Published From Aurangabad & Buldhana

جموں وکشمیر کو خصوصی اختیارات دینے والے آرٹیکل 35 اے پر سپریم کورٹ میں سماعت آج

چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیر صدارت تین رکنی بینچ اشونی اپادھیائے کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کرے گی۔

سپریم کورٹ میں آج یعنی پیر کو جموں وکشمیر کو خصوصی اختیارات دینے والے آرٹیکل 35 اے کے جواز کو چیلنج دینے والی عرضی پر آج اہم سماعت ہو گی۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیر صدارت تین رکنی بینچ اشونی اپادھیائے کی طرف سے دائر عرضی پر سماعت کرے گی۔
چھ اگست کو ہوئی پچھلی سماعت میں سپریم کورٹ نے اہم معاملہ کی سماعت تین ہفتہ بعد یعنی 27 اگست کے لئے طی کی تھی۔ سپریم کورٹ اس آرٹیکل کو منسوخ کرنے کی مانگ کو لے کر دائر کئی عرضیوں پر پہلے سے ہی سماعت کر رہا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 35 اے منمانہ اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے کیونکہ یہ ایسی عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے جو اپنی مرضی اور ریاست کے باہر کے افراد سے شادی کرتی ہیں۔
جموں و کشمیر کی حکومت نے اگلے پنچایتی اور شہری مقامی بلدیاتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے اس معاملہ کی سماعت ملتوی کرنے کی مانگ کی تھی۔ ریاست کی اہم پارٹیوں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے علاوہ سی پی ایم اور کانگریس کی ریاستی یون سمیت بہت سی مقامی سیاسی جماعتوں اور علیحدگی پسند آرٹیکل 35 اے کو موجودہ حالت میں برقرار رکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

آرٹیکل 35 اے کے تحت جموں و کشمیر میں رہنے والے شہریوں کو خصوصی حقوق دیئے گئے ہیں۔
آرٹیکل 35 اے کے تحت جموں و کشمیر میں رہنے والے شہریوں کو خصوصی حقوق دیئے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ آزادی کے وقت وہ کسی پناہ گزین کو سہولت دے یا نہیں۔ وہ کسے اپنا مستقل رہائشی مانے اور کسے نہیں۔
دراصل، جموں و کشمیر کی حکومت ان لوگوں کو مستقل رہائشی مانتی ہے جو 14 مئی، 1954 سے پہلے کشمیر میں آباد تھے۔
اس قانون کے تحت جموں اور کشمیر کے باہر کا کوئی بھی شخص ریاست میں نہ تو جائیداد (زمین) خرید سکتا ہے اور نہ ہی وہ یہاں آباد ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کسی بھی بیرونی شخص کے سرکاری ملازمت کرنے پر پابندی ہے نہ ہی وہ حکومت کی طرف سے جاری منصوبوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
جموں وکشمیر میں رہنے والی لڑکی اگر کسی باہری شخص سے شادی کرتی ہے تو اس سے ریاست کی طرف سے ملے خصوصی اختیارات چھین لئے جاتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں، اس کے بچے بھی حق کی لڑائی نہیں لڑ سکتے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!