Published From Aurangabad & Buldhana

دہلی فسادات میں کافی لوگوں کی جان بچانے والے ڈاکٹر انور کا نام دہلی پولس نے چارج شیٹ میں کیا شامل

لوگوں کی مدد کرنے پر جہاں ہمت افزائی ہونی چاہیے اسکے بجائے سزا دی جارہی ہے : ڈاکٹر انور

نئی دہلی : دہلی پولیس نے اس سال راجدھانی میں ہوئے تشدد کے سلسلہ میں اپنی چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔ اس چارج شیٹ میں ایک ڈاکٹر کا نام بھی ہے۔ یہ جان کر وہ چونک گئے۔ ڈاکٹر کا نام ہے ڈاکٹر انور۔ چارج شیٹ میں نام آنے پر ان کا کہنا ہے’ یہ بدبختانہ ہے۔ میں ہی کیوں؟ میں نے تو دہلی تشدد کے دوران کئی لوگوں کی جان بچائی تھی۔

ڈاکٹر انور نے بتایا’ 24 فروری کا دن تھا۔ میں دوپہر کی نیند لے رہا تھا تو میرے پاس ایمرجنسی فون کال آئی۔ میری آنکھ کھل گئی۔ میں اس دن بہار واقع اپنے گاوں سے لوٹا تھا۔ لیکن پتہ چلا کہ دہلی میں تشدد ہو گیا ہے اور اسپتال میں میری ضرورت ہے‘۔ انہوں نے کہا ’ میرے پاس کپڑے بدلنے کا بھی وقت نہیں تھا۔ میں فورا نیو مصطفی آباد واقع الہند اسپتال چلا گیا‘۔ ان کے مطابق انہوں نے فروری میں تشدد کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کی جان بچائی ہے۔

نیوز 18 سے بات چیت میں ڈاکٹر انور نے بتایا ’ میں اس وقت صرف ان لوگوں کو صحت خدمات مہیا کرا رہا تھا، جنہیں اس کی ضرورت تھی۔ میں نے مریض سے یہ تک بھی نہیں پوچھا کہ وہ ہندو ہے یا مسلم۔ میں نے انسانیت کے ناطے سب کیا‘۔

ڈاکٹر انور کے مطابق جب شمال مشرقی دہلی میں کرفیو کے سبب سڑکیں بند تھیں تب تشدد کر رہے لوگ ایمبولینس کو بھی نشانہ بنا رہے تھے۔ ڈاکٹر انور اور ان کے بھائی معراج اکرام نے اس دوران تقریبا پانچ سو مریضوں کو ایمرجنسی میڈیکل سروس مہیا کرائی تھی۔

ڈاکٹر انور، ان کے بھائی، دو نرس اور ایک دیگر معاون نے کرفیو کے دوران بھی لوگوں کو دوائیں اور ایمرجنسی سروس مہیا کرائی تھی۔ اس دوران جس مریض کو ضرورت تھی اسے انہوں نے دوسرے اسپتال میں بھی شفٹ کروایا تھا۔ فسادات میں تقریبا 51 لوگ مارے گئے تھے۔ ڈاکٹر انور کا نام دہلی پولیس نے چارج شیٹ میں دلبر نیگی کے قتل کے سلسلہ میں ڈالا ہے۔ دلبر نیگی ایک ریستوران میں کام کرتا تھا اور فسادات کے دوران ہجوم کے ذریعہ مار دیا گیا تھا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!