Published From Aurangabad & Buldhana

روس کے ڈینیل میدویدیف کو ہرا کر نوواک جوکووچ نویں مرتبہ آسٹریلین اوپن چیمپئن بنے

میلبورن : دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی سربیا کے نوواک جوکووچ نے میلبورن پارک میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے روس کے ڈینیل میدویدیف کو اتوار کے روز مسلسل سیٹوں میں 2-2، 6-6، 5-7 سے شکست دے کر نویں مرتبہ سال کے پہلے گرینڈ سلیم آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کا خطاب جیت لیا۔

ٹاپ سیڈ اور گزشتہ دو مرتبہ کے فاتح جوکووچ نے چوتھی سیڈ میدیویف کو ایک گھنٹے 53 منٹ میں شکست دے کر خطابی ہیٹ ٹرک مکمل کی اور نویں مرتبہ یہ خطاب اپنے نام کیا۔ جوکووچ کا یہ 18 واں گرینڈ سلیم خطاب ہے۔ وہ سوئزر لینڈ کے روجر فیڈرر اور اسپین کے رافیل نڈال کے 20 گرینڈ سلیم خطاب کے عالمی ریکارڈ سے دو خطاب پیچھے رہ گئے ہیں۔ جوکووچ اس کے ساتھ ہی ایک گرینڈ سلیم کو نو مرتبہ جیتنے والے نڈال کے بعد دوسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ نڈال نے فرنچ اوپن کو 13 مرتبہ جیتا ہے۔

جوکووچ نے یہ خطاب 2008، 2011، 2012، 2013، 2015، 2016، 2019، 2020، 2021 میں جیتا ہے۔ انہوں نے اس کے علاوہ ایک مرتبہ پھر فرنچ اوپن، ومبلڈن پانچ بار اور تین مرتبہ یو ایس اوپن کا خطاب اپنے نام کیا ہے۔ جوکووچ نے روڈ لیور ایرینا میں اس فتح کے ساتھ میدویدیف کے 20 میچوں کے ناقابل تسخیر برتری کے سلسلے کو روک دیا۔ پچھلے سال نومبر میں سربیا کے 33 سالہ کھلاڑی نے اے ٹی پی فائنلز میں روسی کھلاڑی سے چھ۔تین، چھ۔تین سے ملی شکست کا بدلہ لیا میدویدیف کے خلاف اپنا کیریر ریکارڈ پانچ۔ تین پہنچا دیا۔

جوکووچ نے پہلے سیٹ میں طوفانی آغاز کرتے ہوئے دس منٹ کے اندر تین۔صفر کی برتری حاصل کرلی۔ حالانکہ میدویدیف نے جوابی حملہ کیا اور اسکور کو کم کرکے چھ ۔ پانچ تک لے گئے۔ سربیا کے کھلاڑی نے 12 ویں گیم میں بیک ہینڈ پاسنگ شاٹ ونر لگاتے ہوئے تین سیٹ پوائنٹس حاصل کیے اور تیسرا سیٹ پوائنٹ کا فائدہ اٹھاکر پہلا سیٹ ختم کر دیا جب میدویف کا فورہینڈ نیٹ میں جاکر الجھ گیا۔

جوکووچ نے دوسرے سیٹ کے پہلے کھیل میں اپنی سروس گنوائی لیکن اس کے بعد اگلے چارگیم جیت کر میچ پر قابو پالیا۔ گزشتہ مرتبہ سال کا اختتام دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی کے طور پر کرنے والے جوکووچ نے روسی کھلاڑی کو غلطی کرنے پر مجبور کیا جو ریلیوں کو چھوٹا کرنے کی کوشش میں غلطیاں کرنے لگے۔ جوکووچ نے شاندار فور ہینڈ لگاکر پانچویں مرتبہ میدویدیف کی سروس توڑی اور دوسرا جیتا۔

جوکووچ نے تیسرے سیٹ میں میدویدیف کے ڈبل فالٹ کا فائدہ اٹھایا۔ چیمپئن شپ پوائنٹس پر جوکووچ نیٹ پر پہنچے اور اوور ہینڈ ونر لگاکر شاندار جیت اپنے نام کی۔ جیت کے بعد، جوکووچ نے کہا کہ میدویدیف ایک چیلنجنگ کھلاڑی ہیں اور ایسے کھلاڑی سے جیتنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا جس نے گزشتہ کچھ مہینوں میں مسلسل 20 میچ جیتے ہیں۔ میدویدیف نے میچ کے بعد جوکووچ اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی اور کہا کہ نو آسٹریلین اوپن اور 18 گرینڈ سلیمز جیتنا ایک بڑی کامیابی ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

اس شکست کے ساتھ ہی میدویدیف کا پہلا گرینڈ سلیم خطاب جیتنے کا خواب ٹوٹ گیا۔ موجودہ اے ٹی پی فائنلز چیمپیئن میدویدیف اپنے دونوں گرینڈ سلیم فائنلز میں رنر اپ رہے۔ وہ 2019 یو ایس اوپن میں نڈال سے چار گھنٹے 51 منٹ تک جاری رہنے والی میراتھن فائنل میں ہار گئے تھے۔ انہوں نے اس شکست کے باوجود پیر کے روز جاری اے ٹی پی رینکنگ میں آسٹریلیا کے ڈومنک تھیئم کو پیچھے کرتے ہوئے کیریر کی بہترین تیسری رینکنگ حاصل کی ہے۔

یو این آئی

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!