Published From Aurangabad & Buldhana

رام مندر تا پٹیل ہوٹل وہائٹ ٹاپنگ کو اسٹینڈنگ کی منظوری

مراٹھی اخبار میں غلط خبر شائع کیے جانے پر درج کرایا اعتراض

اورنگ آباد 9 اگست (سینئر رپورٹر)کراڑ پورہ وارڈ میں رام مندر تا پٹیل ہوٹل تک 1 کروڑ کی لاگت سے سیمنٹ روڈ کی تعمیر کی قرارداد گذشتہ اسٹینڈنگ کمیٹی میٹنگ میں منظورکر لی گئی ۔ کراڑ پورہ سے مجلس کارپوریٹر نسیم بی سانڈو خان اور ان کے فرزند و سوشل ورکر حاجی اسحق خان پچھلے دو سال سے اس راستہ کیلئے میونسپل انتظامیہ سے مسلسل نمائندگی کر رہے تھے۔ بالخصوص حاجی اسحق خان نے میئر کے خصوصی فنڈ سے اس راستہ کے تعمیری کام کے خرچ کو منظور کروانے میں کامیابی حاصل کی۔ میئر فنڈ سے رام مندر تا پٹیل ہوٹل راستہ کانکریٹنگ کے علاوہ یہاں اسٹریٹ لائٹ اور بیوٹیفکیشن کیلئے علیحدہ 50 لاکھ روپیوں کو بھی میئر نندکمار گھوڑیلے نے منظوری دی تھی ۔

کارپوریٹر نسیم بی اور حاجی اسحق خان شروع سے ہی مطالبہ کر رہے تھے کہ رام مندر تا پٹیل ہوٹل سیمنٹ روڈ تعمیر کرنے سن 2016-17 کے بجٹ میں پرویژن کیا جائے۔ اس نمائندگی کے زیر اثر مذکورہ کام کا اسٹیمیٹ تو تیار کر لیا گیا تھا مگر اس کام کو اسپیل اوور میں ڈال دیئے جانے سے یہ کام رُک گیا تھا۔ مگر حاجی اسحق کی موثر نمائندگی اور راستہ کی ضرورت کے پیش نظر میئر گھوڑیلے نے میئر فنڈ سے اس کام کو کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی تھی۔ 4

جنوری کو میئر نے کمشنر کو بذریعہ مکتوب اس راستہ کی وہاٹ ٹاپنگ میئر فنڈ سے کروانے کی اطلاع دیتے ہوئے 2017-18 کے ترمیم شدہ بجٹ میں 1 کروڑ کا پرویژن کیا تھا۔ جس کے تحت انتظامیہ نے اس راستہ کیلئے 99 لاکھ 90 ہزار 20 روپئے خرچ کا اسٹیمیٹ تیار کیا تھا۔ جنرل باڈی نے بھی اس اسٹیمیٹ کو منظوری دے دی۔ باضابطہ کام شروع کرنے کارپوریٹر نسیم بی نے30 جولائی کو کمشنر سے تحریری گذارش کی تھی۔

لگاتار کی گئی اسی نمائندگی کا نتیجہ تھا کہ اسٹیمیٹ کے بعد گذشتہ اسٹینڈنگ کمیٹی میٹنگ میں ٹینڈر اجرائی کو بھی منظوری دی گئی۔ اس نمائندگی کیلئے کراڑ پورہ وارڈ ساکنان نے نسیم بی اور حاجی اسحق کا استقبال بھی کیا ۔ لیکن اسی راستہ کے متعلق گذشتہ 6 اگست کو ایک مقامی اخبار میں اس راستہ کا کریڈٹ سابق کانگریس کارپوریٹر کو دیئے جانے کے سبب کارپوریٹر نسیم بی اور حاجی اسحق برہم ہو گئے۔ غلط خبر شائع کرنے کے ضمن میں انہوں نے مذکورہ اخبار کے مدیراور دیگر تمام اخبارات کو بذریعہ محضر مطلع کیا کہ اس راستہ کیلئے انہوں نے نمائندگی کی ہے ، نہ سابق کارپوریٹر نے۔ سچائی شہریان کے سامنے آنی ضروری ہے، اسلئے خلاصہ کیا جا رہا ہے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!