Published From Aurangabad & Buldhana

دہلی کے ایک پروفیسر کی جہالت اور دوسرے کی علمیت کا قصہ!

ڈاکٹر سلیم خان

آئین ہند کی دفع 80 کے تحت صدر کو ایوانِ بالا میں 12 ارکان نامزد کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ ان اراکین کا تعلق فن، سائنس، سماجی کام اور کھیل وغیرہ سے ہونا چاہیے۔ اس زمرے میں گزشتہ سال کرکٹ کھلاڑی سچن تندولکر، فلم اداکارہ ریکھا، سماجی کارکن انو آغا اور کے پاراسن کی مدت کار ختم ہو گئی ۔ ان کی جگہ ۱۴ جولائی ۲۰۱۸؁ کو صدر جمہوریہ ر ام ناتھ کووند نے راجیہ سبھا کے لیے چار نئےارکان نامزد کیے۔ ان میں سے ایک متنازع شخصیت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریہ ساز، مصنف اور کالم نگار راکیش سنہا تھے۔ دیگر لوگوں میں مشہور کلاسیکی رقاصہ سونل مان سنگ، کسان رہنما رام شکل اور مشہور مجسمہ ساز رگھوناتھ مہاپاترا کا نام شامل تھا۔ ان چاروں میں تفریح کی دنیا سے کوئی نہیں تھا لیکن آگے چل کر پتہ چلا جس راکیش سنہا کو نظریہ ساز سمجھا جارہا ہے وہی سب سے بڑا مسخرہ ہے۔
اپنی نامزدگی کے دو ہفتہ بعد پروفیسر راکیش سنہا نے ٹوئٹ کر کے رام مندر پر پرائیویٹ ممبر بل لانے کا عندیہ ظاہر کردیا لیکن سنگھ پریوار نے ہی غالباً ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کردیا ۔ اس سال گاندھی جینتی کے موقع پر راکیش سنہا نے شوشہ چھوڑ دیا کہ اگر آج گاندھی جی زندہ ہوتے تو سویم سیوک ہوتے۔ وہ خیر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ انہیں سر سنگھ چالک بنا دیا جاتا کیونکہ کل یگ میں اظہار رائے کی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے ہر بھکت اپنے من کی بات کہہ سکتا ہے بشرطیکہ وہ حکومت کے خلاف نہ ہو۔ راکیش سنہا کا تازہ انکشاف یہ ہے ’’ ہماری تہذیب میں کسی زانی یا چور کو سزا دینے کی کوئی روایت یا قانون نہیں ہے لیکن دیگر معاشروں اور مذاہب میں ایسی روایت ہے‘‘۔ راکیش سنہا نے یہ شرمناک کا اعتراف ہے یا فخر سے کہی ہوئی بات ہے یہ تو وہی بتا سکتے ہیں کیونکہ کسی تہذیب میں اگر زنا اور چوری جیسی برائیوں کے لیے بھی سزا نہ ہو تو اس کی بابت کیا کہا جائے؟
انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ’’اسلامی معاشرے میں زنا اور چوری کی سزا ہے لیکن ایسی کوئی مثال ہندوستان میں نہیں ہے‘‘۔ مسلمانوں کو اپنے شرعی قوانین پر ناز ہےکیونکہ اس کے سبب ایک ایسا سماج وجود میں آیا تھا جس میں ایک عورت سناء سے حضرموت تک سونا اچھالتی جاتی اور اسےکسی کا خوف نہ ہوتا ۔ ہندوستان میں یہ قانون نافذ ہوتا تو دہلی کی پیشانی پر ریپ کیپٹل کا کلنک نہیں ہوتا اور ریاستِ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کے گھر پر چوری نہیں ہوتی ۔ جین کے پاس وزارت داخلہ ، بجلی ، عوامی تعمیرات، صنعت ، شہری ترقی ، سیلاب اور سینچائی کا قلمدان بھی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ چوروں اور غیر سماجی عناصر کے دل سے پولس کا خوف مٹ چکا ہے۔ چور گھنٹوں ان کا گھر کھنگالتے رہے اور ایسا کیوں نہ کریں دہلی پولس جس مرکزی حکومت کے تحت کام کرتی ہے اس کے دانشور اپنی تہذیب کے اندر چوری کی سزا کے نہیں ہونے پر فخر جو جتاتے ہیں ۔
