Published From Aurangabad & Buldhana

جوش ملسیانی

صدیقی صائم الدین

کیوں تغزّل کا نگہباں نہ رہے فن میرا
یہی پوجا ہے مری اور یہی دھن میرا

نام پنڈت لبّھو رام ملسیانی اور تخلص جوش ۔ 1882ء میں علاقہ میلسی میں پیدا ہوئے ۔ اس علاقہ کا نام تزک بابری میں میلسی ہی ہے جو بعد کو ملسیان ہو گیا، پنجاب کے ضلع جالندھر کا یہ چھوٹا سا قصبہ بیدی خاندان کی ملکیت رہا۔ یہ علاقہ مسلم دستکاروں کی اُن آبادی پر مشتمل تھا جن کا ایک زمانے میں خوب غوغہ رہا۔ یہ علاقہ تقسیم ملک کے وقت مکمل طور پر تباہ ہوکر ویران ہوا۔
محلہ عقیل پور کے ایک برہمن کے مکان میں جوش ملسیانی پیدا ہوئے۔ والد پنڈت موتی رام پشاور میں رہتے تھے جبکہ والدہ ملسیان میں اپنے بچوں کے ساتھ۔ والد ذات سے برہمن تھے لیکن گوشت اور شراب نوشی کے چسکے نے برادری میں رہنے نہیں دیا۔پشاور میں تجارت کرتے اور وہیں اکیلے زندگی گذارتے رہے جبکہ بیوی بچے ملسیان میں سکونت پذیر تھے۔جوش کی ابتدائی زندگی پر باپ کا کوئی اثر نہیں ملتا بلکہ وہ اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ باپ نے کس طرح انھیں اور ان کی ماں کو بے یار و مددگار چھوڑ رکھا تھا۔ پیسا خرچ کی خاطر بھیجتے تو کبھی بھول جاتے۔ ایک دفعہ والد کے پاس رہنے بھی گئے لیکن طبعیت کی گرانی کے باعث ملسیان واپس لوٹ آئے14 سال کے ہوئے تو والد کا انتقال ہو گیا۔ وراثت میں کچھ نہ ملا۔ والدہ اور خود کی کفالت کا ذمہ انھیں خود اٹھانا پڑی۔ رشتے کے چاچا تھے جو اکثر مدد کر دیا کرتے تھے لیکن یہ ناکافی تھا۔خاندان کو جوں توں سنبھالا اور تعلیم جاری رکھی۔
ابتدائی تعلیم ملسیان ہی سے حاصل کی ۔ حافظہ بہت اچھا تھا ۔آٹھویں جماعت میں تھے تبھی سے اشعار کہنا شروع کر دیا۔ کچھ عرصے بعد لاہور جاکر ٹیچر ٹرینگ حاصل کی اور جالندھر کے ایک اسکول میں اردو اور فارسی کے مدرس مقرر ہوئے۔ان کی زندگی کا بیشتر حصہ جالندھر کے نکودر علاقہ میں معلمی کرتے گذرا۔
18 سال کی عمر میں شادی کی۔لیکن بیوی چل بسی اس کے بعد 22 سال کی عمر میں دوبارہ شادی کی جن سے 4 اولادیں ہوئیں۔ جن میں ایک لڑکے” عرش ملسیانی “( جو کہ شاعر ہوئے )کے علاوہ اور تین لڑکیاں ہوئیں۔ (عرش ملسیانی ایک اچھے شاعر اور رسالہ آج کل کے ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔)داغ دہلوی جو کہ زمانہ وقت کے بڑے استاد رہے ان سے شاعری کی اصلاح کے لیے رجوع کیا اور ان کے انتقال تک ان سے اصلاح لیتے رہے۔حالانکہ اس وقت ان کی عمر محض 15 سے 18 سال کے درمیان تھی۔
جوش نے اپنی خودنوشت بھی لکھی ہے۔ ”غبار ِ کارواں “ میں جوش نے اپنی زندگی کے بیشتر حالات کا ذکر مفصل درج کیا ہے۔ان کا انتقال 1976ءمیں ہوا۔
