Published From Aurangabad & Buldhana

بی جے پی چھوڑنے کے میرے فیصلے کی وجہ سے اڈوانی جی کے آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن انہوں نے مجھے نہیں روکا: شتروگھن سنہا

نئی دہلی: کانگریس کے امید وار اور جانے مانے اداکار شتروگھن سنہا نے کہا کہ بی جے پی چھوڑنے کے ان کے فیصلے کی معلومات جب اڈوانی جی کو ملی تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ لیکن انہوں نے مجھے ایسا کرنے سے روکا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے اپنی سیاست کی نئی شروعات کرنے کا فیصلہ کیا تو میں نے پہلے اڈوانی جی کی دعائیں لی تھی۔ انہوں نے مجھے نیک خواہشات دی، وہ پرجوش تھے، ان کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن انہوں نے مجھے روکا نہیں۔ اڈوانی جی نے مجھے کہا، ٹھیک ہے، میں تم سے پیار کرتا ہوں۔
این ڈی ٹی وی سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ اٹل بہاری واجپئی جی کے وقت میں اور آج کے وقت میں زمین،آسماں کا فرق ہے۔ اس وقت ملک میں جمہوریت تھا اور آج ملک میں آمریت ہے۔ انہوں نے اےلکے اڈوانی جی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آج بی جے پی اپنے سینئر اور بزرگ رہنما ﺅ ں کے ساتھ صحیح سلوک نہیں کر رہی ہے۔ اڈوانی بی جے پی کے بانی ارکان میں سے ایک ہیں، انہیں اس بار بی جے پی نے گاندھی نگر سیٹ سے ٹکٹ نہیں دیا اور ان کی جگہ پارٹی نے اپنے صدر امت شاہ کو میدان میں اتارا ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی کے اس فیصلے سے اڈوانی کافی دکھی تھے۔ اڈوانی جی سے منسلک ایک ذرائع نے بتایا کہ اس فیصلے سے پہلے بی جے پی کے کسی بھی بڑے لیڈر نے ان سے رابطہ تک نہیں کیا۔ شتروگھن سنہا نے کہا کہ میں کبھی نہیں جھکوںگا، تاکہ وہ بیٹھنے کہیں تو بیٹھوں، کھڑا ہونے کہیں تو کھڑا ہو جا ﺅ ں۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا بالاکوٹ حملہ اس بار الیکشن میں کوئی اثر چھوڑنے والا ہے تو شتروگھن سنہا نے کہا کہ آج ہر ہندوستانی محب وطن ہے۔ آج پی ایم مودی سے آپ جب بھی بے روزگاری جیسے مسائل پر بات کرنا چاہتے ہیں وہ آپ کو پلوامہ کی یاد دلانے بیٹھ جائیں گے۔ وہ عوام کے اصل مسائل پر جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی 23 مئی کے بعد پی ایم نہیں رہیں گے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!