Published From Aurangabad & Buldhana

رام ناتھ کووند کے بیان سے اے ایم یو طلبہ ناراض، کہا یا تو معافی مانگیں یا کنووکیشن میں شامل نہ ہوں

علی گڑھ ۔ صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کی اے ایم یو میں آمد کو لیکر شروع ہوا تنازعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب طلباء یونین کے نائب صدرکشمیر سے تعلق رکھنے والے سجاد سبحان راتھر نے صدر جمہوریہ ہند سے دورہ ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپس کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے رام ناتھ کووند کو اپنا دورہ ملتوی کر دینا چاہئے۔ اگر کیمپس کے حالات خراب ہوئے تو اس کے لئے وائس چانسلر اور صدر جمہوریہ ہند ہی ذمہ دار ہوں گے۔

مسلم یونیورسٹی طلباء یونین کے نائب صدر سجاد سبحان راتھر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ ہند نے جس طرح ملک کی اقلیتوں پر تبصرہ کیا تھا وہ ملک کے جمہوری نظام کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ ایسے میں اگر ان کے بیانات کی مذمت کی جا رہی ہے تو وہ اپنے بیانات پر وضاحت پیش کریں اور تسلیم کریں کہ ان سے یہ بھول ہوئی تھی۔ انھوں نےکہا کہ اس ملک میں سبھی اقوام کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ ایسےمیں اس طرح کے تبصرے غیر ضروری ہیں۔

واضح رہے کہ 2010 میں صدر جمہوریہ نے کہا تھا کہ ‘اسلام اور عیسائیت’ ملک کے لئے باہری ہیں۔ انہوں نے یہ بات رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی تھی۔ دراصل، رنگناتھ مشرا کمیشن نے سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے لئے 15 فیصد ریزرویشن (مسلمانوں کے لئے 10٪ اور دیگر اقلیتوں کے لئے 5 فیصد) کی سفارش کی تھی۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کووند نے کہا تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو درج فہرست ذات میں شامل کرنا غیر قانونی ہو گا۔ کووند اس وقت بی جے پی کے ترجمان تھے۔ جب کووند سے پوچھا گیا کہ پھر سکھوں کو اسی زمرہ میں کیسے ریزرویشن دیا جاتا ہے تو انہوں نے کہا کہ ‘اسلام اور عیسائیت ملک کے لئے باہری ہیں۔

کووند کے دورہ کی مخالفت کرتے ہوئے سجاد سبحان نے کہا کہ یا تو وہ 2010 میں دیئے گئے اپنے اس بیان کے لئے اپنی غلطی تسلیم کریں یا پھر کنووکیشن میں وہ شامل نہ ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو پھر صدر جمہوریہ اور وائس چانسلر خود اس کے ذمہ دار ہوں گے کیونکہ طلبہ میں ان کے بیان کو لے کر ناراضگی ہے۔ سجاد سبحان راتھر نےکہا کہ ہم طلباء کےغصہ کو محسوس کر رہے ہیں کہ وہ سخت برہم ہیں۔ ایسے میں صدر جمہوریہ ہند کی آمد پر اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ ذمہ دار ہوگی۔ ہماری گذارش ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے تنازعہ سے بچیں اور اپنا پروگرام ہی ملتوی کردیں ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!