Published From Aurangabad & Buldhana

تین طلاق بل مسلم خواتین کیلئے سب سے زیادہ نقصاندہ

جلسۂ تحفظِ شریعت سے اسدالدین اویسی و دیگر علمائے کرام کا خطاب

ناندیڑ: آج ملک میں مسلمانوں کیلئے حالات انتہائی تشویشناک ہیں لیکن ہمیں پتہ ہے مسلمان کسی سے ڈرنے والا نہیں، مسلمان سوائے اپنے خدا کے کسی سے نہیں ڈرتا، حکومت چاہے کوئی بھی قانون بنالے لیکن مسلمان اپنی شریعت پر تاقیامت عمل کرے گا۔ معاشرہ کی برائیوں کا خاتمہ قانون بنانے سے ہرگز نہیں ہوتا۔ اس طرح کا اظہارِ خیال کل ہند مجلسِ اتحادالمسلمین کے قومی صدر و رُکن مسلم پرسنل لاء بورڈ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ناندیڑ میں جلسۂ تحفظِ شریعت اور اصلاحِ معاشرہ سے خطاب کے دوران کیا۔ ناندیڑ شہر کے عیدگاہ میدان پر عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسہ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مسلم پرسنل لاء بورڈ سکریٹری مولانا عمرین محفوظ رحمانی، ناظمِ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد کے مولانا محمد رحیم الدین انصاری، جماعتِ اسلامی کے مرکزی شوریٰ کے رُکن ملک معتصم، مولانا اولیاء حسنی مرتضیٰ پاشاہ، وغیرہ موجود تھے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے مسلم نوجوانوں کو تاکید کی کہ وہ جہیز کی لعنت کو ختم کریں اور نکاح کو آسان بنائیں، انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنے آپ میں بدلاؤ نہیں لائیں گے تب تک ہم دوسروں کی اصلاح نہیں کرسکتے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو بِل تین طلاق کے خلاف لایا گیا ہے وہ آئین کے خلاف ہے ایک طرف مودی حکومت دستور کی حفاظت کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف دستور نے اس ملک کے تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنے اپنے مذہب پر چلنے کا حق دیا ہے لیکن مودی حکومت یہ حق ہم سے چھین رہی ہے۔ مسلم خواتین کے تحفظ کے نام پر مسلم خواتین کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔ دراصل یہ بل مسلم خواتین کیلئے سب سے زیادہ نقصاندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم مودی کو مسلم خواتین کی اتنی ہی فکر ہے تو آنے والے بجٹ میں مسلم خواتین کیلئے دوہزار کروڑ کا بجٹ مختص کریں اور متاثرہ خواتین کو پندرہ ہزار روپے کا الاؤنس دیں۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ آج ملک میں کئی ہزار خواتین کی موت صرف جہیز کی وجہ سے ہوتی ہے اس کیلئے کچھ نہیں۔ اس ملک میں چوبیس لاکھ شادی شدہ خواتین الگ رہتی ہیں مودی حکومت ان کیلئے کچھ نہیں کرتی۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!