Published From Aurangabad & Buldhana

جموں کشمیر سے لوٹے حقوق انسانی کا رکنان کا دعوی : وادی میں لوگ پوری طرح سے فوجی قید میں ہیں

نئی دہلی : مودی حکومت کے ذریعہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کر ریاست کو مرکز کے ماتحت دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے کے بعد وادی کے حالات کا جائزہ لینے گئی حقوق انسانی کارکنان کی ایک ٹیم نے اپنی رپورٹ میں کشمیر کے حالات کو خوفناک بتایا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پورا کشمیر اس وقت فوجی کنٹرول میں ایک جیل بنا ہوا ہے۔ مودی حکومت کے ذریعہ جموں و کشمیر پر لیا گیا فیصلہ پوری طرح سے غیر اخلاقی، غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ مودی حکومت کے ذریعہ کشمیریوں کو بندی بنانے اور ممکنہ مخالفت کو دبانے کے لیے اختیار کیے جا رہے طریقے بھی پوری طرح سے غیر اخلاقی اور غیر آئینی و غیر قانونی ہیں۔

ماہر معیشت جیاں دریز، اے آئی پی ڈبلیو ای کی کویتا کرشنن، اے آئی ڈی ڈبلیو اے کی میمونہ مولا اور این اے پی ایم کے ویمل بھائی کی ٹیم نے کشمیر کے دورہ سے لوٹنے کے بعد بدھ کو ایک رپورٹ جاری کر بتایا کہ ریاست میں کس طرح سے عام لوگوں کو پوری طرح سے گھروں میں قید کر دیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، وادی میں مواصلات کے سبھی وسائل پر پابندی ہے، یہاں تک کہ میڈیا بھی پوری طرح سے پابندی میں ہے۔

ان حقوق انسانی کارکنان نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے کشمیر میں بڑے پیمانے پر سفر کرتے ہوئے پانچ دن (9 سے 13 اگست 2019) گزارے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دورہ حکومت ہند کی دفعہ 370 اور 35اے کو ختم کرنے اور جموں و کشمیر ریاست کو تحلیل کر اسے دو مرکز کے ماتحت ریاستوں میں تقسیم کرنے کے فیصلے کے چادر دن بعد 9 اگست 2019 سے شروع ہوا تھا۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دفعہ 370 اور 35اے کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں مذکورہ مطالبے بھی کیے…

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی حالت یا مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ ان کے لوگوں کی خواہش کے بغیر نہیں لیا جانا چاہیے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست میں لینڈ لائن ٹیلی فون، موبائل خدمات اور انٹرنیٹ سمیت سبھی مواصلاتی وسائل کو فوری اثر سے بحال کیا جائے۔
جموں و کشمیر سے تقریر، اظہارِ رائے اور احتجاج کی آزادی پر پابندی کو فوری طور سے ہٹایا جائے۔ ریاست کے لوگ تکلیف میں ہیں اور ایسے میں انھیں میڈیا، سوشل میڈیا، عوامی تقاریب اور دیگر وسائل کے ذریعہ سے اپنا احتجاج ظاہر کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
جموں و کشمیر میں صحافیوں پر جاری پابندی کو فوراً ہٹایا جائے۔
حقوق انسانی کارکنان نے بتایا کہ جب وہ 9 اگست کو سری نگر پہنچے تو انھوں نے شہر کو کرفیو سے اجڑا ہوا اور ہندوستانی فوج و نیم فوجی دستوں سے بھرا ہوا پایا۔ سری نگر کی سڑکیں خالی تھیں اور سبھی ادارے اور دکانیں بند تھیں۔ صرف کچھ اے ٹی ایم اور دوا کی دکانیں و پولس اسٹیشن کھلے تھے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ "ہم نے پانچ دن گھوم گھوم کر سری نگر شہر کے سینکڑوں عام لوگوں کے ساتھ کشمیر کے گاؤں اور چھوٹے قصبوں میں لوگوں سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کی۔ ہم نے خواتین، اسکول اور کالج کے طلبا، دکانداروں، صحافیوں کے ساتھ ہی چھوٹے تاجر، دہاڑی مزدور، یو پی و مغربی بنگال جیسی ریاستوں سے آئے لوگوں سے بھی بات کی۔ ہم نے وہاں کشمیری پنڈتوں اور سکھوں کے ساتھ ہی کشمیری مسلمانوں سے بھی بات کی جو وادی میں رہتے ہیں۔”

حقوق انسانی کارکنان کا کہنا ہے کہ ہر جگہ لوگ کافی گرم جوشی کے ساتھ ملے۔ یہاں تک کہ حکومت ہند کے خلاف تکلیف، غصہ سے بھرے ہونے کے باوجود وہ اچھے سے پیش آئے اور ہر موضوع پر گفتگو کی۔ اس دوران انھوں نے ہمیں اپنا درد بھی بتایا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!