Published From Aurangabad & Buldhana

تین طلاق کی جگہ مودی حکومت موب لنچنگ سے متاثر مسلم خواتین کی فکر کیوں نہیں کرتی؟… رام پنیانی

رام پنیانی

مسلم بہنوں کے ساتھ صنفی انصاف کے نام پر مودی حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں حال (جون 2019) میں پیش ایک بل، ملک بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس بل میں تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا ہے۔ نریندر مودی کی پچھلی حکومت نے بھی پارلیمنٹ میں ایسا ہی ایک بل پیش کیا تھا۔ اس بل کو لوک سبھا نے پاس بھی کر دیا تھا، لیکن راجیہ سبھا میں بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں تھی، اس لیے وہ بل قانون نہیں بن سکا۔

گزشتہ بل سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد لایا گیا تھا جس میں تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ اب حکومت کی دلیل یہ ہے کہ اس بل کو جلد سے جلد اس لیے پاس کروانا ضروری ہے کیونکہ گزشتہ بل کو پیش کیے جانے کے بعد سے ملک بھر میں تین طلاق کے تقریباً 200 معاملے سامنے آئے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تین طلاق اور فوری طور پر تین طلاق میں فرق ہے۔ قرآن بیوی کو طلاق دینے کے لیے تین طلاق کے اصول کو صحیح مانتا ہے۔ قرآن کے مطابق پہلی بار طلاق کہنے کے بعد کچھ وقت دیا جانا چاہیے جس کے دوران دونوں فریق کے ثالث شوہر-بیوی میں سمجھوتہ کروانے کی کوشش کریں۔ اگر یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو دوسری بار طلاق لفظ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر کچھ وقت تک سمجھوتہ کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر سمجھوتہ نہیں ہو پاتا، تب تیسری اور آخری بار طلاق لفظ کہا جاتا ہے۔ اور اس کے بعد شوہر-بیوی الگ ہو جاتے ہیں۔

قرآن کے مطابق ’’اگر تمھیں شوہر-بیوی کے درمیان جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد کے لوگوں میں سے اور ایک پنچ عورت کے لوگوں میں سے مقرر کرو۔ اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان بہتری پیدا کر دے گا۔‘‘ (4:35) اور، ’’پھر جب وہ اپنی نیت عدت کو پہنچیں تو انھیں اچھی طرح سے روک لو یا اچھی طرح سے الگ کر دو۔ اور اپنے میں سے دو انصاف پسند شخص کو گواہ بنا لو اور اللہ کے لیے گواہی کو درست رکھو۔‘‘ (65:2)

جس بات کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ قرآن عورتوں کو بھی اپنی مرضی سے ’خلاء‘ لفظ کہہ کر ازدواجی رشتہ ختم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لاپروا مولوی حضرات، جن کے لیے اسلام میں کوئی جگہ ہی نہیں ہے، اس معاملے میں مسلم طبقہ کو گمراہ کرتے رہے ہیں۔ مولویوں نے ہی ایک بار میں تین طلاق لفظ کہنے کو اور فوری طلاق دینے کے طریقے کو منظوری دی ہے، اس کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فوری اثر سے تین طلاق کا عمل سماج میں وسیع پیمانے پر رائج ہو گیا ہے اور اس کی وجہ سے مسلم خواتین کو بہت تکلیف اٹھانی پڑتی ہیں۔ قرآن میں درج تین طلاق کا طریقہ، جو کہ مسلم پرسنل لاء کا حصہ ہے، کے بارے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ’’چونکہ یہ رسم (تین طلاق)، مسلم پرسنل لاء کا حصہ ہے، اس لیے اسے آئین کی دفعہ 25 کا تحفظ حاصل ہے۔ مذہب کا تعلق عقیدہ سے ہے، دلیل سے نہیں۔ کوئی بھی عدالت ایسی کسی رسم، جو کسی مذہب کا غیر منقسم حصہ ہے، پر برابری کے اصول کو ترجیح نہیں دے سکتی۔‘‘

مبصرین یہ واضح نہیں کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے تین طلاق کو نہیں بلکہ فوری طور پر تین طلاق کو غیر قانونی ٹھہرایا ہے جو کہ پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت مسلم اکثریت والے کئی ممالک میں ممنوع ہے۔ جب عدالت نے پہلے ہی اس عمل پر پابندی لگا دی ہے، تو پھر اس بل کی کیا ضرورت ہے؟ اگر اب بھی فوری طلاق ہو رہی ہیں تو وہ قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے موجودہ قوانین کے تحت نمٹا جا سکتا ہے۔ پھر یہ بل حکومت کی اتنی ترجیح کیوں ہے؟ بلکہ اس بل کی ضرورت ہی کیا ہے؟

