Published From Aurangabad & Buldhana

تحریک آزادی میں اردو صحافت کا اہم کردار

تحریک آزادی میں اردو صحافت نے قابل تعریف کردار ادا کیا ہے اور اس دور میں لوگ اپنے غصے کا اظہار مختلف انداز میں کر رہے تھے اور حکومت سے باغی ہو چکے تھے اس وقت اردو صحافت نے ایک راستہ دکھایا ۔

ہندستان کی تحریک آزادی میں اردو صحافت نے قابل تعریف کردار ادا کیا ہے۔ اس دور میں لوگ اپنے غصے کا اظہار مختلف انداز میں کر رہے تھے اور حکومت سے باغی ہو چکے تھے۔ یہ باغیانہ جنون دن بہ دن بڑھتا جا رہا تھا۔ برطانوی حکومت کے ظلم و ستم بڑھنے کے باعث ملک کے دانشوروں، عالموں، شاعروں، مفکروں اور وطن پرستوں نے یہ محسوس کیا کہ اب صبر کا باندھ ٹوٹ چکا ہے اور یہ لڑائی ہم سب کو مل کر وسیع پیمانے پر لڑنی ہوگی، عوام کو یکجا کر کے ہم فکر لوگوں کی جماعت بنائی جائے۔ اس کا با اثر ذریعہ صحافت ہی تھی۔

صحافت کا معاشرے سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے جو کہ سماج پر پوری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ ان وطن پرستوں نے اپنے احساس کو قلم کی طاقت بخشی اور اس طرح اردو صحافت نے ایک تحریک کی شکل اختیا ر کرلی جس سے عوام کو بیدار کرنا بہت آسان ہو گیا۔ اس بات کی تصدیق اپنے زمانہ کے معروف شاعر اکبر الہ آبادی کے اس شعر سے ہوتی ہے:

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو

اردو صحافت کے ابتدائی دور میں کوئی بھی اخبار روزنامہ کے طور پر شائع نہیں ہوتا تھا۔ یہ ہفتہ روزہ، سہ روزہ، ماہا نہ ہوتے تھے۔ ان اخباروں میں جو خبریں شائع ہوتی تھیں وہ انگریزی اخبار سے لی جاتی تھیں۔ اردو اخبارات کے محدود ذرائع کی طرح ان کی تعدادِ اشاعت بھی محدود تھی ۔اردو کا پہلا اخبار’جامِ جہاں نما‘ تھا جو کلکتہ کی سر زمین سے 1823 میں منظرعام پر آیا۔

جام ِجہاں نما ہفتہ واری اخبار تھا جسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی ضرورت کے تحت نکلوایا تھا۔ اسے کبھی اردو کبھی فارسی کبھی دونوں زبانوں میں شائع کیا گیا۔ ’جام ِجہاں نما‘ کے سلسلے میں خاص بات یہ ہے کہ اس کے مالک ہری ہردت تھے اور ایڈیٹر لالہ سدا سکھ تھے۔ ابتداء میں اس کا پرنٹر ایک انگریزولیم ہوپ کنگ تھا۔ ص79 (اردو صحافت آزادی کے بعد) چنانچہ 1823سے 1857 کے غدرتک اردو میں 122 اخبارات شائع ہونے کا سرکاری ریکارڈ آج بھی موجود ہے۔1857 کے غدر کی ناکامی کے بعد 1858 سے 1900 تک 400 سے زائد اردو اخبارات وجود میں آچکے تھے۔ اردو صحافت اپنے آغاز کے وقت بھی ملک میں تیسرے نمبر پر تھی اور آج بھی اردو اخبارات تیسرے مقام پر ہی قائم ہیں۔

بال مکند (ایڈیٹراخبار بھارت متر کلکتہ) نے 1904 میں بڑی دلچسپ بات لکھی تھی وہ یہ کہ:

