Published From Aurangabad & Buldhana

تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر کا استعفی، اسمبلی تحلیل کرنے کی قرارداد منظور

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ چاہتے ہیں کہ سال کے آخر میں 4 ریاستوں میں ہونے والے چناؤ کے ساتھ ہی ان کے صوبہ میں بھی چناؤ ہوں، لہذا انہوں نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

حیدرآباد: گزشتہ کئی دنوں سے تلنگانہ میں قبل از وقت انتخابات کرانے کی خبروں کے گشت کرنے کے بعد آج آخر کار کابینہ سے قرارداد منظور ہونے کے بعد ریاستی اسمبلی کی تحلیل کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنا استعفی گورنر کو سونپ دیا ہے جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

گورنر نرسمہن نے کے سی آر کو کارگزار وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا ہے۔آج ریاستی کابینہ کااجلاس وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں یہ فیصلہ لیاگیا۔ اجلاس تقریبا 4.30 منٹ میں ہی ختم ہوگیا۔ قرارداد پر وزیراعلی کے چندرشیکھرراو نے دستخط کئے۔

اس اجلاس کے فوری بعد وزیراعلی کے چندرشیکھرراو خصوصی بس کے ذریعہ ریاستی وزرا کے ساتھ گورنر نرسمہن سے ملاقات کرنے کیلئے راج بھون پہنچے جہاں انہوں نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کی کابینہ میں منظورہ قرارداد کی نقل گورنر کے حوالے کی، جسے انہوں نے منظور کر لیا۔

کے سی آر نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کی وجوہات کے ساتھ ساتھ دیگر تمام صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل سے گورنر کو واقف کروایا۔ گورنر سے ملاقات کے فوری بعد وزیراعلی اسمبلی کے روبر و واقع گن پارک پہنچے جہاں انہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران جان کی قربانی دینے والوں کی یادگار پر پھول نچھاور کئے۔ اس طرح اب ریاست میں جلد انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ ریاستی اسمبلی کے انتخابات لوک سبھا کے انتخابات کے ساتھ ہونے والے تھے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!