Published From Aurangabad & Buldhana

حیدرآباد کے بڑے حصے میں سیلاب کی صورت حال، بارش کا سلسلہ جاری

حیدرآباد: حیدرآباد کے متعدد علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ لگاتار جاری ہے جس کی وجہ سے سیلاب کی سی صورت حال ہے۔ اس دوران کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے اور کروڑوں کی املاک تباہ ہو چکی ہے۔ ہفتہ کی شام شہر کے متعدد علاقوں میں موسلادھار بارش کے سبب لوگوں کو ٹریفک جام اور پانی کے بھراؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر میں 150 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ منگل کے روز 190 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں سڑکوں پر 2 فٹ سے زیادہ پانی نظر آ رہا ہے۔

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے وجیلنس اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے ڈائریکٹر وشوجیت کمپاٹی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ڈیزاسٹر رسپانس فورس واٹر لاگنگ (پانی کے بھراؤ) کو صاف کرنے کے لئے مستقل طور پر کام کر رہی ہے۔ حیدرآباد کے محکمہ موسمیات کے دفتر نے بتایا کہ اتوار کے روز شہر کے کچھ حصوں میں ہلکی سے درمیانی درجہ کی بارش یا گرج چمک کے ساتھ بونداباندی ہونے کا امکان ہے جبکہ ایک یا دو مقامات پر تیز بارش بھی ہو سکتی ہے۔

قبل ازیں، ریاستی حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا، تیز بارش کی وجہ سے 50 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ابتدائی تخمینے میں تقریبا 9000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کئی علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور بارش سے متاثرہ علاقوں میں حکام امدادی کاروائیاں کر رہے ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے رہائشیوں کو نکالنے کے لئے فوج اور نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کے جوان تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے عہدیداران نے بتایا کہ یہ صورتحال خلیج بنگال میں ڈیپریشن کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ ریاست تلنگانہ کے علاوہ آندھرا پردیش اور کرناٹک کی ہمسایہ ریاستوں کو بھی سیلاب نے متاثر کیا ہے۔ تلنگانہ کے وزیر کے ٹی راما راؤ نے ہفتے کے روز کہا کہ سیلاب زدگان کے اہل خانہ کی شناخت کی جائے گی اور ان کے گھروں پر راشن کٹس دی جائیں گی۔ ہر کٹ کی قیمت 2800 ہے اور اس میں ایک ماہ کا راشن اور تین کمبل شامل ہوں گے۔

قومی آوازبیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!