Published From Aurangabad & Buldhana

توبہ کی حقیقت

حامد علی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بلاشبہ اللہ اپنے بندے کی توبہ سے، جب وہ اس کی طرف پلٹ کر آجاتا ہے، بہت خوش ہوتا ہے۔ اْس (مسافر) سے زیادہ خوش، جس کی سواری (اونٹنی) جنگل بیابان میں اْس کے ہاتھ سے چھوٹ کر کہیں غائب ہوگئی، اْس (اونٹنی) پر اْس کے خورونوش کا (سارا) سامان بھی تھا (اس نے اِدھر اْدھر بہت تلاش کیا، مگر وہ کہیں نہ ملی) آخر ناامید ہوکر وہ ایک درخت کی چھاؤں میں آکر پڑ رہا، وہ اْس (سواری کے ملنے) سے قطعی مایوس ہوچکا تھا۔ شدتِ یاس کا یہی عالم تھا کہ یکایک وہ دیکھتا ہے کہ اْس کی اونٹنی اْس کے پاس کھڑی ہے! اْس نے (جھٹ) اونٹنی کی نکیل اپنے ہاتھ میں لے لی اور شدتِ مسرت سے (بے اختیار ہاتھ اْٹھا کر)کہہ اْٹھا_____
’’اے اللہ! تْو میرا بندہ ہے! میں تیرا رب ہوں!!‘‘
کہنا کچھ چاہتا تھا مگر مارے خوشی کے کہہ کچھ گیا!
______اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اِس سے کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے!!‘‘’’جب وہ اس کی طرف پلٹ کر آجاتا ہے‘‘، یہ الفاظ توبہ کی حقیقت پر بہت عمدگی کے ساتھ روشنی ڈالتے ہیں۔ نافرمانی کرکے انسان اللہ کی رضا کی راہ سے منہ موڑ کر شیطان کی پیروی کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے جو راہِ خدا سے بالکل متضاد سمت میں واقع ہے۔ توبہ کا مفہوم اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو، ایسا شدید احساس جو اْسے شیطان کی راہ سے ہٹنے اور شیطانی چنگل سے اپنے آپ کر چھڑانے پر آمادہ و مجبور کردے اور وہ اللہ کی رضا کی اْس راہ پر اپنے آپ کو پھر سے ڈال دے، جس کو اْس نے غلطی سے چھوڑدیا تھا133 اور اللہ کی نافرمانی سے کلیتاً باز آکر اْس کا اطاعت گزار اور وفا شعار بن جائے133یہ توبہ کی حقیقت ہے، جو اگر پیدا نہ ہو تو زبان سے توبہ توبہ کرنے سے کچھ حاصل نہیں۔ عرب کے ریگستانی سفر کی کیفیت ذہن میں لائیے۔ ریلوے لائن نہیں، پختہ اور خام سڑکیں نہیں، سفر کے لیے کسی قسم کی سہولتیں نہیں133 ایک شخص لق و دق بیابان میں جہاں نہ پانی ہے، نہ کھانے کا سامان، نہ انسانوں کا گزر133 اپنی اونٹنی پر تنِ تنہا چلا جارہا ہے، یہی اونٹنی اس کی سواری ہے، اسی پر اْس کے پینے کا پانی ہے، اسی پر اْس کے کھانے کا کچھ سامان ہے، یہ اگر کھو جائے تو اس کے لیے ہر طرف موت ہی موت ہے، کیونکہ وہ پیدل اس سفر کو قطع نہیں کرسکتا، کوئی سواری اْسے مل نہیں سکتی، کھانے اور پینے کو اْس کے پاس کچھ نہیں، اور ملنے کی کوئی شکل بھی نہیں، اس لیے اس کا حشر اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ شدید گرمی، بادِ سموم اور ریگستان کے موت آفریں طوفان کی نذر ہوجائے، بھوک اور پیاس سے تڑپ تڑپ کر جان دے دے، اس کی لاش کو ریت کے طوفان اپنے تھپیڑوں میں لے کر کسی ریت کے ٹیلے میں گم کردیں اور اس طرح اْس کا نام و نشان تک مٹ جائے۔ کتنا ہولناک ہے یہ انجام! اور کتنی یاس انگیز ہے یہ حالت!!’’آخر نااْمید ہوکر وہ ایک درخت کی چھاؤں میں آکر پڑرہا‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تھک کر بس لیٹ گیا۔ بلکہ یہ ہے کہ اْس نے زندگی سے مایوس ہوکر درخت کے نیچے اپنے آپ کو ڈال دیا کہ اب تو مرنا ہی ہے۔ چنانچہ بعض روایات میں اس کی صراحت ہے کہ اس نے سوچا کہ اب تو مجھے مرنا ہی ہے اس لیے مجھے درخت کے نیچے پڑجانا چاہیے اور جب وقت آجائے مرجانا چاہیے۔وہ اس ہلاکت آفریں حالت اور شدتِ یاس کے عالم میں اونٹنی پاکر کس قدر خوش ہوا ہوگا اس کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا! بہرحال یہ شخص ایک مومن انسان تھا، اس کا دل اللہ کی اس پروردگاری کو دیکھ کر اس کے شکر سے لبریز ہوگیا، اس نے فی الفور اْس کا شکر ادا کرنے کے لیے زبان ہلائی اور ہاتھ اْٹھادیے، لیکن خوشی نے اْسے نیم دیوانہ کردیا تھا، اس کی زبان نے اس کا ساتھ نہ دیا، صرف چند الفاظ اس کے منہ سے نکلے اور وہ بھی الٹے ہوگئے، وہ اللہ کی ربوبیت و پروردگاری کا اعتراف کرنا چاہتا تھا، یعنی اسے یہ کہنا تھا کہ ’’اے اللہ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں‘‘ مگر خوشی کے عالم میں اس کی زبان لڑکھڑاگئی اور وہ کہہ گیا ’’اے اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں‘‘133اور ظاہر ہے کہ اس طرح کی چوک پر کوئی گرفت نہیں ہے۔’’اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے‘‘133 اللہ اکبر! اللہ کی رحمت و شفقت کا کوئی ٹھکانا ہے!! مسافر کو اگر اْس کی کھوئی ہوئی اونٹنی مل جائے تو فرطِ مسرت سے اس کے ہوش و حواس کا گم ہوجانا ایک فطری بات ہے، اْس کی نظروں کے سامنے اس کی کرب انگیز موت ناچ رہی تھی کہ اونٹنی زندگی کا سامان لے کر سامنے آگئی، مگر اللہ کو بندے کی توبہ سے اتنی بلکہ اس سے بھی زیادہ خوشی کیوں؟ بندہ، اگر اللہ کی نافرمانی سے باز آئے گا اور اس کی اطاعت میں لگ جائے گا تو فلاحِ ابدی اْسی کو نصیب ہوگی۔ رہا اللہ، تو اس کی نافرمانی سے نہ اللہ کا کوئی نقصان ہے اور نہ اْس کی توبہ سے اللہ کو کوئی فائدہ۔ پھر بھی وہ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کی توبہ سے اس مسافر سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہوں133 ظاہر ہے، اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے نوازنا چاہتا ہے، وہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے133 اْس کی پیدا کی ہوئی بہترین مخلوق اس کے عذاب کا شکار ہوں۔ مگر بندے اْس کی نافرمانی کر کر کے اپنے آپ کو اس کے غضب اور عذاب کا مستحق بنائے چلے جاتے ہیں۔ اسی عالم میں جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ ایک خطا کار بندہ جو اس کے عذاب کی طرف بڑھ رہا تھا اسے توبہ کی توفیق نصیب ہوگئی، تو اسے بے حد خوشی ہوتی ہے، خوشی اس بات سے کہ اب اْس کا بندہ اْس کے عذاب سے بچ جائے گا اور اس کی رحمتوں سے مالامال ہوسکے گا۔ کتنا رحیم و کریم ہے وہ آقا! اور کتنے احمق ہیں وہ لوگ جو اس کی نافرمانیوں پر اصرار کرتے ہوئے اْس کے عذاب کی طرف تو بڑھتے چلے جائیں مگر توبہ کرکے اْس کی بے حد و حساب رضا اور بے پایاں رحمت کو سمیٹنے کا سامان نہ کریں!!

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!