Published From Aurangabad & Buldhana

جالنہ سے گرفتار پانگرکر سناتن وہندوجن جاگرتی کافائنانسرتھا

۲۶؍اگست تک پی سی آر ‘مزید دہشت گردانہ کاروائیوں کاانکشاف متوقع

اورنگ آباد: ۲۰؍ اگست(اسٹاف رپورٹر )نالاسوپارہ میں ہندودہشت گرد ویبھوراؤت کے مکان سے برآمد اسلحہ و بارود وآتشیں اشیاء کے معاملہ میں اے ٹی ایس نے جالنہ سے شریکانت پانگرکر کو گرفتار کیا تھا۔ اس کی گرفتاری کے بعداے ٹی ایس نے دعوی کیاہے کہ پانگرکر سناتن سنستھا کا فائنانسر تھا۔ اس کی سرمایہ کاری کے سبب ہی یہ دھماکو اشیاء کی خریدی وتیاری کی گئی تھی۔ کل رات پانگرکرکو ممبئی لے جایا گیا تھا۔ آج ممبئی ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کرنے پر عدالت نے اسے ۲۶؍اگست تک پی سی آردیا۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ دویوم میں ممبئی اے ٹی ایس کی ٹیموں نے شہرکے مختلف مقامات پر سناتن سنستھا اورہندوجن جاگرتی سے مربوط‘اور ویبھوراؤت‘ شرد کڑسکر اورسچن اندورے سے تعلقات رکھنے والے پانچ افراد سے پوچھ تاچھ کی اورانہیں اپنی تحویل میں لیا۔ لیکن اے ٹی ایس نے اس ضمن میں کسی بھی قسم کی معلومات دینے سے انکارکردیاہے کہ انہیں محض پوچھ تاچھ کیلئے تحویل میں لیاہے یا انہیں گرفتارکر لیا گیا ہے۔اے ٹی ایس کواورنگ آباد اور جالنہ کے کئی ایسے سناتن اورہندوجن جاگرتی سمیتی کے ممبران کی تلاش میں ہے جن کا نریندر دابھولکر اورپانسرے قتل معاملات اور نالاسوپارہ میں ملے ہتھیاروں کے ذخیرہ سے کچھ لینا دینا تو نہیں۔ باضابطہ اے ٹی ایس نے اس کی فہرست بھی تیارکی ہے۔ نالاسوپارہ میں بیس سے زائدزندہ بم اوردھماکہ اشیاء کا ذخیرہ برآمدہونے سے ریاست بھرمیں کھلبلی مچ گئی تھی۔

اس معاملہ کے بعد نریندر دابھولکر کے قاتلوں کاعلم پولس کوہواتھا۔اسی ضمن میں سی بی آئی نے دویوم قبل اورنگ آبادکے کمہار پھلی علاقہ کے سچن اندورے کو گرفتار کیا تھا۔ جبکہ ریاست کے مختلف مقامات سے ویبھوراؤت ‘ سندھڑاگونڑیکھر‘ شردکڑسکر کوپہلے ہی حراست میں لیاگیاہے۔اے ٹی ایس کادعوی ہے کہ اس معاملہ کی معاشی کڑ ی شریکانت پانگرکرہے ۔چونکہ وہ دومرتبہ جالنہ بلدیہ میں شیوسیناکے ٹکٹ پر رکن منتخب ہوچکاہے اوراسکی معاشی حالت بہترہونے کے سبب خدشہ یہ بھی ظاہرکیاجارہاہے کہ وہ اپنے ساتھ کئی فائنانسرس کے ساتھ مل کر ریاست وبیرون ریاست میں دہشت گردانہ کاروائیوں کیلئے سرمایہ جمع کرتاتھا۔ لیکن اے ٹی ایس اب تک یہ واضح نہیں کیاگیاہے کہ اس پورے معاملہ کاماسٹرمائنڈکون ہے؟ اسکے گھرسے اے ٹی ایس نے پین ڈرائیو‘ ہارڈ ڈسک‘ مشکوک مواد‘ ودیگر برآمدکیے ہیں۔ پانگرکرکے بارے میں علم ہواکہ وہ ایک شدت پسند اورمتعصب ہندوہے۔ محصول کالونی کاساکن پانگرکر ابتداء سے شیوسیناکارکن ہے۔ ۲۰۰۱ء میں وہ پہلی مرتبہ بھاگیہ نگر اور ۲۰۰۶ء میں دوسری مرتبہ اسی علاقہ سے رکن بلدیہ منتخب ہواتھا۔ ۲۰۱۱ء میں اسے پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیاتھا۔جس کے بعداس نے ہندوجن جاگرتی سمیتی سے اپنا ناطہ جوڑلیاتھا۔اس کے افرادخاندان میں والدہ‘ بیوی‘ لڑکااورایک لڑکی شامل ہے۔

پانگرکر کاشیوسینا سے تعلق نہیں:کھوتکر

اس درمیان شیوسیناکے جالنہ رکن اسمبلی و مملکتی وزیر ارجن کھوتکرسے پانگرکر کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پانگرکردومرتبہ شیوسینا کے ٹکٹ پر منتخب ہواتھا۔ ۲۰۱۱ء سے اس کااورشیوسیناکاکوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ ہم نے اسے ٹکٹ نہیں دیاتھا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ فی الحال شیوسینا کاکوئی عہدہ اس کے پاس نہیں ہے۔جہاں تک پانگرکرکی گرفتاری کاسوال ہے اسکی کرتوتوں کااسکا ہمیں کوئی علم نہیں۔ قانون اپناکام کریگا۔ جانچ ایجنسیاں اپنے کام بہترطورپرکررہی ہیں۔ جوبھی فیصلہ ہوگااسے تمام کوقبول کرناہوگا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!