفٹرز میرابائی چانو اور 2018 میں کرکٹ کے کپتان وراٹ کوہلی اور 2019 میں دیپا ملک اور بجرنگ پنیا کو کھیل رتن سے نوازا گیا۔

پہلی بار کورونا کی وجہ سے کھیلوں کی وزارت کھیل نے آن لائن درخواست طلب کی تھیں ۔ اس سال راجیو گاندھی کھیل رتن کے لئے 42 درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔جنوری 2016 سے دسمبر 2019 تک کھیل رتن کے لئے کارکردگی پر غور کیا گیا۔ محدود اوورز کے ہندوستانی کرکٹ کے نائب کپتان روہت نے گذشتہ سال انگلینڈ میں ہونے والے ون ڈے ورلڈ کپ میں پانچ سنچریاں بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا حالانکہ وہ سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہوگئے تھے۔ اگر انہیں کھیل رتن کے لئے منتخب کیا جاتا ہے تو وہ سچن تندولکر ، مہندر سنگھ دھونی اور وراٹ کوہلی کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے چوتھے کرکٹر ہوں گے۔

ونیش نے 2018 میں منعقدہ دولت مشترکہ اور ایشین گیمز میں طلائی تمغے حاصل کیے تھے۔ ونیش نے پچھلے سال ورلڈ چمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا اور ملک کو ٹوکیو اولمپکس کے لئے کوٹہ دلایا تھا۔

منیکا بترا نے 2018 دولت مشترکہ کھیلوں میں خواتین کے انفرادی اور ٹیم گولڈ سمیت کل چار تمغے جیتے۔ انہوں نے 2018 جکارتہ ایشین گیمز میں مکسڈ ڈبلز میں کانسے کا تمغہ جیتا۔ہندستان نے رانی کی کپتانی میں امریکہ کو شکست دے کر ٹوکیو اولمپکس کیلئے کوالیفائی کرلیا ہے۔پیرا ہائی جمپر تھانگایلو نے 2016 کے ریو پیرا اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔ انہوں نے گذشتہ سال ورلڈ پیرا ایتھلیٹکس چمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ انہیں 2017 میں ارجن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔اسٹار جیویلین تھروورنیرج چوپڑا ، رنر ہما ​​داس ، بیڈمنٹن کھلاڑی کندامبی سری کانت اور شوٹر اپوروی چنڈیلا بھی کھیل رتن ریس میں شامل تھے لیکن آخر میں باہر ہوگئے۔

یو این آئی

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!