Published From Aurangabad & Buldhana

تیس سالوں تک کی ملک کی خدمت ،عدالت نے بھی بتایا ہندوستانی ، پھربھی اجمل حق کو ملا "غیر ملکی "ہونے کا نوٹس

لوکل ٹربیونل نے محمد اجمل حق کو دستاویزات کے ساتھ 13 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

فوج میں 30 سالوں تک اپنی خدمات انجام دینے کے بعد اب ایک سابق فوجی افسر سے اس کے ہندوستانی شہری ہونے کا ثبوت مانگا جارہا ہے۔ آسام کے رہنے والے محمد اجمل حق جو نیئرکمیشنڈافسر ( جے سی او ) کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہیں مشتبہ "غیر ملکی "ہونے کے تحت ایک نوٹس ملا ۔ نوٹس میں اجمل حق سے ان کی ہندوستانی شہریت کے بارے میں معلومات اور دستاویزات مانگے گئے ہیں ۔

لوکل ٹربیونل نے محمد اجمل حق کو دستاویزات کے ساتھ 13 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اجمل حق 1971 میں مناسب دستاویزات کے بغیر ہی ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔

اس سلسلہ میں محمد اجمل کا کہنا ہے کہ میں نے 30 سالوں تک ہندوستانی فوج میں اپنی خدمات انجام دیں۔ 2012 میں بھی مجھے "مشتبہ غیر ملکی "بتاتے ہوئے نوٹس دیا گیا تھا ، اس وقت میں نے سبھی دستاویزات جمع کرادئے تھے ۔ عدالت نے مجھے ہندوستانی شہری بھی اعلان کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اب دوبارہ مجھے ایک اور نوٹس بھیجا گیا ہے ۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ جب پہلے میں سبھی دستاویزات جمع کر چکا ہوں اور عدالت نے بھی مجھے ہندوستانی شہری اعلان کردیا ہے ، تو پھر بار بار ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ ۔ اجمل نے کہا کہ انہوں نے صدر جمہوریہ ، وزیر اعظم اور وزات داخلہ سے اس معاملہ کو پوری طرح سے سلجھانے کی گزارش کی ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!