Published From Aurangabad & Buldhana

جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کے برے اثرات سے منھ پھیرنا نقصان دہ ہوگا

اتراکھنڈ حکومت کے وزیر زراعت سبودھ انیال کے ‘ جنتا دربار ‘ میں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے قہر سے متاثر ایک ٹرانسپورٹ کاروباری نے زہر کھاکر خودکشی کر لی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت والے اتراکھنڈ میں گزشتہ اتوار کو ایک ایسی واردات ہوئی جو اس سے پہلے اور اس شکل میں ملک میں کہیں دیکھنے میں نہیں آئی۔ریاست کے وزیر زراعت سبودھ انیال دہرادون واقع بی جے پی کے ریاستی صدر دفتر میں لگے ‘ جنتا دربار ‘ میں لوگوں کے مسائل سن رہے تھے تو ایک ادھیڑ ٹرانسپورٹ کاروباری روتےبلکھتے پہنچا اور نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے قہر کی آپ بیتی سنانے لگا۔

گزشتہ دنوں اس نے تین ٹرک فائننس کروائے اور ان کو کھدائی اور دیگر کاموں میں لگایا تھا۔ پہلے تو سرکاری دفتروں سے اس کو ان کاموں کی ادائیگی نہیں ملی، پھر بارش، کھدائی پر روک اور نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے اس کے دھندے کی کمر توڑ ڈالی۔وہ ٹھپ ہو گیا تو اس نے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو خط بھیجے، لیکن کسی نے بھی اس کی نہیں سنی۔ اب حالت یہ ہے کہ وہ نہ ٹرکوں کی قسط جمع کر پا رہا ہے، نہ ہی بچوں کی فیس۔

پھر اس نے بتایا کہ نہ اس سے اپنی اقتصادی تنگی برداشت ہو رہی ہے اور نہ اس سے نجات کا کوئی راستہ دکھائی دے رہا ہے، اس لئے اس نے زہر کھا لیا ہے۔فطری طورپر اس سے نہ صرف جنتا دربار بلکہ ریاستی حکومت کے دربار میں بھی ہڑکمپ مچا اور ایسا مچا کہ حکومت یہ بھی نہیں کہہ پائی کہ اس حادثے کے پیچھے اپوزیشن کی کوئیسازش ہے۔

چنانچہکاروباری کو نازک حالت میں ‘ سب سے اچھے علاج کے لئے ‘ میکس ہسپتال بھیج دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی انتھک کوششوں کے باوجود اس کو بچایا نہیں جا سکا تو اپیلیں کی جانے لگیں کہ اس معاملے کو لےکر سیاست نہیں کی جانی چاہئے، کیونکہ زہر کھانا کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔جہاں تک زہر کھانے سے کسی مسئلہ کا حل نہ ہونے کی دلیل ہے، اس سے عدم اتفاق نہیں کیاجا سکتا لیکن اس بات کا کیا کیا جائے کہ اب حاکموں کے ذریعے ہر سنگین مسئلے کو لےکر سیاست نہ کئے جانے کی اپیلیں فیشن سی ہو گئی ہیں۔

جب بھی کوئی ‘ سنگین پریشانی ‘ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے، وہ ایسی اپیلیں کرنے لگتے ہیں۔ ان سے پوچھا جانا چاہئے کہ سیاست ایسے سنگین معاملوں میں نہیں تو اور کیسے معاملوں میں کی جانی چاہئے؟کیا اس کو رہنماؤں کے ہنسی مذاق بھر کے لئے ریزرو کر دیا جانا چاہئے؟ اگر ہاں، تو وہ ہم وطنوں کے کس کام کی؟