ان کی تحریروںمیں ” منشورات ِ جوش ملسیانی، لوح و قلم، اقبال کی خامیاں، شرح دیوان ِ غالب، دستور قواعدفارسی“نثری جبکہ ”سیل ماتم ، آئینہ اصلاح،بادۂ سر جوش، جنون ہوش،فردوس گوش،نغمہ سروش“ ان کی شعری کلام کے مجموعے ہیں۔
جوش ملسیانی کی زندگی کا عرصہ کافی طویل ہے۔ اس شاعر نے اردو ادب کو کئی اتار چڑھاؤسے گذرتے دیکھا۔ حالی، آزاد، جیسے ناقدین سے لیکر منشی پریم چند اور ترقی پسند تحریک سبھی کو نہ صرف اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ ان کا تجزیہ بھی کیا ہے ۔ ان کی شاعری ان تمام محرکات سے الگ تھلگ ایک نئے زاویہ کی امین نظر آتی ہے۔ شاعری میں داخلیت اور ذاتی عقائد کا حسین امتزاج موجود ہے۔علاوہ ازیں قوم و ملّت سے چاہت اور قومی رہنماﺅں کی عزت اور ان کی پیروی ان کے یہاں بطور خاص ملتی ہے۔اہل فرنگ کی چالاکیوں اور ان کی معلم فرومایہ کاری کا اظہار شاعر کی شعریت میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
جوش ملسیانی کو قواعد شعر پر جس قدرملکہ حاصل تھا اس کی مثال وہ آپ ہیں۔ جوش کے مکتوبات اس سے بھرے پڑے ہیں جن میں شاعری کے اصول اور ان کی افادیت کا اظہار جا بجا کیا گیا ہے۔
جوش نے غزلوں کو مقدم جانا جبکہ آپنے نظمیں اور رباعیات بھی کہی جو بہت شاندار ہیں۔ ہر شعر سے جھلکتا ہے کہ وہ غزل کے شاعر ہیں۔آپ کی شاعر میں اعتدال پسندی ضرور ہے لیکن آپ نے اسے خود پر لازم نہیں ٹھہرایا جہاں جس کیفیت کی ضرورت محسوس ہوئی بلا جھجھک استعمال کرتے رہے۔
جوش نے ملک کے حالات سے متاثر ہوکر کئی نظمیں کہی ۔ قومی بیداری،آزادی کی جدوجہد ، قحط بنگال، حکومت کے مظالم، اپنے رہبروں کی عظمت،غربت و مفلسی اور ملکی محبت سے لبریز ان کی نظمیں ابتلاءفکر کی عمدہ مثالیں ہیں۔
” جمہوریت، ایک نیا کشمیر، جشن آزادی منانے کی خواہش، انقلاب زمانہ ، وطن اور شام، مفلس کی عید، قومی پرچم، مہاتما گاندھی کی عظمت“ جیسی نظمیں لکھ کر شاعر نے اپنی حبّ الوطنی کا ثبوت دیا۔ انکے یہاں ملکی نا موافقت کے بیچ پل رہی عوام اور اس کے مسائل کے علاوہ فرقہ پرستی اور
آزادی کے بعد کی آپسی رنجشوں اور متعصب تاریک خیالی کا ذکر بھی ملتا ہے۔مثلاً تقسیم ہند پر کہتے ہیں۔
سازِ آزادی نے چھیڑا تھا جو نغمہ بزم میں
ہر زباں پر نوحہ پنجاب ہوکر رہ گیا
جوش نے داغ سے بہت کچھ حاصل کیا تھا لیکن ان کی طرز زندگی سے کبھی متاثر نہ ہوئے۔ان کی شاعری پر بھی ےہی بات لازم ہوئی۔ جوش کے پاس داغ کی اُس شاعری کے جراثیم پائے جاتے ہیں جن میں حقیقت پسندی، جذباتیت، عمومیت، مضمرات قلبی، لطیف مفہومات، مبہم و ذو معنوں کی ساختی تشکیل، سخن اصل ، منشا ءمفہوم اورغمزہ و عشوہ طرازیاں کی کیفیات موجود ہیں ۔چند اشعار ملاحظہ کیجئے۔

