Published From Aurangabad & Buldhana

!راج ببرکےساتھ شیو پال یادوکی دوملاقاتیں:کیا "ہاتھ” کا ساتھ پانے کو بے تاب ہیں شیوپال یادو

لکھنؤ۔جب دوستی کےدرمیان مذہب اور ذات۔پات کی دیواریں بیچ میں نہیں آتی ہیں تو پھر سیاسی پارٹیاں کیا چیز ہیں۔کانگریس لیڈر راج ببر سنگ ایس پی لیڈر اورملائم سنگھ یادو کے شیوپال یادو کی ملاقاتیں کچھ اس طرف اشارہ کررہی ہیں۔خاص طور سے کانگریس اورایس پی کے سیاسی گلیاروں میں بڑی تیزی سے چرچائیں ہو رہی ہیں کہ آخر راج ببر کے ساتھ شیو پال یادو کی دو ملاقاتوں کے کیا معنی ہیں۔

خاص بات یہ ہیکہ جتنی جلدی۔جلدی یہ دو ملاقاتیں ہوئی ہیں اس کے چلتے بھی راج ببر اور شیو پال یادو کا ملنا۔جلنا لوگوں کی نگاہوں میں آ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق راج ببر کے سطح پر تو شیو پال یادو کی شرطیں طے مانی جا رہی ہیں۔بس ایک ملاقات راہل گاندھی کے ساتھ ہونی باقی ہے۔راہل گاندھی کے انتخابی دورے کے چلتے اس ملاقات میں دیری ہو رہی ہے۔

خاص بھتیجے اور ایس پی قومی صدر اکھلیش یادو کےساتھ شیوپال یادو کی ناراضگی بھی کسی سے چھپی نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق تو گھر کے اندر شیو پال کو منانے کا کام بھی چل رہا ہے۔حالانکہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہیکہ آج بھی ایس پی کا ایک حصہ شیوپال یادو پر اعتماد کرتا ہے۔اس لئے ایس پی کے سینئر لیڈر نہیں چاہتے کہ شیو پال یادو ایس پی چھوڑ کر کہیں اور جائیں۔

کیا فیروزہ آباد سیٹ پر ہے شہو پال کی نظر

ذرائع کی مانیں تو شیو پال یادو 2019 میں لوک سبھا کا چناؤ لڑنے کا موڈ بنا چکے ہیں۔چناؤ لڑنے کیلئے انہوں نے فیروزہ آباد سیٹ کو چنا ہے۔اس کے پیچھے ایک خٓص وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہیکہ فیروزہ آباد،شکوہ آباد اور سرسہ گنج میں بڑی تعداد میں یادو ذاتی کے لوگ رہتے ہیں۔

پروفیسر رام گوپال یادو کے بیٹے اکشے یادو بھی فیروزہ آباد سے ممبر ہیں۔شیوپال یادوایس پی سے فیروزہ آباد سے لوک سبھا کیلئے ٹکٹ مانگ رہے ہیں لیکن اس کو لیکر ایس پی میں ابھی تک کوئی اتفاق ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔جبکہ جانکاروں کے حوالے سے تو کانگریس کیلئے فیروزہ آباد سیٹ کو چھوڑنا بیحڈ آسان ہے۔اس کا وہاں کوئی مضبوط دعویدار بھی نہیں ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!