Published From Aurangabad & Buldhana

بی جے پی سینا نے مل کر ہندوتوا کو پھانسی دے دی

ڈاکٹر سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان

بی جے پی اور شیوسینا جب ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں تو مختلف بہانے بناتے ہیں لیکن ساتھ آتے وقت یکساں نظریہ کی بات ضرور کرتے ہیں ۔ وہ اپنی نظریاتی ہم آہنگی کا حوالہ دینے کے بعد کہتے ہیں کہ ہم لوگ ہندوتوا کی سربلندی اور ریاستی عوام کے فلاح و بہبود کے لیے ہوئے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ بظاہر یہ دونوں ہندوتوا کی حامل جماعتیں ہیں جن کا جن کلیان سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ بال ٹھاکرے ایک زمانے تک ملحدانہ عقائد کے حامل تھے لیکن جن سنگھ اور اس کے بعد بی جے پی کا ساتھ نبھاتے ہوے انہوں نے گیروا وستر دھارن کیا ۔ ان کے مزاج میں چونکہ شدت پسندی اور زبان کے اندر تلخی تھی۔ اس لیے وہ بہت جلد بی جے پی سے بڑے ہندو نواز رہنما بن گئے اور انہیں ہندو ہردیہ سمراٹ کے لقب سے نواز دیا گیا ۔ گویا گرو گڑ رہ گیا اور چیلا شکر بن گیا ۔ یہ اٹل جی اور اڈوانی کے زمانے کی بات ہے مگر مودی اور امیت شاہ کے بعد ادھو ٹھاکرے اور ادیتیہ کے مقابلہ بی جے پی زیادہ متشدد ہوگئی ہے ۔ فی الحال امیت شاہ کے ساتھ ساتھ دیویندر فردنویس کی رعونت اور گھمنڈ بھی آسمان کو چھو رہی ہے۔

پارلیمانی انتخاب کے بعد ہر کوئی بی جے پی اور سینا کے لیے ۲۰۰ سے زیادہ کی پیشن گوئی کررہا تھا لیکن اس انتخاب کا ٹرننگ پوائنٹ اس وقت آیا جب اجیت پوا ر کے گھر پر آئی ڈی نے چھا پہ مارا۔ وہ ایک دو دھاری تلوار تھی جس کا مقصد این سی پی کو کانگریس سے الگ کرکے تنہا انتخاب لڑنے پر مجبور کرنا تھا تاکہ بی جے پی بھی شیوسینا کو یکہ تنہا چھوڑ کر پچھلی مرتبہ کی طرح اپنے بل بوتے پر الیکشن لڑسکے ۔ اس ایک تیر سے دو شکار کرنے کے چکر میں بی جے پی خود گھائل ہوگئی۔ منیجمنٹ میں موانع کو مواقع میں بدلنے کی حکمت عملی سکھائی جاتی ہے لیکن بہت کم لوگ اس کا استعمال کرپاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موانع و مشکلات سے لوگ خوفزدہ ہوکر غلطیاں کرنے لگتے ہیں جس سے مخالف کا فائدہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ شرد پوار نے اس بار اپنا حوصلہ بلند رکھا اور بی جے پی کے داوں کو اس پر الٹ دیا ۔ انہوں نے مراٹھوں کی انا کو ابھار کر ذات پات کی عصبیت کا فائدہ اٹھایا ۔ اس طرح بی جے پی نے مراٹھا سماج کو ریزرویشن دے کر جو فائدہ حاصل کیا تھا اس کے اثرات زائل ہوگئے۔ اس بات کے حق میں دو ثبوت پیش کیے جاسکتے ہیں ۔

مراٹھا سماج کی سب سے زیادہ آبادی مغربی مہاراشٹر میں ہے اور وہی این سی پی کا گڑھ ہے۔ اس سے قبل چار انتخابات میں این سی پی کو اس علاقہ سے سولہ نشستیں حاصل ہوتی رہی ہیں ۔ ۲۰۰۴؁ میں جب اس نے سب سے زیادہ ۷۱ نشستیں جیتی تھیں اس وقت یہ تعداد ۱۶ سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی لیکن اس بار اکیس ہوگئی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی کی ایک حماقت نے وہ کرشمہ کردیا جو اس سے پہلے شرد پوار کے لیے ممکن نہیں تھا۔ دوسرا ثبوت اجیت پوار کو حاصل ہونے والے سوادو لاکھ ووٹ ہیں ۔ وہ اس سے پہلے بھی کامیاب ہوتے رہے ہیں لیکن ایسی کامیابی انہیں کبھی نہیں ملی۔ دیویندر فردنویس کو جس کسی نے بھی یہ احمقانہ مشورہ دیا ہوگا وہ ان سے چھپتا پھر رہا ہوگا اور اگر یہ ان کے اپنے دماغ کی اختراع ہے تو وہ کبھی بھی اپنے آپ کو معاف نہیں کرسکیں گے۔ اس دو دھاری تلوار نے دوسرا زخم یہ دیا کہ بی جے پی کے سب سے اہم حمایتی پسماندہ طبقات کو دور کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ گوپی ناتھ منڈے کی بیٹی پنکجا اور ایکناتھ کھڑسے کی بیٹی روہنی تک الیکشن ہار گئے۔ اسی طرح کی غلطی پر شاعر کہتا ہے ؎

