Published From Aurangabad & Buldhana

دوحہ قطر عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ 2020ممتاز فکشن نگار نورالحسنین کو دینے کا اعلان

نئی دہلی: 16مارچ ( پریس ریلیز ) ۔ اس سال چوبیسویں عالمی فروغ اردو ادب ایوارڈ ، دوحہ قطر 2020جیوری کی میٹنگ نئی دہلی میں منعقد ہوئی جس میں اردو کے ممتاز فکشن نگار نورالحسنین کو یہ ایوراڈ دینے کا اعلان کیا گیا جو ڈیڑھ لاکھ روپے نقد ، طلائی تمغہ اور سپاس نامہ پر مشتمل ہے۔ جیوری کے چئیر مین پدم بھوشن پروفیسر گوپی چند نارگ نے ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نورالحسنین کا شمار عہد حاضر کے گراں قدر افسانہ نگار ، کالم نویس میں ہوتا ہے۔ انھیں بچپن سے ہی فکشن لکھنے کا شوق تھا۔ ان کی پہلی کہانی ” انسانیت “ روزنامہ ہندوستان میں تب شائع ہوئی جب وہ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے۔
نورالحسنین نے زیادہ تر معاشرتی ، سیاسی ، سماجی افسانے لکھے ہیں۔ اب تک ان کے چار افسانوی مجموعے جن میں ” سمٹتے دائرے، مور رقص اور تماشائی، گڑھی میں اترتی شام اور فقط بیان تک شامل ہیںشائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے تاریخی ، معاشرتی ناولیں بھی لکھیں جس کی وجہ سے آج ان کا شمار ایک بہترین ناول نگار کی حیثیت سے بھی ہوتا ہے۔ ان کے ناولوں میں ” آہنکار ، ایوانوں کے خوابیدہ چراغ، چاند ہم سے باتیں کرتا ہے اور تلک ایام شامل ہیں۔ آپ کی تحریروں میں’نیا افسانہ : نئے نام ( دو جلدوں پر مشتمل ) اور اردو ناول کل اور آج کے نام سے تنقیدی مضامین پر مشتمل دو مجموعے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ’خوش بیانیاں‘ ( خاکے ) ، گڈو میاں’ چوتھا شہزادہ ( بچوں کے لیے کہانیاں) بھی منظر عام پر آچکی ہے۔
نورالحسنین کو مختلف انعاما ت و اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے جن میں مہارشٹر اردو ساہتیہ اکادمی سے ان کی کتابوں پر پانچ بار ایورڈ دیے جا چکے ہیں۔ اتر پردیش اردو اکادمی سے تین بار ایوراڈ اور چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ کی جانب سے فکشن کا ” منظر کاظمی ایوارڈ برائے 2017“ سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔ اب تک 9مختلف یونیورسٹیوں میں ان کے ناولوں اور افسانوں پر ایم ۔ فل اور پی۔ایچ۔ ڈی کا کام بھی ہو چکا ہے۔
مجلس فروغ اردو ادب ، دوحہ قطر کا یہ پر وقار ادبی ایوارڈ ہر سال ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی ادیب کو دیا جاتا ہے۔اس بار کی پینل آف ججز کا اجلاس جیوری کے چئیر مین اور اردو کے ممتاز نقاد و دانشور پروفیسر گوپی چند نارنگ کی صدارت میں منعقد ہوا ۔ اراکین جیوری میں پروفیسر شافع قدوائی ، شین کاف نظام اور حقانی القاسمی شامل تھے۔ یہ ایوارڈ بانی مجلس جناب مصیب الرحمن نے شروع کیا تھا تب سے اب تک4 2ادیبوں کو اس ایوراڈ سے نوازا جا چکاہے۔ یہ ایوارڈ ماہ اکتوبر 2020کو دوحہ قطر میں منعقدہ تقریب میں سفراءکرام ، عمائدین شہر ، شعراءو ادبا اور سینکڑوں عاشقان اردو کی موجودگی میں پیش کیا جائے گا۔واضح رہے کہ یہ پہلا ایوارڈ ہے جو علاقہ دکن بالخصوص اورنگ آباد کے حصے میں آیا ہے۔
اس موقع پر ایشیاءایکسپریس کے مدیر اعلی شارق نقشبندی نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نورالحسنین کو مبارکباد کا نذارنہ پیش کیا ، حلقہ عالمگیر ادب کی جانب سے شاہ حسین نہری، اسلم مرزا، احمد اقبال ،ڈاکٹر عظیم راہی ، ڈاکٹر شکیل احمد ، ڈاکٹر صدیقی صائم الدین ، قاضی جاویدصدیقی فنا، عاصم رضی ، احمد اورنگ آبادی اور دیگر نے مبارکبا د پیش کی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!