Published From Aurangabad & Buldhana

دابھولکر قتل معاملہ: قاتلوں کا سناتن سنستھا کے علاوہ دیگر بھگوا تنظیموں سے بھی تعلق

حالیہ گرفتاری کے بعد سناتن پر پابندی کے لئےATS پھر سے رپورٹ تیار کرنے مشغول ویبھو راؤت گوونش رکشا سمیتی کا بھی رکن تھا

فرق۔۔۔۔ابن فرقان

ممبئی:۔ مہاراشٹر ATSکی جانب سے بھگوا دہشت گردی کی ایک بڑی سازش کا پردہ فاش کرنے اور اس معاملے میں ہتھیاروں کے ذخیرے کے ساتھ 5لوگوں کی گرفتاری کے بعد مزید جانچ جاری ہے ۔اس معاملے میں جمعہ ہی کو ممبئی سے اویناش پوار نامی ایک اور بھگوا دہشت گرد کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جسے عدالت نے 31؍اگست تک پولس تحویل میں دے دیا ہے۔اس ساری کاروائی کی شروعات ATSکی وکھرولی یونٹ کی ایک جانچ سے ہوا تھا۔
ATSوکھرولی یونٹ کے پولس افسر وشواس راؤ ممکنہدہشت گردانہ کاروائی کی جانچ کررہے ہیں۔جانچ کی شروعات صرف ایک موبائیل نمبر سے ہوئی تھی جس کے بعد ATSکو تین ملزمین تک اور آخر کار ویبھو راؤت تک پہنچایا تھا۔
راوت گو ونش رکشا سمیتی کا فعال کارکن ہے ساتھ ہی وہ سناتن سنستھا کے لئے بھی کام کرتا تھا۔ راؤت نے سناتن سنستھا پر پابندی کی کاروائی کی مخالفت کرتے ہوئے بہت سارے سیاسی لیڈران کو میمورینڈم پیش کیے تھے۔اس کی تصاویر کا آج بھی سناتن سنستھا کی ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن وہیں سناتن کے ذمہ داران اسکے تنظیم سے تعلق سے انکار کررہے ہیں۔ راؤت کے گھر سے پولس کو بڑی مقدار میں بم اور دیگر ہتھیار برآمد ہوئے تھے۔
کالسکر جس کا ویسے تو تعلق اورنگ آباد سے تھا اسے بھی نالاسوپارہ سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ گوندھلیکر کو پونہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ATSکو گوندھلیکر کے گھر سے بھی ہتھیار اور بم بنانے کا سامان ملا تھا۔اس ساری کاروائی میں کالسکر ATSکی سب سے بڑی کامیابی تھی جس میں پوچھ تاچھ کے دوران کالسکر نے 2013کے نریندر دابھولکر کے قتل سے متعلق انکشافات کیے تھے۔کالسکر جسکا 9سالوں سے ہندو جن جاگرتی سمیتی سے قریبی تعلق تھادابھولکر قتل میں سیدھے شامل تھا۔ کالسکر نے ہی دابھولکر قتل میں شامل اورنگ آباد کے سچن آندورے کا نام پولس کو بتایا تھا۔کالسکر اور آندورے دونوں گوند پنسارے اور دابھولکر کے قتل کا ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر وریندرسنہا تاوڑے کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔
آندورے کو CBIنے 18؍ اگست کو اورنگ آباد کے نرالہ بازار سے گرفتار کیا تھا۔ آندورے نے ہی بعد میں دابھولکر کے قتل میں استعمال ہوئے ہتھیار کی معلومات دی تھی ،جسے اورنگ آباد میں ہی واقع اسکے بہنوئی کے گھر سے اسی ہفتے برآمد کیا گیا۔بندوق کے ساتھ پولس کو ایک تلوار اور خالی کارٹریج بھی ملی تھی۔
اس سارے معاملے میں گوندھلیکر کو انکا گروپ لیڈر بتایا جارہا ہے جو راؤت، کالسکر اور آندورے کو ہدایات دیتا تھا۔حکم ملنے کے بعد کالسکر اور آندورے حملہ کی کاروائی انجام دیتے تھے۔اب تک کی جانچ بتاتی ہے کہ تمام ہی ممبران ایک ہی تنظیم ہندو جن جاگرتی سمیتی کے تحت کام کرتے تھے جو کہ سناتن سنستھا ہی کی ایک ساتھی تنظیم ہے۔اس گروپ نے ریاست کے مختلف علاقوں میں حملوں کا منصوبہ بنایا تھا اور جس کے لئے ان لوگوں نے مہاراشٹر ،گوا اور کرناٹک سے ٹریننگ حاصل کی تھی۔
2015میں ہوئے ایم۔ ایم۔ کالبرگی اور سابقہ سال گوری لنکیش کے قتل سے بھی ان لوگوں کا تعلق بتایا جارہا ہے۔ان کے علاوہ جالنہ سے شیو سینا سابق کارپوریٹر شریکانت پانگرکر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔پانگرکر ان کاموں کے لئے پیسہ مہیاء کرانے کا کام کرتا تھا ساتھ ہی وہ دابھولکر قتل کے موقع موجود تھا۔اب حال ہی میں ممبئی سے گرفتار اویناش پوار کا تعلق شیو پرتشٹھان سے ہے جو کہ سانگلی کے سمبھاجی بھڑے کی تنظیم ہے۔ شیو پرتشٹھان پہلے ہی سے انتہاء پسند کاروائیوں میں شامل ہونے کی خبروں میں رہی ہیں۔ساتھ ہی چند ماہ قبل ہوئے بھیما کورے گاؤں تشدد میں بھیڑے کا نام آیا تھا۔
ان سب تفصیلات کے درمیان ATSنے سناتن سنستھا سے متعلق نئے سرے سے رپورٹ تیار کرنا شروع کردی ہے۔اس رپورٹ کا بنیادی مقصد گرفتار کیے گئے دہشت گرد اور سنستھا کے درمیان تعلق کو واضح کرنا ہوگا۔اس رپورٹ کے ذریعہ سناتن پر رکی ہوئی پابندی کی کاروائی کو تیز کیا جائیگا۔ATSکے مطابق سناتن دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہے اور اس پر پابندی لگا دینی چاہیے۔
واضح ہوکہ ریاستی حکومت نے 2011اور 2015میں سناتن پر پابندی کی درخواستیں مرکز کو بھیجی تھیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!