” ہندی اخباروں کے ریویو کا خیا ل دل میں آتے ہی پہلے اردو اخبار کی طرف نگاہ جاتی ہے کیوں کہ اردو اخبارات ہندی اخبارات سے پہلے جاری ہوئے اور پہلے ہی انہوں نے ترقی کے میدان میں قدم آگے بڑھایا ۔ظاہرہے اردو اور ہندی میں اس وقت بڑی ناچاقی ہے اردو کے طرفدار ہندی والوں کو اور ہندی کے طرفدار اردو والوں کو ذرا ترچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر حقیقت میں اردو اور ہندی کا بڑا میل ہے یہا ں تک کہ ایک ہی شہ کہلانے کے لائق ہیں جس نے فارسی رسم الخط کا جامہ پہننے سے اردو نام پایا وہی دیوناگری کے لباس میں ہندی کہلائی ۔ص۸۰(اردو صحافت آزادی کے بعد)۱۸۲۳سے ۱۹۰۰ تک شائع ہونے والے تقریبا ً۲۵فیصد اردو اخبارات کے مالک ہندو تھے ۔قارائین میں ہندوؤں کی تعداد۲۵سے۶۰فیصد تک تھی ۔۱۸۲۳سے۱۸۵۷تک شائع ہونے والے اخبارات کی سرپرستی برطانوی سرکار کرتی تھی اور بیشتر کاپیاں خود خریدتی تھی ۔اس کے باوجود اردو اخبارات نے جذبات بر انگیختہ کرنے والی نظمیں اور باغیانہ مضامین شائع کئے ۔ہندوستانیو ںپر انگریزوںکے مظالم کو نمایاں انداز میں شائع کیا۔

۱۸۳۰میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اردو کو ہندستان کی سرکاری زبان بنایا جبکہ اس سے قبل فارسی سرکاری زبان تھی اور عوام میں اردو پہلے سے ہی رائج تھی ۔اسی دوران اخبار جاری کرنے پر لگی پابندی بھی ۱۸۳۶میں ہٹا دی گئی جس سے نئے اخبارات کی اشاعت کی راہیں آسان ہو گئیں۔معروف اردو اخبار ’دہلی اردو اخبار‘۱۸۳۷میں دہلی سے ’مولوی محمد باقرشہیدؒ ‘نے جاری کیا ۔یہ ہفتہ روزہ اخبار تھا ۔مولوی محمد باقرشہیدؒ نے اپنے اخبار کے ذریعے کئی نئی ایجادات کیں اور صحافت کے جدید رجحانات کو آگے بڑھایا ۔مولوی باقر ملنسار تھے ‘ان کے حلقہ احباب میںسبھی مذہب کے لوگ شامل تھے ۔جب دہلی میں غدر کی چنگاری پہنچی اور عوام بے قابو ہو گئی تو ان کا غیض و غضب دہلی کالج کے پرنسپل اور ایسائی مبلغ مسٹر ٹیلر پر بھی ٹوٹا اس وقت یہ مولانا کے گھر جا چھپا اور مولانا نے اسے تین دن تک اپنے گھر میں پناہ دی لیکن گھر سے نکلتے ہی چند لوگوں نے اسے مار دیا مرنے سے قبل وہ مولوی باقر کو چند کاغذات خفیہ کوڈ میں دے گیا تھا جس میں مولوی صاحب کو مارنے کے بارے میں لکھا تھا۔ان کی شہادت کے تعلق سے دو الگ الگ روایتیں ہیں جن میںسے ایک جو کم معروف ہے وہ یہ ہے کہ باقر جب کمپنی کے دفتر گئے تو ان سے ٹیلر کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے جواب دیا ان کو مار دیا گیا ‘اس بات پر انگریز افسر بھڑک گیا اور اپنی پستول سے ہی مولوی صاحب کو گولی مارکر شہید کر دیا۔ایک دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ دہلی گیٹ کے پاس توپ کے گولے سے ۷۷سالہ عظیم صحافی کو شہید کیا گیا ۔

باقر پہلے صحافی تھے جنہوں نے ملک کی آزادی کی خاطر جان کی قربانی دی ۔ص۱۸۸(اردو صحافت آزادی کے بعد)تحریک آزادی میں اردو صحافت نے اپنا ایک نمایاں اور اہم کردار ادا کیا ہے۔ انقلابی جذبات کو ابھارنے اور عوامو خاص کو خبر سے با خبر کرنے کا اہم کارنامہ اردو صحافت نے بڑی کامیا بی اور لیاقت کے ساتھ انجام دیا ۔”ہندستان کی جدو جہد آزادی میں جن چند اور خاص اخباروں کا رول رہا ان میں سے ایک خاص نام لکھنؤسے شائع ہونے والا اخبار "اودھ پنچ "کا ہے۔”منشی سجاد حسین کی نگرانی میں ۱۸۷۷میں جاری ہو ا ۔اس کے جاری ہوتے ہی تحریک آزادی میں جان آگئی تھی ‘اس اخبار نے تحریرو ں کے ذریعے کمپنی کی نگرانی اور برطانوی حکومت کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کردیا تھا ۔اس وقت کے نامور دانشوران ‘صحافی ‘ادبائ اورشعرائ نے اس میں اپنے قلم کی تلواریں چلا کر انگریزی حکومت کی ناک میں دم کئے رکھا ۔ان مشہور شخصیات میں ۔

