Published From Aurangabad & Buldhana

تمل ناڈو : خاتون کے پیٹ میں تھا ٹیومر ، حاملہ بتاکر مہینوں علاج کرتے رہے سرکاری اسپتال کے ڈاکٹر !۔

تمل ناڈو کے ایک سرکاری اسپتال میں پیٹ کے ٹیومر کا علاج ، حمل کے طور پر کرنے کے بعد متاثرہ خاتون نے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کرنے اور پانچ لاکھ روپے کے جرمانہ کا مطالبہ کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ جسٹس ٹی راجا کی عدالت میں جمعہ کو یہ معاملہ پیش کیا گیا تھا ۔ انہوں نے سرکاری وکیل سے خاتون کی میڈیکل رپورٹ کے سلسلہ میں کچھ وضاحتیں طلب کی ہیں۔ معاملہ کی اگلی سماعت اب دوہفتہ کے بعد ہوگی۔

عرضی میں شکایت کنندہ نے کہا ہے کہ مدت حیض میں بے ضابطگی محسوس کرنے کے بعد وہ مارچ 2016 میں اسپتال گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ وہ حاملہ ہے اور نومبر میں زچگی ہوگی۔

وقت پورا ہونے کے بعد بھی جب خاتون کو درد زہ نہیں ہوا تو وہ دوبارہ اسپتال گئی ۔ ڈاکٹروں نے پھر اس کا اسکین کیا اور بتایا کہ بچہ بالکل ٹھیک ہے ۔ اس کو مزید کچھ دن انتظار کرنے کیلئے کہا گیا ۔

خاتون کے مطابق 21 نومبر کو اس کے پیٹ میں شدید درد ہوا ، جس کے بعد اس کو اسپتال میں بھرتی کرایاگیا ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ وہ اس وقت حیران رہ گئی جب ڈاکٹروں نے اس کو بتایا کہ وہ حاملہ نہیں ہے اور اس کے پیٹ میں ایک چھوٹا سا ٹیومر ہے۔ اس کے بعد عرضی گزار ایک پرائیویٹ اسکین سینٹر گئی جہاں بھی اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ حاملہ نہیں ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!