راکیش سنہا نے آج تک چینل پر یہ الزام بھی لگایا کہ ’’ قرون وسطیٰ کے عیسائی دنیا میں لنچنگ ہوتی تھی جو آج بھی مہذب انداز میں جاری ہے ‘‘۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس کی مثالیں بھی دیتے اس لیے ۲۰۱۴؁ کے بعد سے سرزمین ہند پر جاری و ساری لنچنگ کے واقعات بے مثال ہیں ۔ راکیش سنہا سے یہ سوال بھی کیا جانا چاہیے کہ ان کے نزدیک ’’ہماری تہذیب ‘‘ سے کیا مراد ہے؟ یہ اگر سنگھ پریوار کی تہذیب ہے جس نے ابھی ۱۰۰ سال بھی پورے نہیں کیے تو ٹھیک ہے لیکن اگران کا مطلب پانچ ہزار سال پرانی ہندوستانی تہذیب و ثقافت ہے تو ان کا دعویٰ پوری طرح غلط ہے ۔ آر ایس ایس اپنے آپ کو مذہبی نہیں بلکہ ثقافتی تنظیم کہتی ہے اس لیے اس کے دانشور کا مذہب سے متعلق محدود علم قابلِ فہم ہے لیکن اگر کوئی مذاہب کی تاریخ کا طالبعلم راکیش سنہا کا بیان پڑھے گا تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجائے گا۔
پروفیسر راکیش سنہا اپنی جہالت کا اظہار کرنے سے قبل دہلی کے ہی جامعہ ہمدرد میں شعبہ علوم اسلامیہ کے صدر ڈاکٹر محمداحمد نعیمی سے مل لیتے تو اس حماقت سے بچ جاتے ۔ ڈاکٹر نعیمی نے بڑی تحقیق کے بعد زنا کی حد سے متعلق ہندو روایات اور اسلامی شریعت کا موازنہ کیا ہے اور ہندو صحیفوں کے پندرہ حوالوں کی مدد سے بحث کی ہے۔ ان کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ قدیم ہندو دھرم شاستروں نےزنا سے متعلق مذہبی و قانونی طور پر اسلامی سزائوں سے سخت سزائیں مقرر کی ہیں ۔ ہندو دھرم شاستروں کے مطابق غیر مرد کے غیرعورت کے ساتھ مباشرت کی تین بنیادوں کا ذکر ملتا یعنی طاقت سے، فریب سے اور جسمانی ہوس اور شہوانیت کی خاطر۔ ان تینوں ا قسام کے احکام جداگانہ ہیں۔
زنا بالجبر جیسے مہا پاپ کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں لیکن ان میں ذات پات کی تفریق پائی جاتی ہے ۔ جبر کا شکارعورت اگر زنا کار کی ہم ذات یا ادنی ذات سے ہو تو سزا میں کافی تخفیف رکھی گئی ہے اور اگر اعلیٰ ذات کی ہو تو انتہائی سخت سزاکا اہتمام کیا گیا ہے۔ منواسمرتی کے مطابق اگر شودر اپنے سے اعلیٰ ذات کی عورت کے ساتھ مباشرت کرے تو اس کو جان سے مار دینا چاہیے۔ منو کے مطابق یہ سزا ئے موت زندہ نذرِ آتش کرنے کی ہوسکتی ہے۔ زنا بالرضاکا ارتکاب کرنے والا ہم ذات مرد قتل کا حقدار نہیں ہوتا بلکہ اس کےلیے لڑکی کےباپ کو مال سے مطمئن کرکے شادی کرنے کا حکم ہے۔ جنس کی بنیاد پر بھی سزا میں فرق پایا جاتا ہے مثلا کاتیاین اسمرتی کے مطابق جو سزا مرد کو ملتی ہے اس کی نصف سزا عورت کو ملنی چاہیے۔
شودر کے لیے تو زنا کی سخت سزا ہے مگراعلیٰ ذات کو استثناء حاصل ہے ۔ منو مہاراج کے مطابق شودر اگر غیر شادی شدہ برہمن ، چھتری اور ویش کی عورت کے ساتھ زنا کرے تو اس کو خصی کرکے سب کچھ چھین لیا جائے اور شادی شده عورت کے ساتھ زنا کرے تو سب کچھ چھین کر سزائے موت دی جائے۔ ویش اگر شادی شدہ براہمن عورت کے ساتھ زنا کرے تو اس کا مال و متاع چھین کر ایک سال قید کی سزادی جائے اور اگر وہ چھتری ہوتو ایک ہزار پنڑ جرمانہ کرکےگدھے کے پیشاب سے اس کا سر منڈوا دیا جائے۔ اس باب میں ان کی مختلف شریعتوں کے اندراختلاف پایا جاتا ہے مگر شودر کے علاوه برہمن، چھتری اور ویش کے لیے اکثرو بیشتر صرف مالی جرمانہ ادا کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ جسمانی سزا کا کوئی قانون نہیں ہے۔ کبھی کبھارویش اور چھتری کے لیے شادی شده برہمن عورت سے زنا کر نے پر سزائے موت اور آگ میں جلانے کا حکم بھی ہے لیکن برہمن پر صرف جرمانہ ہے کوئی جسمانی سزا نہیں ہے ۔ منو اسمرتی برہمن کے بال منڈا نے کوسزائے موت کا مترادف قرار دیتی ہے یازیاده سے زیاده ملک بدرکی گنجائش نکالتی ہے ۔