مولوی محمد باقرشہیدؒ کے فرزندمحمد حسین آزاد ‘احمد علی شوق ‘پنڈت تربھون ناتھ ہجر ‘رتن ناتھ سرشار ‘ منشی جوالہ پرشاد برق ‘اکبر الہ آبادی جیسے نام شامل ہیں۔اردو صحافت کے پروانوں پر یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہو چکی تھی کہ صحافت ہی وہ طاقت ہے جو عوام کو ہر راز سے اورہرحقیقت سے وابستہ کرا سکتی ہے ۔اس کے ذریعہ ہی اپنے احساسات وتا ثرات کو ظاہر کیا جا سکتا ہے اور مقاصد کو راہ تقویت حاصل ہو سکتی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ انگریز ی حکومت کی تمام چالبازیوں اور ان کے مقاصد ‘ان کی کارستانیوں سے بھی خبر دار کرایا۔

نہ ہو مغرورگر مائل بابی ہو سلطانی
یہ بھی اک صورت ہے تجھے غافل بنانے کی
گئے وہ دن کہ تو زنداں میں جب آنسوں بہاتا تھا
ضرورت ہے قفص پر اب تجھے بجلی گرانے کی
(جوش ملیع آبادی)

’شیر محمد امین ‘ لکھتے ہیں کہ ۱۸۵۷کی جنگ آزادی بلکہ اس سے بھی پہلے سے لے کر ۱۹۴۷کے حصول آزادی تک اردوصحافت نے آزادی اور قومی اتحاد کی تحریک میں جو نمایاں رول ادا کیا ہے وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔یہ اردو صحافی ہی تھے جو سب سے پہلے برطانوی سا مراج کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ۔انہوں نے نہ صرف یہ کہ قیددبند کی صحبتیں برداشت کیں بلکہ مالی قربانیاں بھی دیں۔(شیر محمد خاں ۔تحریک آزادی میں اردو کا کردار ۔۲۰۰۶)اردو اخبارات ورسائل اس دور میں کثیر تعداد میں نظر آئے اور سماج میں بہتری لانے میں اردو اخبارات نے کلیدی کردار اداکیا۔لاہور کا ’’کوہ نور‘‘اور انقلاب ‘‘شمالی ہند سے ۱۸۵۷سے شائع ہورہا تھا جس میں انگریزوں کے خلاف بیانات شامل تھے ۔اس کے بعد ۱۸۵۷میں اردو کا پہلا روز نامہ اردو گائڈ ‘‘کلکتہ سے شائع ہوا ۔روز نامہ ’’پنجاب ‘‘لاہور سے جاری ہوا ۔وہیں سر سید احمد خاں‘‘کے اخبار سے اردو میں ایک معیاری صحافت کا آغاز ہو۔ا ان کے اخبار سائنٹفک سوسائٹی اور علمی جریدہ‘‘(تہذیب الاخلاق)جاری ہوا ‘محب وطن دہلی سے جاری ہوا۔اس دور کے بعد اخباروں کا ایک سنہرا اور جو شیلا دور شروع ہوا ۔یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں ظلم وستم کی انتہاہوچکی تھی اور عوام کے صبر کا باندھ ٹوٹ چکا تھا ۔اخباروں میں صاف گوئی اور بغاوت کا تیز رنگ نظر آنے لگا جس میں ’’زمیندار‘‘لاہور سے اور حسرت موہانی نے یکم جولائی ۱۹۰۳ئ کو علی گڑھ سے اپنا ماہانہ رسالہ ’’اردو معلٰی جاری کیا ۔اس رسالے کے پہلے ہی شمار ے کی خوبی یہ تھی کہ اس میں مکمل آزادی کا مطالبہ کردیا تھا ۔یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں سیاسی بیداری عروج پر تھی اور اس وقت کے تمام بڑے بڑے رہنما بھی اتنی بڑی جرأت نہ کرسکے کہ مکمل آزادی کا مطالبہ کریں ۔بظاہر اس رسالہ کا وہی حشر ہونا تھاجو ہوا آخرکار۱۹۰۸ئ میں برٹش حکومت کے خلاف مضمون میں بغاوت کے الزام میں پابندی کا اعلان ہوا اور مولانا کو قید کرلیا۔دو سال تک مولانا قید رہے ۔ان اخباروں نے برطانوی حکومت پرسخت وار کیا جس کے نتیجے میں ان پر پابندیاں عائد کردی گئیںمگر اس قدم سے اردو صحافت کے شعلوں کو اور ہوا ملی اور آگے چل کر اندازہ بغاوت اور انقلاب سے پر اخباروں کی جھڑی لگ گئی ‘‘لالہ لاجپت رائے نے سوراجیہ جاری کیا اس میں شاعروں نے بھی اپنی بے خوف بیانی سے کام لیا ۔

