Published From Aurangabad & Buldhana

جلد پر 9 گھنٹوں تک چپکا رہتا ہے ‘کورونا وائرس’، نئی تحقیق میں انکشاف

کورونا انفیکشن نے پوری دنیا کو تباہ حال کر کے رکھ دیا ہے۔ کووڈ-19 وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ویکسین اور دواؤں کی ٹیسٹنگ چل رہی ہے، لیکن ساتھ ہی کورونا وائرس پر تحقیق کا عمل بھی جاری ہے۔ لگاتار کورونا وائرس سے متعلق نئی نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں، اور تازہ ترین خبروں کے مطابق ایک نئی تحقیق سے حیران کرنے والی جانکاری سامنے آئی ہے۔

ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ کووڈ-19 کسی شخص کی جلد (چمڑے) پر تقریباً 9 گھنٹے تک رہ سکتا ہے، اگر اسے ہٹایا نہ جائے۔ تحقیق کے مطابق کووڈ-19 ٹرانسمیشن کافی حد تک ایروسول اور بوندوں کے ذریعہ ہوتا ہے۔ کلینکل انفیکشن ڈیزیز میں شائع اس نئے ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ سارس-کوو-2 انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہاتھوں کی صفائی زیادہ اہم ہے۔

تحقیق میں صحت مند والنٹیر کے متاثر ہونے کے امکانات سے بچنے کے لیے محققین نے کیڈویئر اسکن کا استعمال کر تحقیق کی، جو اسکن ٹرانسپلانٹیشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس میں انفلوئنزا-اے وائرس انسانی جلد پر دو گھنٹے سے کم وقت تک زندہ رہا جب کہ کورونا وائرس 9 گھنٹے سے زیادہ وقت تک زندہ رہا۔ دونوں وائرس کو ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کر 15 سیکنڈ کے اندر غیر فعال کر دیا گیا۔ سینیٹائزر میں 80 فیصد الکحل تھا۔ حالانکہ یو ایس سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن الکحل مبنی سینیٹائزر، صابن یا پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ ہاتھ دھونے کی صلاح دیتا ہے۔

محققین نے یہ بھی کہا ہے کہ اوسط فیس ماسک پریشان کن ہو سکتا ہے لیکن پھیپھڑوں میں آکسیجن کی روانی کو محدود نہیں کرتا ہے، یہاں تک کہ سنگین پھیپھڑوں کے مریضوں کو بھی اس سے پریشانی نہیں ہوتی ہے۔ خبر رساں ادارہ رائٹرس نے اپنی ایک رپورٹ میں اس تعلق سے تفصیلات پیش کی ہیں۔

قومی آواز بیورو

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!