Published From Aurangabad & Buldhana

توہین مذہب و رسالت کے مقدمات کا ریکارڈ اندراج

ایسے افسوناک واقعات رونما ہونے کے باوجود بھی ملک میں توہین مذہب اور توہین رسالت کے مقدمات کے اندراج میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ اس طرح کے زیادہ تر مقدمات ذاتی عناد و رنجش یا جائیداد کی جھگڑوں کی وجہ سے درج کئے جاتے ہیں۔

اعداد و شمار بتاتی تازہ رپورٹ
سینٹر فار سوشل جسٹس کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوہزار بیس میں توہین مذہب و توہین رسالت کے ریکارڈ مقدمات درج ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر گزشتہ برس دوسو مقدمات درج ہوئے جب کہ سن انیس و ستاسی سے دوہزار بیس تک مجموعی مقدمات کی تعداد اٹھارہ سو ہے۔ دو ہزار بیس میں درج ہونے والے یہ مقدمات کسی بھی سال کے حساب سے سب سے زیادہ ہیں۔

توہین مذہب و توہین رسالت کے ان مقدمات میں سے ستر فیصد شیعہ مسلمانوں کے خلاف، پانچ فیصد سنی مسلمانوں کے خلاف، تین فیصد مسیحیوں کے خلاف، ایک فیصد ہندووں کے خلاف جب کہ صفر اعشاریہ پانچ فیصد ایسے افراد کے خلاف درج ہوئے ہیں، جن کی مذہبی شناخت معلوم نہیں ہو سکی۔

فرقہ وارانہ رنگ
پاکستان کے حوالے سے عام تاثر یہ ہے کہ اس طرح کے زیادہ تر مقدمات ملک کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف بنتے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کے مقدمات کی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کے ہی خلاف ہے۔ تاہم دو ہزار بیس میں ان مقدمات کا ایک فرقہ وارانہ رنگ بھی نظر آرہا ہے۔

سینٹر فار سوشل جسٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کا ایک فرقہ وارانہ رنگ ہے۔ ”زیادہ تر مقدمات جولائی اور ستمبر کے درمیان میں درج ہوئے ہیں، جو محرم سے پہلے یا اس کے بعد کے ہیں۔ تو اس کا واضح طور پر فرقہ وارانہ رنگ نظر آتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس حوالے سے خود اپنے بھی اعدادوشمار لے کر آئے تاکہ صیح صورت حال کا اندازہ ہو۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک نیا رجحان ہے، جس سے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ ”یورپ نے فرقوں کی بنیاد پر اسی لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا لیکن پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ رواداری کو اپنایا جائے اور مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا جائے۔‘‘

پنجاب اسمبلی کا قانون
کئی ناقدین کا خیال ہے کہ پنجاب اسمبلی کی طرف سے منظور کئے گئے ایک مذہبی بل نے ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کی ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر اس طرح کے مقدمات قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔

تحفظ بنیاد اسلام بل دوہزار بیس گزشتہ برس پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ یہ بل پنجاب اسمبلی نے گزشتہ برس جولائی میں منظور کیا تھا، جس کے بعد، ناقدین کے خیال میں، اس طرح کے مقدمات کے اندراج میں تیزی آئی ہے۔ اس بل کو ابھی تک قانونی حیثیت نہیں ملی کیونکہ ملک کے کئی حلقوں نے اس بل کی مخالفت کی، جس کے بعد گورنر پنجاب نے اس پر ابھی تک دستخط نہیں کئے ہیں۔ تقریبا دو سو کے قریب مورخین، وکلا، سیاسی کارکنان اور دیگر افراد نے اس بل کے خلاف پنجاب اسمبلی کو گزشتہ برس ایک خط بھی لکھا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکن راشد رضوی کا خیال ہے کہ اس بل نے فرقہ وارانہ عناصر کی حوصلہ افزائی کی۔ ”پولیس نے ان ہی کے دباؤ پر ایسے مقدمات درج کئے۔ یہاں تک کہ کچھ بچوں پر بھی ایسے مقدمات درج ہوئے اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کا بھی اضافہ کیا گیا تاکہ نہ صرف یہ کہ ضمانت نہ ہو سکے بلکہ سزاوں کو بھی یقینی بنایا گیا۔‘‘

انتظامیہ کہاں کھڑی ہے
کئی انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ان مقدمات اور واقعات میں انتظامیہ عموماﹰ مذہبی گروہوں کے دباؤ میں آجاتی ہے۔ پیٹر جیکب کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقدمات کے اندراج سے پہلے ایس ایس پی لیول کے افسر کی طرف سے تفتیش ضروری ہے۔ ”لیکن پولیس افسران ان معاملات میں ڈر جاتے ہیں کیونکہ الزام لگنے کے فوراﹰ بعد تھانے کا گھیراؤ کر لیا جاتا ہے تو پولیس مجمع کو منتشر کرنے کے لئے یا ان کا ٹھنڈا کرنے کے لیے مقدمہ فورا درج کر لیتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی افسر تفتیش بھی کرے تو پولیس کی قانونی برانچ اسے مقدمہ درج کرنے کا مشورہ ہی دیتی ہے۔‘‘

راشد رضوی کا کہنا ہے کہ اب یہ رجحان بن گیا ہے کہ الزام لگاؤ اور پھر پولیس کا گھیراؤ کرو۔ ”ہم یہ کہتے ہیں کہ ایف آئی آر درج کرنے سے پہلے عدالت سے اجازت لی جائے اور وہ اس کی بھرپور تفتیش کرائے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ آسیہ بی بی اور دوسرے مقدمات میں کیا ہوا۔ ایسے بیشتر مقدمات صرف ذاتی عناد اور چھوٹے موٹے جھگڑوں کی بنیاد پر قائم کئے جاتے ہیں۔‘‘

غلط استعمال کو روکنے کی ضرورت
انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت سزائیں ہونی چاہیے۔ ”اس طرح کے مقدمات میں جن افراد کے خلاف سب سے زیادہ مقدمات درج ہوئے ہیں، وہ خود مسلمان ہیں۔ سات مسلمانوں کو، جن پر یہ الزامات تھے، عدالت سے آتے ہوئے یا جاتے ہوئے یا باہر قتل کردیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ابھی تک کسی ایسی سزا کو برقرار نہیں رکھا۔ نچلی عدالتیں سزائیں ضرور دیتی ہیں لیکن وہاں خوف و دباؤ کا عنصر ہوتا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کو روکنے کے لیے جو شخص غلط الزام لگائے اس کے خلاف بھی سخت سزا ہونی چاہیے۔ ”ماضی میں ایسی تجاویز آئیں کہ الزام لگانے والے کا اگر الزام غلط ثابت ہوجائے تو اسے سخت سزا دی جائے لیکن مذہبی تنظیموں کی طرف سے اس کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ لیکن بڑھتے ہوئے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس کے غلط استعمال کو ہر صورت روکا جائے۔‘‘

پیڑ جیکب کا کہنا ہے کہ اس کے غلط استعمال کے خلاف بھرپور بیانیہ آنا چاہیے تاکہ حکومت مناسب اقدامات اٹھا سکے۔

حکومت کا موقف
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے میں کوشاں ہے۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے مشرقی وسطیٰ اور بین المذاہب ہم آہنگی طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے نے اس حوالے سے ایک طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔ ”ہم نے علما کی ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے، جو اس طرح کے واقعات کی تفتیش کرتی ہے۔ اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ تو وہ پاکستان علماء کونسل یا مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ ہم سب کو پاکستان کا شہری سمجھتے ہیں اور کسی کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!