Published From Aurangabad & Buldhana

خواتین کے لیے ہندوستان دنیا کا سب سے خطرناک ملک، امریکہ و شام تیسرے نمبر پر: سروے

عالمی ماہرین کے ذریعہ کیے گئے ایک سروے میں آئے نتائج کے مطابق خواتین کے لئے جنسی استحصال اور جبراً مزدوری کو لیکر ہندوستان دنیا کا سب سے خطرناک ملک پایا گیا ہے۔
جنگ سے جوجھ رہے افغانستان اور شام اس فہرست میں بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔ 550 خواتین کے مسائل کے ماہرین کے ذریعہ تھامسن ریوٹرس فاؤنڈیشن کے تحت کیے گئے سروے مین اس کے بعد سومالیہ اور پھر سعودی عرب کا نمبر آیا ہے۔
مغربی دنیا سے اس فہرست میں صرف امریکہ کا نام ہے جسکا جنسی استحصال میں تیسرا نمبر ہے اور مکمل سروے میں دسویں نمبر پر۔
یہ سروے 2011 میں کیے سروے کا اعادہ ہے جس میں ماہرین کے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان، کانگو، پاکستان، ہندوستان اور سومالیہ وہ ممالک تھے جہاں خواتین سب سے زیادہ غیر محفوظ تھیں۔


ماہرین کے مطابق خواتین کی حفاظت کو لیکر مناسب اقدامات نہیں لیے گئے جس کی وجہ سے خواتین کی حفاظت کی سطح گری ہے اور ہندوستان خواتین کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک بن گیا ہے۔ پانچ سال قبل دہلی میں ہوئی طالبہ کی عصمت دری کے بعد خواتین کی حفاظت ملک کی ترجیحات میں سے ایک بن گئی تھی۔ لیکن ہندوستان میں خواتین سے متعلق لاپرواہی اور بے عزتی دیکھی گئی ہے جس میں عصمت دری، جنسی استحصال، جنسی تکالیف اور مادر رحم لڑکی کا قتل جیسے مظالم کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا ہے۔دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی معیشت خواتین پر ہونے والے مظالم کو لیکر شرمندہ ہورہی ہے۔
کرناٹک ریاستی حکومت کے افسر منجوناتھ گنگادھرا کے دیے گئے اعدادوشمار کے مطابق درج کیے جانے والے معاملات میں 2007 سے 2016 کے درمیان خواتین کے خلاف مظالم کا تناسب 83 فیصد بڑھا ہے۔ وہاں ہر ایک گھنٹے میں چار عصمت دری کے واقعات درج ہوتے ہیں۔
سروے میں پوچھا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کے 193 ممالک میں سے ایسے کون سے 5 ممالک ہیں جو خواتین کے لیے بہت زیادہ خطرناک ہیں اور کس ملک کا حال صحت، معاشی وسائل، کلچر و تمدن کی روایات، جنسی استحصال و زبردستی، غیر جنسی تشدد اور انسانوں کی خرید و فروخت میں سب سے برا حال ہے۔ جواب دینے والوں نے ہندوستان کو خواتین کے معاملے میں انسانی خریدو فروخت، جنسی غلامی اور گھریلو تشدد کے معاملے میں بھی سب سے برا ملک قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی جبراً شادی اور مادر رحم میں لڑکی کا قتل جیسے مظالم بھی شامل ہیں۔
ہندوستان کی وزارت برائے بہبود خواتین و اطفال نے اس سروے پر کچھ کہنے سے منع کیا ہے۔
افغانستان:
افغانستان بھی سروے میں پوچھے گئے سات سوالوں میں چار میں انتہائی برا پایا گیا ہے۔ اور ملک میں فلحال جاری جنگ کی وجہ سے افغانستان کے حالات اور خراب ہوتے جارہے ہیں۔
افغانستان کے عوامی صحت کے وزیر فیروزالدین فیروز کے مطابق ملک میں 17 سال سے جاری جنگ کی وجہ سے خواتین کے لیے زندگی اور بھی زیادہ مشکل ہوتی جارہی ہے۔
سروے کے مطابق شام میں پچھلے 7 سال سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے خراب صحت عامہ اور جنسی و غیر جنسی تشدد نے ملک کو تیسرے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ لڑکیوں اور عورتوں کی زندگی بہت زیادہ خطروں کا شکار ہوگئی ہے۔
سومالیہ جہاں دو دہائیوں سے زیادہ وقت سے جنگ اور تشدد جاری ہے جس کی وجہ اے قانون کا راج کم سے کم ہوتا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے خواتین کے لئے سب سے خطرناک ممالک میں اس کا نمبر چوتھا آیا ہے۔
سعودی عرب کا نمبر اس فہرست میں پانچواں ہے۔ جس میں خواتین کے حقوق کو لیکر حال کے دنوں میں بہتری آئی ہے۔
ماہرین کے نزدیک اس فہرست پہلے دس ممالک میں امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کا نام بھی آیا ہے۔
خواتین کے معاملہ میں بد تر ہونے میں دس سب سے اوپر ممالک کی فہرست میں چھٹے نمبر پر پاکستان پھر کانگو، یمن اور پھر نائجیریا کا نام آتا ہے۔
خواتین کی خریدو فروخت کو لیکر اب سے برا حال میں ہندوستان، لیبیاء اور میانمار کا نام آیا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!