اور نہیں تو اس حادثےکے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے یہ کیوں نہیں پوچھا جانا چاہئے کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے پیدا ہوئی مایوسی اتنی گہری ہو چلی ہے کہ کاروباریوں کو ان کی رات کی صبح ہی دکھائی نہیں دیتی (دکھائی دیتی تو کوئی کاروباری اس طرح جنتا دربار میں زہر کھانے پر کیوں اترتا؟ ) تو ان کے ذریعے ان دونوں قدموں کو لےکر ‘ اپنے منھ میاں مٹھو ‘ کی طرز پر اپنی پیٹھ تھپتھپانے کا حاصل کیا ہے؟

کیا ان قدموں سے پیدا ہوئی مایوسی کی اس لئے اندیکھی کی جاتی رہنی چاہئے کہ ان کے باوجود بی جے پی کوئی انتخاب نہیں ہار رہی؟

وزیر اعظم یا وزیر خزانہ ایسا سمجھتے ہیں تو ان کو بتانا چاہئے کہ کیا وہ انڈین پینل کوڈ میں کسی ایسے اہتمام کی حمایت کریں‌گے کہ کسی مجرم کے انتخاب جیتتے ہی اس کو کلین چٹ دےکر اس کے سارے جرم معاف کر دئے جائیں اور اس کو ہی مفاد عامہ اور ملک کا مفاد مان لیا جائے؟پھر اس المیہ کا کیا کریں کہ جہاں وزیر اعظم سیاسی قیمت چکاکر بھی اپنے ان قدموں کا بیان کرتے نہیں تھکتے، پارلیامنٹ میں یہ پوچھے جانے پر کہ ان کی معیشت پر کیا اثر پڑا ہے، وزیر مملکت خزانہ پی رادھاکرشنن جواب دیتے ہیں کہ معیشت کی مکمل اقتصادی ترقی کئی عوامل پر منحصر کرتی ہے، اس لئے اس اثر کا ٹھیک ٹھیک اندازہ کرنا مشکل ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ کے اس جواب سے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے ناقد ماہر اقتصادیات کے اس نظریہ کی ہی تصدیق ہوئی ہے کہ معیشت سے منسلک فیصلے ضد میں نہیں لئے جانے چاہئے اور ان سے پہلے تمام پہلوؤں پر غور کیا جانا چاہئے۔دکھ کی بات ہے کہ حکومت نے نہ نوٹ بندی کے وقت اور نہ جی ایس ٹی نافذ کرتے وقت ایسا کیا۔ ان کو لےکر عام لوگوں میں کھلبلی مچ گئی توبھی وہ یہی کہتی رہی کہ اس سے کالا دھن پر روک لگے گااور بد عنوانی ختم ہوگی، ترقی کی رفتار اور کاروبار میں آسانیاںہوں‌گی! یہ تب تھا، جب نوٹ بندیاَن آرگنائزڈ سیکٹر کو تباہ کر رہی تھی اور جی ایس ٹی آرگنائزڈ سیکٹر کو۔

یہ تباہی اب یہاں تک آ پہنچی ہے کہ مرکزی شماریاتی دفتر نے مالی سال2017-18 کے لیےجو پیش گوئی جاری کی ہے، اس میں مالی سال 2017-18 میں جی ڈی پی شرح نمو کے صرف 6.5 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔یہ گزشتہ چار سالوں میں سب سے کم ہے۔ اتناہی نہیں، اس مالی سال میں صنعتی ترقی اور زراعتیترقی شرحیں ہی نہیں، فی شخص آمدنی شرح نمو بھی گھٹنے کا اندازہ ہے۔ یہ عام آدمی کے لئے تو فکر کی وجہ ہے ہی، حکومت کے لئے بھی ہونی چاہئے۔اس معنی میں کہ وزیر اعظم کے انکار والے رویے کےبرعکس ان کی اقتصادی صلاح کار کمیٹی کے ممبر آسمہ گوئل نے ایک انگریزی اخبار سے بات چیت میں قبول‌کر لیا ہے کہ یہ شرحیں گھٹنے کے اندازوں کے پیچھے جی ایس ٹی کا بھی ہاتھ ہے۔

