Published From Aurangabad & Buldhana

تمام دہشت گردی کے واقعات کو سیمی سے نہیں جوڑا جاسکتا: جسٹس گپتا

سیمی سے اگر پابندی ختم ہوتی ہے تو وہ دوبارہ جمع ہوسکتے ہیں: ریاستی اینٹیلی جنس افسر

اورنگ آباد: ریاستی اینٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ (SID)کے نائب کمشنر نثار تنبولی نے خصوصی UAPAٹربیونل سے معزولی کے بعد کل بروز سنیچر کو کہا کہ اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (SIMI) دوبارہ اپنا کام شروع کرسکتی ہے اگر اس پر سے پابندی ہٹ جاتی ہے۔
تنبولی مہاراشٹر حکومت کے افسر ہیں۔جن کے تحت ممبئی شہر اور ریاستی ATSکے علاوہ پوری ریاست آتی ہے۔ ایڈیشنل سولیسیٹر جنرل آف انڈیا پنکی آنند کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں تنبولی نے کہا کہ” سیمی پر پابندی ضروری تھی اس لئے کہ پولس نے مہاراشٹر میں سیمی اراکین پر کنٹرول بنائے رکھا تھا۔تمبولی نے مزید کہا کہ اگر سیمی اراکین غیر قانونی کاروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں تو پولس ان پر کاروائی کر سکتی ہیں۔اگر پابندی ہٹائی جاتی ہے تو سیمی مختلف ناموں کے ساتھ نئے لوگوں کو لیکر نئی تنظیم بنا سکتی ہے“۔

سماعت کے دوسرے دن ٹربیونل جس کی صدارت دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس مکتا گپتاکر رہی ہیں نے بتایا کہ تمام دہشت گرد کاروائیوں کو سیمی سے نہیں جوڑا جاسکتا، وہ دوسری تنظیموں کی جانب سے کیے گئے ہوسکتے ہیں۔پولس افسران کی جانب سے دیے گئے ثبوتوں کی چھان بین کرنا ضروری ہے۔

سیمی سے متعلق ٹریبیونل کی سماعت ساوتری بائی پھولے یونیورسٹی کے کالج و یونیورسٹی ٹربیونل میں جاری تھی۔ ٹربیونل کو ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ ملک بھر میں عوامی سماعتیں کر مرکزی وزارت برائے داخلی امور کے پابندی مزید 5سال بڑھائے جانے کے فرمان پر رائے پیش کرے۔

تنبولی نے 8مختلف معاملات میں سیمی کے خلاف ثبوت پیش کیے تھے۔تنبولی کے مطابق سیمی سے جڑے مشتبہ افراد کے پاس سے اہم ثبوت جیسے کمپیوٹرس ولٹریچر ملے ہیں۔سیمی پر UAPAکے تحت لگے تمام مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!