Published From Aurangabad & Buldhana

’’جمہوریت خطرہ میں‘‘

7صفحات کے خط میں چار ججس نے لکھیں یہ اہم باتیں

نئی دہلی:۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کے 4ججس نے میڈیا کے سامنے آکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے کاموں پر سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے کہا کی ہم نے ان مسائل پر چیف جسٹس سے بات کی لیکن انھوں نے ہماری بات نہیں سنی۔ پریس کانفرنس کے بعد چاروں ججوں نے ایک چٹھی جاری کی جسمیں سنگین الزامات لگائے ہیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے 7صفحات کے خط میں ججس نے کچھ معاملوں کے تفویذ کیے جانے کو لیکر ناراضگی جتائی ہے۔ ان ججس نے یہ الزام لگایا ہے کہ چیف جسٹس کی جانب سے چند معاملوں کو چنندہ ججس ہی کو سونپا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کے ججس کی جانب سے چیف جسٹس دیپک مشرا کو لکھے خط میں جو ضروری باتیں ہیں وہ یہ ہیں ۔۔۔
۱) چیف جسٹس اس روایت کو توڑ رہیں ہیں جس کے تحت اہم معاملوں میں فیصلہ سب کو شامل کر کیا جاتا رہا ہے۔
۲) چیف جسٹس کیسس کے بنٹوارے میں قانون کی پابندی نہیں کر رہیں ہیں۔
۳) چیف جسٹس اہم معاملات جس سے سپریم کورٹ کی سا لمیت پر فرق پڑتا ہے انھیں بغیر کسی ضروری وجہ کہ ان ججس کو سونپ دے رہیں ہیں جو چیف جسٹس کی پسند کے ہیں۔
۴) اس سے سپریم کورٹ کی تصویر خراب ہورہی ہے۔
۵) ہم اس معاملہ کو بتانے کے لئے چند ہی معاملوں کا حوالہ دیں رہیں ہیں۔
۶) سپریم کورٹ کے کالیجیم نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ایم جوزف اور سپریم کورٹ کی بڑی وکیل اندو ملہوترہ کو سپریم کورٹ میں جج مقرر کرنے کی سفارش بھیجی ہے۔
۷) جسٹس کے ایم جوزف نے ہی ہائی کورٹ میں رہتے ہوئے 21؍اپریل 2016کو اترا کھنڈ میں ہریش راوت کی حکومت کو ہٹاکر صدر راج لگانے کے فیصلہ کو رد کیا تھا ، جبکی اندو ملہوترہ سپریم کورٹ میں سیدھے جج بننے والی پہلی خاتون جج ہونگی۔ جبکی سپریم کورٹ میں فلحال جسٹس آر بھانومتی کے بعد وہ دوسری خاتون جج ہونگی۔
۸) سپریم کورٹ میں طئے شدہ 31عہدوں میں سے فلحال 25جج ہیں، یعنی ۵ جگہ خالی ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!