Published From Aurangabad & Buldhana

دہلی فساد : دہلی پولس نے 15000سے زائد صفحات پر مشتمل چارج شیٹ عدالت میں کی داخل، سی اے اے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کا نام کیا گیا شامل

نئی دہلی : دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے دہلی تشدد معاملے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ یعنی یو اے پی اے کے تحت آج کڑکڑ ڈوما عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی۔ اس معاملے میں پولیس نے صفورا زرگر اور طاہر حسین سمیت کل 15 لوگوں کو ملزم بنایا ہے۔ اس چارج شیٹ میں پولیس نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کیسے پوری دہلی کو تشدد کی آگ میں دھکیلنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ 15 ہزار سے زیادہ صفحات کی چارج شیٹ میں پولیس نے بتایا کہ سی اے اے – این آرسی کے خلاف ملک بھر میں جو احتجاج چل رہا تھا، اس احتجاج کو خونی رنگ دینے کے لئے ایک بڑی سازش تھی۔ اس سازش کا حصہ کئی بڑے لوگ بھی ہیں۔

داخل کی گئی چارج شیٹ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ
اسپیشل سیل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی جو چارج شیٹ داخل کی گئی وہ اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔ کیونکہ اتنے صفحات کی چارج شیٹ کبھی داخل نہیں ہوئی۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلی چارج شیٹ کے بعد بھی سازش سے متعلق انکشاف ہوتے رہیں گے، اس کے لئے سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل ہوگی۔ دہلی تشدد کے معاملے کی جانچ کے لئے اسپیشل سیل نے 6 مارچ کو ایف آئی آر درج کی تھی۔ اسی کے تحت یہ چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ اس معاملے کی جانچ کے سبب اسپیشل سیل 20 ملزمین کو گرفتار کرچکی ہے، جن میں شرجیل امام، دیوانگنا، صفورا زرگر، نتاشا، عشرت جہاں، شفاء الرحمن، فاطمہ، میران حیدر شامل ہیں۔

عمر خالد کا نام ابھی شامل نہیں کیا گیا
اس معاملے میں عمرخالد کی گرفتاری سب سے اہم مانی جارہی ہے، کیونکہ جے این یو کا یہ سابق طالب علم ابھی تک کی پوری سازش میں اہم کڑی بن کر ابھرنے کا الزام ہے۔ عمر خالد پر الزام ہے کہ وہ الگ الگ اسٹیج سے اشتعال انگیز تقریریں کرتے تھے۔ حالانکہ دہلی پولیس کی اس چارج شیٹ میں عمر خالد کا نام ابھی شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے لئے اس میں supplimantry چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!