ان حالات میں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں ملک کیعوام کو کتنی پریشانیاںبرداشت کرنی ہوں‌گی۔ جب نہ زراعت یا صنعتوں کی ترقی ہوگی، نہ نوکریوں کے موقع ہوں‌گے، نہ کاروبار کی سہولیات، تو زندگی کاکاروبار آسانی سے کیسے چلے‌گا؟ستم ظریفی یہ کہ پھر بھی حکومت از آف ڈوئنگ بزنس میں ملک کے رینکنگ اصلاح جیسی مایا سے واہ واہی بٹورنے میں ہی مصروف ہے اور اس کا ایجنڈہ معیشت کی گراوٹ روکنے کے بجائے چھپانے کو وقف ہے۔یہ بےوجہ نہیں ہے کہ روزگار کی تشکیل آٹھ سال، نئی سرمایہ کاری 13 سال اور بینک قرض ترقی 63 سال کے سب سے نچلے سطح پر جا پہنچے ہیں۔
ایسے میں اس بات کی امید بھی تقریباً نہیں کے برابر ہے کہ سال 2017-19 کے ایک فروری کو پیش ہونے جا رہے بجٹ میں، انتخابی سال ہونے کی وجہ سے، گزشتہ چار سالوں کی پالیسیوں کو ہی بہتر پیکیجنگ کے ساتھ آگے بڑھانے اور لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی کے امکانات کو پکاکرنے کے علاوہ اور کسی حقیقت کا دھیان رکھا جائے‌گا۔

اسکی وجہ اور بھی ہےکہ جب بھی اپوزیشن کی طرف سے معیشت سے منسلک کسی مشکل، کہنا چاہئے، حکومت کے لئے تکلیف دہ سوال اٹھائے جاتے ہیں، حکومت ان کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے کانگریس کے دور کی مثالیں دےکر کنارے کر دیتی ہے۔اس کو معلوم ہے کہ اپنے برےدن میں بھی کانگریس ہی اس کا ‘اپوزیشن ‘ ہے اور 2019 میں وہی سب سے بڑی چیلنج پیش کرنے والی ہے۔ مشکل یہ کہ اس کے باوجود وہ بھول گئی ہے کہ ملک نے جیسے اس کو اقتدار چلانے کا ویسے ہی کانگریس اوردیگر حزب مخالف جماعتوں کو اس کے کئے-دھرے کو لےکرسوال پوچھنے کا حق دیا ہے۔

ملک کے لئے اس کی آئینی جوابدہی کہتی ہے کہ وہ اس حق کی عزت کرے اور جو سوال پوچھے جا رہے ہیں، ان کو منطقی نتیجےتک پہنچانے والے جواب دے۔اس کے ایسا کرنے میں ناکام رہنے پر دیگر سوال بھلےہی ہلکے ہو جائیں، یہ سوال اور وزنی ہوتا جائے‌گا کہ ملک نے اس کو کانگریس جیسی غلطیاں دوہرانے اور اس کے وقت کی بربادیوں کو اور ناقابل حل بنانے کے لئے چنا تھا یا اس کے ہی وعدے کے مطابق ‘ اچھے دن ‘ لانے کے لئے؟

کانگریس نے جو کچھ بھی کیا،ملک اقتدار سے بےدخل کر اس کو اس کی سزا دے چکی ہے۔ اس کی آڑ لےکریہ حکومت اس کے جیسی ہی ہو جانا چاہتی ہے تو دیرسویریہ بھی اسی انجام سے پہنچنے سے خودکو کیسے بچا سکتی ہے؟بہتر ہو کہ وہ اتراکھنڈ میں ہوئی واردات کا صحیح سے نوٹس لے اور اپنے سبز باغوں سے پیدا ہوئی مایوسیوں کو جھٹلانے کے بجائے ان پر غورکرے۔ یہ 2019 کے امکانات کے لحاظ سے بھی ضروری ہے۔

(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں اور فیض آباد میں رہتے ہیں۔)

بشکریہ دی وائر اردو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!