Published From Aurangabad & Buldhana

دو دن میں برباد ہو گئے سرمایہ کاروں کے 4 لاکھ کروڑ، روپے میں تاریخی گراوٹ درج

ملک کی معاشی حالت بدتر ہو چکی ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو دن میں شیئر ہولڈروں کو تقریباً 4 لاکھ کروڑ کا چونا لگ گیا۔

بازار میں چمک پھیکی پڑ گئی ہے اور روپیہ بدحال ہو رہا ہے اور شیئر ہولڈروں کی گاڑھی کمائی آنکھوں کے سامنے ختم ہو رہی ہے۔ یہ تصویر ہے نیو انڈیا کی جسے مرکزی حکومت حصولیابیوں والی حکومت کا دور بتا رہی ہے۔ صرف دو دن میں بمبئی اسٹاک ایکسچینج کا سنسیکس 1000 پوائنٹ نیچے پہنچ گیا۔ منگل کو سنسیکس 509.04 پوائنٹ کی گراوٹ کے ساتھ 37413.13 پر اور نفٹی 150.60 پوائنٹ کی گراوٹ کے ساتھ 11287.50 پر بند ہوا۔ بمبئی اسٹاک ایکسچینج یعنی بی ایس ای کا انڈیکس 30 شیئروں پر مبنی ہوتا ہے۔

حالانکہ منگل کی صبح یہ 95.32 پوائنٹ کی تیزی کے ساتھ کھلا تھا لیکن کاروبار ختم ہوتے ہوتے 509.04 پوائنٹ یا 1.34 فیصد گراوٹ کے ساتھ 37413.13 پر بند ہوا۔ایسا نہیں ہے کہ صرف بڑے شیئروں میں ہی گراوٹ ہوئی بلکہ چھوٹے اور درمیانے شیئروں والے بی ایس ای کے مڈکیپ اور اسمال کیپ انڈیکس میں بھی گراوٹ رہی۔ بی ایس ای کا مڈ کیپ انڈیکس 221.35 پوائنٹ کی گراوٹ کے ساتھ 16006.49 پر اور اسمال کیپ انڈیکس 1.37 پوائنٹ کی گراوٹ کے ساتھ 16488.01 پر بند ہوا۔ بی ایس ای کے سبھی 19 سیکٹروں میں گراوٹ رہی۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج یعنی این ایس ای کا 50 شیئروں پر مبنی انڈیکس نفٹی منگل کی صبح 38.75 پوائنٹ کی تیزی کے ساتھ کھلا تھا لیکن کاروبار ختم ہونے تک 151.00 پوائنٹ یا 1.30 فیصد گراوٹ کے ساتھ 11287.50 پر بند ہوا۔

اس گراوٹ کا مطلب یہ ہے کہ شیئر ہولڈروں نے منگل کو تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان اٹھایا جب کہ پیر کو بھی تقریباً 500 پوائنٹ کی گراوٹ کے سبب شیئر ہولڈروں کو تقریباً 2 لاکھ روپے کا چونا لگا تھا۔ اس طرح محض دو دن میں شیئر ہولڈروں کی آنکھوں کے سامنے 4 لاکھ کروڑ روپے برباد ہو گئے۔گراوٹ کا دور صرف شیئر بازار میں ہی نہیں تھا۔ بازار حصص میں بھی مایوس کن ماحول رہا اور روپیہ آئی سی یو میں پہنچ کر مزید بدحال ہو گیا۔

منگل کو روپیہ 72.74 روپے فی ڈالر کی نچلی سطح پر پہنچ گیا تھا۔ پیر کے روز روپیہ 72.45 روپے فی ڈالر کی ذیلی سطح پر بند ہوا تھا۔مرکزی حکومت ہر معاملے پر پریس کانفرنس کر اپوزیشن پر نشانے سادھنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتی، لیکن جب روپے کی گراوٹ، تیل کی قیمتوں اور شیئر بازار کی بات کی جائے تو اس کے پاس جواب ہوتا ہے کہ تیل کی قیمتوں پر قابو پانا ہمارے ہاتھ میں نہیں، روپے کی گراوٹ پر ہمارا کنٹرول نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے میں گراوٹ کا دور ابھی جاری رہنے کا امکان ہے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ایک سال میں روپیہ 13 فیصد سے زیادہ گرا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!