Published From Aurangabad & Buldhana

جی ایس ٹی کا اثر سڈکو کے کاموں پر ۱۸ فیصد ٹیکس

اورنگ آباد (اے۔ای)حکومت کی جانب سے کمپنیوں اور بیوپاریوں پر جی ایس ٹی کے نام پر بھرپور ٹیکس عائد کیا گیا ہے ،لیکن اب حکومت کے جی ایس ٹی کا دخل سرکاری دفاتر میں بھی ہونے لگا ہے ۔جس میں سڈکو انتظامیہ کو بھی شامل کیا گیا ہے جہاں پر کئے جانے والے مختلف کاموں کیلئے عوام کو ۱۸ فیصد جی ایس ٹی ادا کرنا پڑرہا ہے۔واضح ہوکہ ایک ملک اور ایک ٹیکس کے نام پر مرکزی حکومت کی جانب سے امسال یکم جولائی سے جی ایس ٹی یعنی گُڈس اینڈ سروسیس ٹیکس کو ملک بھر میں نافذ کیا گیا جس کے نتیجہ میں چند چیزوں پر عائد ٹیکس کی شرح میں کمی کے علاوہ اکثر اشیاء پر عائد سابقہ ٹیکس کی شرح کے مقابلے میں جی ایس ٹی کے ذریعے اضافہ کیا گیا ہے ۔
جس کی بناء پر بیوپاریوں اور عوام میں حکومت کے تئیں ناراضگی پائی جارہی ہے ،لیکن یہ معاملہ پرائیوٹ اداروں اور کاروبار کی حدتک نہ محدود ہوتے ہوئے اب سرکاری اداروں میں بھی جی ایس ٹی کا عمل دخل شروع ہوگیا ہے ۔اسی مداخلت کے سبب سڈکو انتظامیہ کی جانب سے ہاؤزنگ ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت فرسٹ فلو ر کے تعمیر کام کے لئے این او سی فیس ۱۰ ہزار سے بڑھ کر ۳۸ ہزار ۲۰۰ روپئے کی گئی ہے جس پر ۱۸ فیصد جی ایس ٹی لگایا ہے ۔اسی طرح زمین مالک کو زائد ایف ایس آئی دینے کے لئے ۳ ہزار روپئے اسکوار فٹ کے حساب سے وصول کئے جارہے ہیں ،جبکہ سڈکو کی جانب سے اس فیس پر ہی جی ایس ٹی کو نافذ نہیں کیا بلکہ ہر کام کے لئے ادا کی جانے والی فیس پر جی ایس ٹی لگایا گیا ہے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!