Published From Aurangabad & Buldhana

حراست میں لیے جانے کے بعد چندرشیکھر نے فڑنویس حکومت کے خلاف کیا اعلان جنگ

مہاراشٹر کے بھیما-کوریگاؤں میں برپا نسلی تشدد کی برسی سے ٹھیک پہلے ممبئی پہنچے بھیم آرمی کے سربراہ چندرشیکھر آزاد کو پولس نے حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انھیں پولس نے پہلے نظر بند کیا تھا اور بعد میں حراست میں لیا۔ اس سلسلے میں خود چندرشیکھر آزاد نے ایک ٹوئٹ کیا ہے اور انھوں نے اپنی گرفتاری کی بات کہی ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’پولس نے مجھے چیتیہ بھومی سے گرفتار کر لیا ہے۔‘‘

پولس نے چندر شیکھر آزاد عرف راون کو جمعہ کے روز حراست میں لیا اور بھیم آرمی سربراہ نے فون آن کرنے کی اجازت ملنے پر ٹوئٹ کے ذریعہ اپنی بات لوگوں تک پہنچائی۔ اس درمیان معروف سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ اور سی پی آئی ایم لیڈر سیتارام یچوری سمیت کئی معروف شخصیتوں اور میڈیا سے جڑے لوگوں نے مہاراشٹر کی بی جے پی حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ ہفتہ کے روز صبح ایک ٹوئٹ کر کے چندر شیکھر راون نے بھی فڑنویس حکومت کے خلاف محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے تازہ ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’اگر مہاراشٹر کی فڑنویس حکومت یہ سوچتی ہے کہ پولس کو دیکھ کر میں خوفزدہ ہو جاؤں گا تو ایک بار میری تاریخ پڑھ لیجیے۔ 16 مہینے جیل میں لگا کر آیا ہوں، تب نہیں ڈرا تو اب کیا خاک ڈروں گا۔ کان کھول کر سن لو، نہ ڈروں گا، نہ بِکوں گا، نہ رُکوں گا۔ جے بھیم جے آرمی۔‘‘

اس سے قبل پولس نے چندر شیکھر آزاد کو ممبئی کے ایک ہوٹل میں کافی دیر تک نظربند کر دیا تھا۔ ویڈیو اَپ لوڈ کر نظربندی کی جانکاری دیتے ہوئے چندر شیکھر آزاد نے کہا کہ ’’ابھی مودی کی پولس نے جو مجھے ہوٹل میں قید کیا ہوا تھا بہوجن سماج کے دباؤ کی وجہ سے پولس مجھے قید کر کے چیتیہ بھومی لے کر جا رہی ہے۔ کیا ملک میں جمہوریت بچا ہے؟ لگتا ہے مہاراشٹر میں آئین کو ختم کر کے بی جے پی نے ’منوسمرتی‘ نافذ کر دی ہے۔ لیکن میں قربانی کے لیے تیار ہوں۔ جے بھیم۔‘‘

ممبئی پہنچے چندرشیکھر آزاد کو وہاں ایک پریس کانفرنس کرنا تھا لیکن ہوٹل سے نہیں نکل پانے کے سبب وہ نہیں ہو سکا۔ ان کو نظربند اور بعد میں گرفتار کیے جانے کی خبر سن کر ان کے حامی بڑی تعداد میں ہوٹل کے باہر جمع ہو گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!