Published From Aurangabad & Buldhana

جارج فلائیڈ کی ہلاکت : کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریاستوں میں فوج کو تعینات کر سکتے ہیں؟

امریکہ میں ایک سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر احتجاج کا سلسلہ نہ تھما تو وہ وفاقی افوج کو ریاستوں میں بھیج کر اس افراتفری کو کچل دیں گے۔

بدھ کو امریکہ کے سیکرٹری دفاع نے ان مظاہروں کو کچلنے کے لیے فوج بھیجنے کی مخالفت کی ہے۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ریاستی اور شہری حکام اس مسئلے کا حل تلاش نہ کر سکے تو وہ وہاں فوج کو بھیج کر صورتحال کو ٹھیک کر دیں گے۔

کچھ ریاستوں کے گورنروں نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر کے پاس ایسا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے کہ متعلقہ ریاست کے چاہے بغیر وہ وفاقی افواج کو وہاں تعینات کر سکیں۔ در حقیقت پہلے ہی ہزاروں نیشنل گارڈز امریکہ کی بیس ریاستوں میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔ نیشنل گارڈز امریکہ کی افواج کی ریزرو فورس ہے۔ نیشنل گارڈز پہلے ہی 20 ریاستوں میں ہونے والے احتجاج کو روکنے کے لیے مختلف شہروں میں تعینات ہیں۔ البتہ نیشنل گارڈز کو ریاستی حکام کی درخواست پر وہاں بھیجا گیا ہے۔

انیسویں صدی میں بننے والے ایک قانون کی روشنی میں صدرِ امریکہ، متعلقہ ریاست کے حکام کی درخواست کے بغیر بھی وفاقی افواج کو ریاست میں تعینات کرنے کا مجاز ہے۔ 1809 میں منظور ہونے والے ‘انسریکشن ایکٹ’ امریکی صدر کو یہ قانونی اختیار فراہم کرتا ہے کہ اگر وہ حالات کا جائزہ لے کر یہ رائے قائم کرے کہ ریاست میں امریکی قوانین کا نفاد ناممکن ہو گیا ہے یا شہریوں کے حقوق محفوظ نہیں ہیں، تو وہ متعلقہ ریاست کی درخواست کے بغیر بھی وفاقی افواج کو اس ریاست میں تعینات کر سکتا ہے۔

انسریکشن ایکٹ کی منظوری کا مقصد ‘ باغی انڈینز’ کی شہروں پر چڑھائی کو روکنے کے لیے ملیشیا کو تعینات کرنا تھا لیکن بعد ازاں قانون میں تبدیلی کر کے مقامی شورش کو روکنے کے لیے امریکی فوج کی تعیناتی کو بھی ممکن بنا دیا گیا۔ اس کے بعد 1878 میں ایک اور قانون منظور کیا گیا جس کے تحت اگر کسی مقامی جھگڑے میں وفاقی افواج کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئے، تو اس کے لیے کانگریس کی منظوری چاہیے ہوتی ہے۔

البتہ ایک ماہر قانون نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انسریکشن ایکٹ کے تحت صدر کے پاس قانونی اختیار موجود ہے کہ وہ کسی بھی ریاست میں فوج کو تعینات کر سکے۔ صدر سے توقع کی جاتی ہے کہ اس کے پاس ریاست میں وفاقی افواج کی تعیناتی کا قانونی جواز ہوگا۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس کے لا پروفیسر رابرٹ چیزنی کے مطابق:’ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ صدر کو کسی ریاست میں وفاقی افواج کی تعیناتی کے لیے رائے قائم کرتے ہوئے، ریاست کے گورنر کی درخواست کی ضرورت نہیں ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!