بحث میں دونوں کو لطف آتا رہا
مجھ کو دل، دل کو میں سمجھاتا رہا

جنھیں تجھ سے ملنے کی تھی لگن وہ بڑھ گئے تری راہ میں
جنھیں دل لگی کا خیال تھا وہ بہشت ہی میں ٹھہر گئے

صیاد نے پر نوچ کے دی مجھ کو رہائی
چھوڑا بھی تو ظالم نے ، نہیں چھوڑا کسی کا

ڈوب جاتے ہیں امیدوں کے سفینے اس میں
میں نہ مانوں گا کہ آنسو ہے ذرا سا پانی

بھر رکھی ہے کیوں اتنی کدورت دل میں
ہوجائے نہ میلا رخ زیبا تیرا
جوش ملسیانی نے ترقی پسندوں کو بھی دیکھا اور اس سے قبل و بعد بھی، ان کے یہاں تمام کی شعری افکار پر ذاتی مشاہدہ کی روش موجود ہے۔ وہ تمام کو قبول کرتے ہیں لیکن رد کی گنجائش کے ساتھ۔ ان کے نزدیک ہر تحریک ادب کے لئے کار آمد اور ہر فکر نئی جہتوں کی امین دکھائی دیتی ہے ۔ اس سلسلے میں بجائے قلم اٹھا کر مضامین کہنے کے
آپنے اپنے اشعار میں ان افکار کو ثبت کیا۔مثلاً اصلاح معاشرہ اور ادب برائے زندگی کے تحت کہتے ہیں۔

ہر حال میں نیک و بد کی پہچان رہے
انسان بڑا بن کے بھی انسان رہے
دانا ہی سے امید یہ ہو سکتی ہے
نادن کو الٹو بھی تو نادان رہے

موت آکے تجھے جھنجھوڑ دے گی اک دن
رشتے جتنے ہیں توڑ دے گی ایک دن
دنیا کو نہ چھوڑے گا اگر اے ناداں
دنیا تجھے خود چھوڑ دے گی ایک دن

ترقی پسندی ان کے یہاں شدت کا نام نہیں۔وہ موقع کی مناسبت سے اشعار کہا کرتے تھے۔ ان کے یہاں حدود اور پابندی والا معاملہ نہیں ملتا۔ جب جس طرح کا شعر ہوا انہوں نے اسے پیش کر دیا۔ترقی پسندوں کے زمانے میں ملک کا تمام ادبی سرمایہ ان کے زیر اثر آچکا تھا۔ جوش ملسیانی کے پاس بھی اس کے اثرات دکھائی دئے۔

ہے جنگ میں بھی جان کے نقصان کا خوف
دریا کے سفر میں بھی ہے طوفان کا خوف
لیکن سب سے بڑی مشکل ہے تو یہ
انسان کو کھا رہا ہے انسان کا خوف

مشکل کا یہ اصرار کہ اب کام نہ کر
مقصد کی یہ تائید کہ آرام نہ کر
اٹھ باندھ لے ہمت کی کمر اے ناداں
آغاز کو شرمندہ انجام نہ کر

فیض سے اس کے فقط میرا وطن محروم ہے
کس جگہ اے جوش ٹوٹا عہد و پیمانِ بہار

یہ شعر جوش ملسیانی نے انگریزی حکومت کے اُس وعدہ خلافی پر کہے تھے جن میں انہوں نے پہلی جنگ عظیم کے بعد ملک چھوڑ جانے کا اعلان کیا تھا۔
ترقی پسندوں کے پاس خداکے فیصلوں پر اعتراض اس کی تقسیم پر اعتراض اس کے وجود پر سوال، اس کے قطعی پر امتیازی سلوک کا ٹھپّہ ،اپنی بے بسی کا اظہار بطور وصف ملتا ہے۔بعض حضرات کی نگاہ میں یہ وجود صانع کا قایل نہ ہونے کی ایک شکل ہے ۔ جوش کے
پاس بھی اس قسم کے اشعار ملتے ہیں۔

