Published From Aurangabad & Buldhana

جے این یو میں پھر لہرایا سرخ پرچم، لیفٹ اتحاد کا چاروں سیٹوں پر قبضہ، اے بی وی پی کو ذلت آمیز شکست

لیفٹ اتحاد نے سینٹرل پینل کی چاروں سیٹوں پر جیت حاصل کرتے ہوئے جے این یو سے اے بی وی پی کو دور رکھا۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طلبہ یونین الیکشن میں ایک بار پھرسرخ پرچم لہرایا ہے۔ لیفٹ اتحاد نے سینٹرل پینل کی چاروں سیٹوں پرجیت حاصل کرتے ہوئے جے این یو کے طلبا وطالات نے ایک بار پھربی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کو دوررکھا ہے جبکہ اس بار اسے جے این یو سے بہت زیادہ امیدیں تھیں۔

لیفٹ اتحاد نے کلین سوئپ کرتے ہوئے اے بی وی پی کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ صدرعہدے کے لئے این سائی بالا جی، نائب صدرعہدے کے لئے ساریکا چودھری، جنرل سکریٹری عہدہ کے لئے لیفٹ اتحاد کے اعجازاحمد اور جوائنٹ سکریٹری کے لئے اموتھا کومنتخب کیا گیا ہے۔ حالانکہ سینٹرل پینل کی تمام سیٹوں پر اے بی وی پی دوسرے نمبرپررہی۔

تفصیلات کے مطابق 5185 ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد این سائی بالا جی کو 2151 ووٹ ملے جبکہ دوسرے نمبر پر رہے اے بی وی پی کے امیدوار للت پانڈے کو 972 ووٹ ملے۔ اس طرح سے این سائی بالا جی نے 1179 ووٹوں سے شکست دی۔ نائب صدر کے لئے لیفٹ اتحاد کی ساریکا چودھری 2592 ووٹ ملے جبکہ اے بی وی پی امیدوارگیتاسری کو 1013 ووٹ ملے۔ ساریکا چودھری نے 1579 ووٹوں سے جیت حاصل کی۔

جنرل سکریٹری کے لئے لیفٹ اتحاد کے اعجاز احمد کو 2626 ووٹ ملے جبکہ اے بی وی پی کے گنیش کو 1235 ووٹ ملے۔ اعجازاحمد اپنے حریف امیدوار کو 1193 ووٹوں سے شکست دے کر جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ جبکہ جوائنٹ سکریٹری کے لئے لیفٹ اتحاد کے اموتھا کو 2047 ووٹ ملے اور اے بی وی پی امیدوار وینکت چوبے کو 1290 ملے۔ اس طرح سے اموتھا نے757 ووٹوں سے جیت حاصل کی۔

لیفٹ اتحاد کے چاروں امیدواروں نے بڑے فرق سے جیت حاصل کی ہے۔ سینٹرل پینل کے چاروں عہدوں کے لئے دوسرے نمبرپراے بی وی پی رہی ہے۔ جبکہ آرجے ڈی کے جینت نے اپنی بہترین موجودگی درج کراتے ہوئے صدر عہدے کے امیدوار جینت کو 540 ووٹ ملے ہیں۔ جبکہ برسا امبیڈکر پھولے اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن ( باپسا) کی پوزیشن بھی اس بار زیادہ اچھی نہیں رہی ہے۔ اس کے ووٹ فیصد میں کمی آئی ہے۔

تقریباً 14 گھنٹے تک رکی رہی ووٹنگ

اس سے قبل جمعہ کو جے این یو میں طلبہ یونین کے چاروں سینٹرل پینل اور کونسلروں کی تمام سیٹوں کے لئے ووٹنگ ہوئی تھی۔ صدر، نائب صدر، جنرل سکریٹری اور جوائنٹ سکریٹری عہدوں کے لئے ہورہے الیکشن میں اپنے حق کا استعمال کرنے کے لئے طلبا نے جمعہ کو ووٹنگ کی۔ جمعہ کو ووٹنگ کے بعد وہاں ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی۔ حالانکہ کچھ وجوہات سے ووٹوں کی گنتی 14 گھنٹے سے زیادہ رکی ہوئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اے بی وی پی کے طلبہ کارکنان نے جم کرہنگامہ آرائی کی، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے سخت فیصلہ لیتے ہوئے ووٹنگ روک دی تھی، بہرحال اب فائنل نتائج کا اعلان کیا جاچکا ہے۔

حالات کشیدہ حالات کے درمیان پرامن گنتی

اس سے قبل ہفتہ کی صبح تقریباً 4 بجے حالات اس وقت خراب ہوگئے جب اے بی وی پی کے طلبہ کارکنا ن کے ذریعہ ہنگامہ آرائی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ اے بی وی پی کے کارکنان نے توڑ پھوڑ کی اور سیکورٹی گارڈ سے ہاتھا پائی بھی کی، جس کے بعد اسے چوٹ بھی آئی ہے۔ جے این یو کے طلبہ کا الزام ہے کہ اے بی وی پی کو اپنی شکست یقینی نظرآنے لگی ہے، جس کی وجہ سے وہ ہنگامہ آرائی کے ذریعہ کیمپس کا ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں۔ طلبہ کے ذریعہ سوشل میڈیا پر یہ بھی الزام لگایا جارہا ہے کہ باہری لوگ کیمپس میں آگئے ہیں، جنہوں نے ماحول کو کشیدہ بنا دیا ہے۔ حالانکہ ووٹوں کی گنتی پرامن طریقے سے مکمل ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ 2018 کے طلبہ یونین الیکشن میں لیفٹ اتحاد کا بہترین مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس بار آئیسا، ایس ایف آئی، ڈی ایس ایف اور اے آئی ایس ایف کی جماعتوں نے اتحاد کیا تھا۔ جبکہ بی جے پی کی طلبہ ونگ اے بی وی پی، کانگریس کی طلبہ ونگ این ایس یوآئی، باپسا کے امیدواروں نے قسمت آزمائی کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کے بینرتلے جینت نے صدر عہدے کے لئے قسمت آزمائی کی ہے۔ جینت نے صدارتی ڈبیٹ میں اپنی تقریر کے ذریعہ لوگوں کا دل جیت لیا تھا۔ خاص بات یہ ہے کہ جینت این ایس یوآئی امیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!