Published From Aurangabad & Buldhana

دہلی میں بھیک مانگنا اب جرم نہیں، ہائی کورٹ نے ختم کیا قانون

نئی دہلی:۔ دہلی ہائی کورٹ نے آج ملک کی راجدھانی میں بھیک مانگنے کے عمل کو جرم کے ضمرے سے نکال دیا ہے۔ کورٹ نے بھیک مانگنے کو مجرمانہ فعل سے نکالتے ہوئے کہا کہ اس فعل پر جرمانہ لگانا غیر دستوری ہے اور اسے ختم کردیا جانا چاہیے۔

معاملے سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے یہ بھی کہا کہ اروند کیجریوال کی ریاستی حکومت کو اس بات کا اختیار رہے گا کہ وہ بھیک مانگنے سے متعلق جاری منظم کوشش یا ریکیٹ پر ضرو لگانے کے لئے الگ سے کوئی قانون لے کر آئے۔
ہائی کورٹ میں بھیک مانگنے کے فعل کو مجرمانہ فعل سے نکالے کے لئے دو مفاد عامہ کی درخواستیں (PILs) کی سماعت جاری تھیں۔مرکزی حکومت نے کہا کہ Bombay Prevention of Begging Act میں بھیک مانگنے کو جرم قرار دینے کے لئے وافر مواقع موجود ہیں۔ ہرش مندر اور کارنیکا ساوہنی کی جانب سے داخل کردہ PILs میں راجدھانی میں بھکاریوں کے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق بحث جاری تھی۔PILمیں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ بھیک مانگنے والوں کو انکے بنیادی حقوق مہیاء کروائے جائیں۔ساتھ ہی مناسب گھر اور طبی سہولیات مہیاء کروانے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔

واضح ہوکہ Bombay Prevention of Begging Act کو غرباء کو غیر قانونی کام کرنے سے باز رکھنے کے لئے عمل میں لایا گیا تھا، تاکہ انہیں حراست میں لیکر ، تربیت دیکر مناسب نوکری سے لگایا جاسکے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!