دیر سے کعبہ کو جاتا ہوں یہ مقصد لے کر
دیکھ آؤں کہیں میرا بھی خدا ہے کہ نہیں

جب ظلم کا سیلاب رواں ہوتا ہے
جب کوئی غریب نوحہ خواں ہوتا ہے
مظلوم کی گردن پہ چھری چلتی ہے جب
یا رب اس وقت تو کہاں ہوتا ہے

کوئی زور دار کوئی بے زر کیوں ہے
کوئی کمتر تو کوئی برتر کیوں ہے
یا رب تری نعمتیں تو ہیں بیش بہا
لیکن تقسیم نا برابر کیوں ہے

ایہام کا عنصر آپ کے ےہاں اپنے استاذ کے خیالی پیکر میں ڈھل کر نئے لباس و نئی جسدمیں پیش ہوتا ہے۔ رومانیت اور اس سے متصل خیالات سے شاعر نے ایسا ربط قائم کر لیا ہے جو شاندار اور تشکیکی پہلو سے بالاتر ہے۔
آپ فکر توریہ کے قایل بھی ہیں اور ذہنی طورپر مائل بھی۔ اس طرز کوشاعری کے لئے لازم امر قرار دیتے ہیں۔ حسن و عشق کے حوالے سے وہ باتیں جنہیں کہا بھی جائے اور سمجھابھی جائے لیکن ان کی بنیادی فکر سے اس کے ظاہر کو دور رکھ کر اپنے لئے نئی راہیں ہموار کران بنیادی جزئیات کوہم آہنگ کر پیش کرنا ایہامی شاعری کا خاصہ ہوا۔ جوش ملسیانی اسی
عمل پر کار بند ہیں۔ وہ روایتی انداز کو اپنانے میں دقت نہیں محسوس کرتے ۔

بلا سے کوئی ہاتھ ملتا رہے
ترا حسن سانچے میں ڈھلتا رہے

ان کو خوش رکھنے کے نکتے کون سوچے رات دن
اس طرح تو دل لگانا ایک فن ہو جائے گا

مرے دل کو اس کی تلاش ہے جسے وہم بھی نہ دکھا سکے
اسی بے نشاں کا خیال ہے ، جو خیال میں بھی نہ آسکے

نغمہ ہو کہ نالہ دونوں ہی یکساں ہیں ترے دیوانے کو
اتنا بھی نہیں ہے ہوش کیا چھیڑ دیا کیاچھوڑ دیا

جوش مسلیانی نے مزاحیہ اشعار بھی کہے ۔ان کی مزاح میں بھی طنز اور روایت کام کرتی ہے۔

جا بحث نہ کر مغز نہ کھا دور ہو ناصح
آیا مرے سمجھانے کو عیار کہیں کا

واعظ تری بے ربط کہانی کو سنے کون
یہ اینٹ کہیں کی ہے تو روڑا کہیں کا

حرام ہی سہی مذہب میں پھر بھی اے ناصح
ملے جو مفت کوئی چیز تو بری کیا ہے

یاد آئی کہ جگہ کہتے ہو یادیں آئیں
داد پاکر بھی یہ کہئے گا کہ دادیں پائیں

مختصر یہ کہ داغ دہلوی کے اس شاگرد کے پاس نئی فکر اور بہترین طرز کے علاوہ روایت اور بغاوت، قدامت و جدت کی معیانہ روش اور جا بجا نئے طرز کی اپنائیت کا عنصر پایا جاتا ہے جس نے شاعر کی فکری اساس کو نئے احوال و نئے زاویہ نظر سے نوازا ہے ۔یہ شاعر ایسا ادبی سرمایہ رکھتا ہے جو اسکی فکر اور مطمع نظر کو ادب کے ضابطوں اور حقائق کی روشنی میں مختلف اور جداگانہ روش کا بانی بنا کر پیش کرتا ہے۔

صدیقی صائم الدین

ریسرچ اسکالر، بامو یونیور سٹی،
اورنگ آبادمہاراشٹر
[email protected]
موبائیل نمبر :8623903034

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!