دراصل مودی حکومت کی مسلم خواتین کے بارے میں فکر ’مگرمچھ‘ کے آنسو کے سوا کچھ نہیں۔ مسلم بہنوں کے اہم مسائل کیا ہیں؟ ان کے لیے فکر کی بات تو یہ ہے کہ گوشت کھانے، اس کی تجارت کرنے یا بیف رکھنے کے شک میں ان کے بھائیوں کا، شوہروں کا پیٹ پیٹ کر قتل کیا جا رہا ہے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹرین میں ایک مسلم کو صرف اس لیے مار ڈالا گیا کیونکہ بھیڑ کو شک تھا کہ اس کے ٹفن میں بیف ہے۔ ان کی بڑی پریشانی یہ ہے کہ ان کے بھائیوں کو کھمبے سے باندھ کر پیٹتے ہوئے ’جے شری رام‘ کہنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور رام کا جے کارا لگانے کے بعد بھی ان کی جان لے لی جاتی ہے۔ ان کے لیے پریشانی یہ بھی ہے کہ سرکردہ بی جے پی لیڈر گئو رکشا یا بیف کے نام پر قتل کرنے والوں کو اعزاز بخشنے کے لیے بے چین رہتے ہیں۔

اجتماعی سماجی سوچ میں اتنا زہر گھول دیا گیا ہے کہ ہندو راشٹروادی کنبے کے نام نہاد شر پسند عناصر اب ’جے شری رام‘ کے نعرہ کا استعمال مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ گائے کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس سے معیشت پر جو اثر ہوا ہے، اس کے سبب کئی مسلم بہنوں کے گھر چولہا نہیں جل پا رہا ہے۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ مذہبی شناخت سے جڑے تشدد اور بے ضابطگی سے صرف مرد متاثر ہوتے ہیں۔ ان کی فیملی کی خواتین بھی اس سے اثرانداز ہوتی ہیں۔ حکومت ان مسلم بہنوں کی تعداد تو بتا رہی ہے جو فوری تین طلاق سے متاثر ہیں، کیا وہ ان مسلم بہنوں کی تعداد بھی بتائے گی جو لو جہاد، گھر واپسی، رام مندر اور گئو رکشا کے نام پر کیے گئے تشدد سے متاثر ہیں؟

صنفی انصاف کے ایشو پر حکومت بہت سنجیدہ ہے، اچھی بات ہے۔ کیا حکومت کو یہ معلوم نہیں کہ مردم شماری 2011 کے مطابق ملک میں ایسی 24 لاکھ خواتین ہیں جنھیں ان کے شوہروں نے بغیر طلاق دیئے چھوڑا ہوا ہے۔ ان چھوڑی گئی خواتین کے لیے کوئی کمانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ کیا ایسا کوئی قانون ہے جس کے تحت ان خواتین کے شوہروں کو ان کی اخلاقی ذمہ داری کا احساس کرایا جا سکے؟

سبریمالہ مندر میں 10 سے 50 سال کی عمر کی خواتین کے داخلے پر پابندی کو سپریم کورٹ کے ذریعہ رَد کر دیئے جانے کے بعد بھی وہاں روایت کے نام پر ہندو خواتین کو داخلہ نہیں دیا جا رہا ہے۔ کیا یہ صنفی انصاف کا مذاق نہیں ہے؟

ایک جانب جہاں مسلم خواتین کی فکر میں بی جے پی پریشان ہے، وہیں وہ مسلم مردوں کو ظالم ظاہر کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔ مسلم خواتین کو برابری کے حق کو پوری عزت دیتے ہوئے ہم یہ درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ مرد اور خواتین مل کر خاندان بناتے ہیں۔ مسلم مردوں کو ظالم ظاہر کرنے سے ’مسلم بہنوں‘ کو بھی چوٹ پہنچتی ہے۔

این ڈی اے میں شامل کئی پارٹیاں جیسے جنتا دل یو، تین طلاق قانون کے حق میں نہیں ہے، لیکن بی جے پی کی زبردست اکثریت کے آگے ان کی کچھ چلنے والی نہیں ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!