اہل زنداں کی یہ محفل ہے نبوت اس کا فراق
کہ بکھرکر بھی یہ شیرازہ پریشاں نہ ہوا
(فراق گورکھپوری)

مولانا ابوالکلام آزاد نے ۱۳جولائی ۱۹۱۲کو۱۶صفحات پر مشتمل ہفتہ وار ’الہلال‘اور ۱۲نومبر ۱۹۱۵کو البلاغ جاری کیا۔جس نے صحافت کو مزید توانائی بخشی مولانا آزاد ایک قابل عالم ومفکر اور مقرر تھے ۔ان کی بیباک بیانی ملت سے محبت اور وطن پرستی کے جنون نے آزادی کی لڑائی میں گھی کا کام کیا ۔مولانا نے اپنے مضامین سے مسلمانوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کی ۔آزاد نے اس وقت لسان الصدق،الا صلاح ،شبلی نے آئندہ ودار السلطنت کی ادرت کی اور ایک نئے باب کا آغاز کیا۔تحریک آزادی پورے ہندستان میں پھیل چکی تھی اور ہر طر ف سے بغاوت کے شولے برس رہے تھے ۔ادیبوں کی بے باک بیانی اور شاعروں کے جو شعلے نغمیں اسے تقویت پہنچا رہے تھے ۔اسی وقت منشی دیا نارائن نگم جو بہت قابل ادیب و صحافی تھے اردو ماہنامہ زمانہ کانپور سے شائع کیا تو وہیں مہاشیہ کرشن نے۱۹۱۹کو لاہور سے پرتاپ شروع کیا ۔۱۹۱۳میں محمد علی جوہر نے اپنا ٹائپ اخبار ہمدرد کا اجرائ کیا اس اخبار کا معیار بلند تھا وہیں ان اخباروں کی فہرست میں کئی بڑے نام بھی جڑے جن میں خلافت ‘سیاست ‘روزنامہ ہند ‘دور جدید‘اقبال ‘نئی دنیا ‘انقلاب وغیرہ جاری ہوئے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی اب بھی جاری ہیں اور خدمت انجام دے رہے ہیں۔ان سب اخباروںمیں جوشیلی تحریروں کے ساتھ ساتھ وطن پرستی اور قومی اتحاد کے جذبے سے لبریز نظمیں بھی شائع ہوتی تھیںجن میں خاص طور پر اکبر الہ آبادی ‘برج نارائن چکبست ‘فراق ‘جوش ملیع آبادی ‘علامہ اقبال ‘جاں نثار اختر ‘حالی ‘مولانا حسرت موہانی ‘مجا ز‘اسمٰعیل میرٹھی ‘شبلی ‘اشفاق اللہ خان کے نام قابل ذکر ہیں۔

آزادی کامل کا علم ہاتھ میں لے کر
میداں میں بجاتے ہوئے ایماںکا بگل جاؤ
برطانیہ کی میز سے کچھ ریزے گریں گے
اے ٹوڈیوں چننے انہیں تم پیٹ کے بل جاؤ

جنگ آزادی کی لڑائی میں اردو اخبارات کی خدمات نا قابل فراموش ہے ۔جب تک ہندستان کی آزادی کے بارے میں ذکر کیا جائے گا تو اردو اخبارات کا نام ضرور لیا جائے گا ۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھ نا ہے زور کتنا باز وئے قاتل میں ہے
مذہب کچھ ہو ہندی ہے ہم سارے بھائی بھائی ہیں
ہندوں ہیں یا مسلم ہیں یا سکھ ہیں یا عیسائی ہیں
پریم نے سب کو ایک کیا ہے پریم کے ہم شیدائی ہیں

بھارت نام کے عاشق ہیں ہم بھار ت کے سودائی ہیں(افسر میرٹھی)بڑی جدو جہد اور قربانیوں کے بعد ہندستان میں ۱۵اگست ۱۹۴۷کو آزادی کا سورج طلوع ہو ااور سب نے ملکر آزادی کا جشن بڑے زور وشوروں سے منایا ۔یہ اردو صحافت کی کوششوں اور کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے جس نے ہندستان کو آزادی دلانے میں اپنا ایک اہم کردار ادا کیا ۔
(محمد تسلیم )

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!