اس قدیم ہندو روایت سے جہاں سنگھ پریوار چشم پوشی کرتا ہے وہیں اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد اس کو زندہ کرنے پر آمادہ ہے ۔پریشد کے صدر مہنت نریندر گری نے جنسی استحصال کے ملزم سوامی چنمیا نند کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ سوامی کو سازش کے تحت پھنسایا گیا ہے۔وزیراعظم کے ہم نام مہنت نریندر گری نےچنیما نند کی طرفداری کرتے ہوئے کہا کہ "سادھو سنتوں پر الزامات عائد کرنا ایک فیشن بن گیا ہے۔ سوامی جی کی آڑ میں سادھو سنتوں کو بدنام کرنے اور ان کی شبیہ داغدار کرنے کی سازش رچی گئی ہے۔ اس معاملے میں اکھاڑا پریشد سوامی کے ساتھ ہے۔ایک سنت کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے” ۔ یہ وہی نریندر گری ہیں جنہوں نے پہلے چنمیا نند کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ان کے ذریعہ یہ قبول کرلینا کہ ’میں شرمندہ ہوں‘ بہت بڑی بات ہے۔سادھو سنتوں کو اس طرح کا عمل نہیں کرنا چاہیے۔اکھاڑا پریشد ان کا بائیکاٹ کرتا ہے‘‘۔لیکن اب چنمیا نند کا دفاع کرتے ہوے لڑکی کو جیل میں ڈالنے کے فیصلے کی ستائش کررہے ہیں ۔ راکیش سنہا نے اسلامی اور عیسائی تہذیب کے بارے میں تو بہت کچھ کہہ دیا اب یہ بتائیں کہ اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد جو کچھ کہہ رہی ہے کیا یہی بھارتیہ سنسکرتی اور ہندو پرمپرا ہے؟

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!