Published From Aurangabad & Buldhana

جلگاؤں اے ٹی ایس کی دوسری کارروائی ساکلی سے وجئے بھیا (لودھی) گرفتار

=دابھولکر قتل معاملہ: قتل کیلئے آندورے کو بندوق امول کالے نے دی تھی: CBI =جانچ کے اہم موڑ پر پریس کانفرنس لینے پر ہائی کورٹ کی جانب سے پولس کو پھٹکار

جلگاؤں( شیخ کامل) گذشتہ روز کی گئی ایک گرفتاری کے بعد ضلع جلگاؤں کے ساکلی تعلقہ یاول کے پاٹل واڑہ علاقہ کے قریب کے ساکن وجئے بھیا داوکھا سنگھ لودھی(33) کو انسداد دہشت گردی (ای ٹی ایس) کے اسکواڈ نے 7ستمبر بروزجمعہ شام پانچ بجے کے قریب حراست میں لیا۔ ازیں قبل دوپہر ساڑھے تین بجے یہاں داخل ہوئے اے ٹی ایس افسران نے تقریباًدیڑھ گھنٹہ لودھی کے گھر کی تلاشی لی۔

اے ٹی ایس والے اپنی دو گاڑیو (MH.9.CF-1855)اور (MH.28R.0486)کے ذریعہ کم وبیش دس بارہ افراد پر مشتمل نفری لے کر آئے جائے وقوع سے گذرنے والے راستے پر رکاوٹ کھڑی کرنے کی بھی اطلاع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لودھی ایک درمیانی طبقہ کے خاندان کا اکلوتا لڑکا ہے۔عیاں رہے کہ اسی گاؤں کے اندرا نگر سے گذشتہ روز بھی ایک مشتبہ نوجوان واسو دیو سوریہ نشی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گاؤں والوں میں حالانکہ استعجاب وہ تجسس ہے کہ آخر کن الزامات ووجوہات کے بر بناء پر یہ گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔دریں اثناء سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (CBI) نے کل عدالت میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ بندوق جو پولس کودابھولکر کے مبینہ قاتل سچن آندورے کے پاس سے ملی تھی اسے وہ امول کالے نے دی تھی۔ امول کالے وہی ہے جسے کرناٹک کی صحافی گوری لنکیش کے قتل کا اہم ملزم مانا جارہا ہے۔ واضح ہوکہ CBIکی درخواست پر مجسٹریٹ ایم ایس سے سید نے کالے کو 14ستمبر تک CBIکی کسٹڈی میں دے دیا ہے۔سی بی آئی کو شک ہے کہ نریندر دابھولکر کے قتل میں بھی کلیدی ملزم کالے ہی ہے اس لئے کہ اسی نے وہ پستول مہیاء کروائی تھی۔سی بی آئی کاؤنسل وجئے کمار ڈھاکنے نے عدالت میں کہا کہ کالے نے سچن آندورے سے اورنگ آباد کی ہوٹل میں ملاقات کی تھی۔

کالے نے ہی آندورے کو پستول دی تھی جس کا استعمال دابھولکر کو قتل کرنے میں ہوا تھا۔مزید تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ آندورے نے ہی اپنے بہنوئی شبھم سرالے کے پاس وہ پستول رکھائی تھی۔وہ پستول سی بی آئی اور مہارشٹرATSکے چھاپوں میں سرالے کے دوست روہت ریگے کے گھر سے بر آمد ہوئی تھی۔ تفتیش کی کاروائی میں سی بی آئی پچھلے جمعہ کو سچن آندورے کو اوم کریشور مندر کے قریب اس مقام پر لے کر گئی تھی جہاں پر دابھولکر کا قتل ہوا تھا۔ دوسری جانب خصوصی تفتیشی ٹیم اور سی بی آئی کی جانب سے اس پورے میں معاملہ میں میڈیا سے بات کرنے پر سخت ناراضگی اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانچ ابھی اہم مرحلہ پر ہے اور ہمیں لوگوں کو اطلاع کر پہلے سے چوکنا نہیں کرنا چاہیے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!