Published From Aurangabad & Buldhana

حیدرآباد میں منعقدہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سہ روزہ اجلاس طئے پائے یہ فیصلے

حیدرآباد ۱۱فروری :۹تا ۱۱فروری۲۰۱۸ء آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ۲۶واں سہ روزہ اجلاس ملک کے تاریخی شہر حیدرآباد کے آڈیٹوریم سالار ملت کنچن باغ میں صدر بورڈ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے ۴سو سے زائد ارباب فکر و نظر، علماء، ماہرین قانون اور سیاسی و سماجی اہم شخصیتوں نے شرکت کی اور قانون شریعت کے تحفظ و بقا کے مختلف گوشوں پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد طے کیا کہ:
(۱)بابری مسجد شعائر دین میں سے ہے اور مسلمان اس سے کسی طرح بھی دستبردار نہیں ہوسکتا، ماضی میں بورڈ نے بابری مسجد کے متعلق جو قراردادیں منظور کی ہیں بورڈ دوبارہ ان کا اعادہ کرتا ہے کہ بابری مسجد، مسجد تھی، مسجد ہے اور قیامت تک مسجد رہے گی، مسجد کو شہید کردینے سے مسجد کی حیثیت ختم نہیں ہوتی، شرعی طور پر مسجد کی اراضی کو نہ فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی فرد و جماعت کو تحفہ میں دیا جاسکتا ہے۔ اسلئے کسی شک اور تذبذب کے بغیر مسجد کی حقیت کے لئے جدوجہد جاری رہے گی اور سپریم کورٹ میں جو مقدمہ چل رہا ہے بورڈ پوری طاقت و توانائی اور تیاری کے ساتھ ماہر وکلاء کے ذریعہ پیروی کررہا ہے اور کرتا رہے گا ہمیں اللہ کی ذات سے امید رکھنی چاہئے کہ سپریم کورٹ حقیقت حال کو سمجھے گی اور اس مقدمے میں بورڈ اور مسلمانوں کو کامیابی ملے گی۔ ان شاء اللہ
(۲) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پورے ملک میں جاری اصلاح معاشرہ کی تحریک کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کی تحسین کرتا ہے۔ اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ ملک کے مختلف صوبوں میں ریاستی سطح کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور مقامی ضلعی کنوینرس بھی بنائے جائیں اور ان کو مرکزی اصلاح معاشرہ کمیٹی سے جوڑدیا جائے۔
(۳) طلاق ثلاثہ سے متعلق مرکزی حکومت کے مجوزہ بل پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا اور اجلاس کا یہ احساس رہا ہے کہ یہ مسلم خواتین کے لئے دشواریاں پیدا کرنے والا ہے، شریعت اور آئین ہند سے ٹکرانے والا ہے، اس بل کو راجیہ سبھا میں روکنے کی جو تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں ان کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ اجلاس کا یہ بھی احساس رہا کہ اس سلسلہ میں وسیع پیمانے پر بیداری مہم چلائی جائے اور ساتھ ہی اپوزیشن پارٹیوں سے رابطہ مضبوط کیا جائے کہ وہ راجیہ سبھا میں اس بل کو روکنے کی کوشش کریں۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خواتین میں دینی شعور بیدارکرنے کے لئے خواتین کے اجتماعات تسلسل کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں کئے جائیں۔
اس اجلاس میں بورڈ کی تمام کمیٹیوں کی کارکردگی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور آئندہ کے لئے لائحہ عمل بھی بنایا گیا۔ گذشتہ اجلاس کلکتہ کے بعد جن ارباب فکر و نظر اور دانشوران قوم و ملت کی رحلت ہوئی ہے ان کے سانحہ ارتحال پر اظہار تعزیت کیا گیا اور ان کی بلندی درجات کی دعا کی گئی اور پسماندگان سے اظہار تعزیت کیا گیا۔
اس موقع پر صدر بورڈ نے اپنے خصوصی خطاب میں فرمایا کہ اسلام کے مذہبی قوانین اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن اور اس کے رسولﷺ کی سنت میں سے ماخوذ ہیں۔ اس طرح وہ آسمانی ہدایات ہیں اور اس کی بنا پر ناقابل تغیراور ناقابل تنسیخ ہیں، اس کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے اس میں کسی طرح کی ترمیم کرنا یا ترمیم کا مشورہ دینا قابل قبول نہیں ہے اور ہندوستان کے دستور کے سیکولر ہونے کی بنا پر ان کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں اور اس میں کسی کی مداخلت کو قبول نہ کیا جائے۔ موجودہ حالات میں بورڈاپنی توجہ امور ذیل پر مرکوز کرتا رہے گا۔ اصلاح معاشرہ میں خواتین کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک، طلاق سے حتی الوسع بچنے اور مطلقہ عورتوں کے بارے میں ان کے خاندان کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے پر خصوصی طورپر توجہ دلائی جائے۔
۱۔ ایک تو طلاق کے مسئلہ میں جس پر حکومت مسلمانوں پر پابندی عائد کررہی ہے۔
۲۔ دوسرا مسئلہ بابری مسجد کا مقدمہ جس میں بورڈ اس کی بحالی کے معاملہ میں اپنی کوششیں صرف کررہا ہے۔
۳۔ تیسرا مسئلہ مسلمانوں کو شریعت کے احکام سمجھانے کا ہے، مسلمانوں کا پرسنل لا چونکہ مذہبی حیثیت رکھتا ہے اس طرح جب عبادات کی ادائیگی کے لئے اس کے طریقہ اور احکام معلوم کرناہوتا ہے اسی لحاظ سے ہم کونکاح و طلاق اور میراث و دیگر احکام کو جاننے اور اسکے مطابق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا بورڈ شریعت کے مسائل و احکامات سے لوگوں کو روشناس کرانے کی مہم بھی چلائے گا۔ جنرل سکریٹری بورڈ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے جنرل سکریٹری رپورٹ میں تفصیل سے گذشتہ اجلاس سے اب تک کی کارکردگی اور پیش رفت بیان فرمائی اور یہ پیغام دیا کہ ہماری اصل طاقت ملت کا اتحاد ہے اگر ہم نے اپنے آپ کو انتشار سے محفوظ نہیں رکھا اور مشترک مقاصد کیلئے مل جل کر کام کرنے کی کوشش نہیں کی تو ہمارے لئے اس ملک میں ایک باعزت قوم کی حیثیت سے باقی رہنا مشکل ہوجائے گا۔
اس لئے موجودہ عالمی اور خاص کر ملکی حالات کے پس منظر میں اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ہر قیمت پر ملت کے اتحاد کو باقی رکھیں، اختلافی مسائل میں اعتدال کا راستہ اختیار کریں اور اپنی زبان و قلم کو امت کے درمیان افتراق و انتشار کا ذریعہ نہ بنائیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا یہ چھبیسواں اجلاس عام حضرت صدر محترم کی دعا پر بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!