شکست دے گیا اپنا غرور ہی اس کو ​​​
وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی مری

سنگھ پریوار کے نظریاتی دعووں کی قلعی بھی اس انتخاب نے کھول دی ۔ مہاراشٹر کے اندر بی جے پی کے کل ایک کروڈاڑتالیس لاکھ ارکان ہیں ۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جتنے ممبرس ہوتے ہیں ان کے علاوہ بھی بہت سارے لوگ رہنماوں کے سبب یا جذباتی نعروں کے بہاو میں ووٹ دے دیتے ہیں لیکن یہاں تو الٹا ہوگیا۔ اس الیکشن کے اندر بی جے پی کو صرف ایک کروڈاکتالیس لاکھ ووٹ ملے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پارٹی کے ۷ لاکھ ارکان نے بھی اسے ووٹ نہیں دیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری جماعتوں سے جو رہنما پارٹی میں آئے تھے ان کے ووٹرس کدھر گئے؟ ویسے جس پارٹی کے اپنے رجسٹرڈ ارکان اس کو ووٹ نہیں دیتے اس کو دوسروں سے توقع نہیں رکھنی چاہیے۔
بی جے پی اور شیوسینا اگر اپنے نظریات کے تئیں مخلص ہوتے تو انتخابی نتائج کے دوسرے ہی دن وہ ساتھ میں جاکر گورنر سے ملتے اور اگلے دن حلف برداری ہوجاتی ۔ اس لیے کہ دشینت چوٹالہ تو بی جے پی کے مخالف نظریات کا حامل ہے اس کے باوجود تیسرے دن حلف برداری ہوگئی جبکہ مہاراشٹر میں نو دن بعد بھی کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی ہے بلکہ ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں کی جارہی ہیں ۔ شیوسینا نے دباو بڑھانے کے لیے نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ مانگنے کے بجائے نصف مدت کار کے لیے وزارت اعلیٰ کا عہدہ پر اپنا دعویٰ ٹھونک دیا۔ اس کے جواب میں دیویندر فردنویس نے اخباری کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ بلا شرکتِ غیرے پوری مدت کار تک وزیر اعلیٰ رہیں گے ۔ بی جے پی اور سینا کی اس رسہ کشی نے ہندوتوا کا جنازہ اٹھا دیا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اسے زندہ درگور کردیا ہے۔

انتخابی نتائج کے ہفتہ بھر بعد جب بی جے پی کے ارکان اسمبلی کی نشست میں دیویندر فردنویس کو سربراہ چنا گیا تو ایسا ماحول تیار کرنے کی کوشش کی گئی گویا سارے مسائل حل ہوگئے۔ اس موقع پر سینئر صحافی راجدیپ سردیسائی نے سنجے راوت کا ٹیلی ویژن پر تمسخر اڑاتے ہوئے پوچھا کہ آپ لوگ ملائی دار وزارت کے لیے کیوں تماشہ کررہے ہیں؟ اس سوال کو سن کر راوت مدافعت میں آگئے اور کہہ دیا کہ میں نہیں جانتا ملائی دار وزارت کیا ہوتی ہے؟ حالانکہ انہیں پوچھنا چاہیے تھا کہ اگر دو طرح کی وزارتیں ہوتی ہیں تو انہیں دونوں ساجھی داروں میں تقسیم کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ دو بھائیوں کی ایک کہانی پڑھی تھی جن کے حصے میں وراثت کی ایک گائے آتی ہے ۔ ایسے میں چالاک بڑا بھائی چھوٹے سے کہتا تو بہت پیرا اس لیے گائے کا اگلا حصہ لے لے اور میں پچھلا حصہ لے لیتا ہوں ۔ چھوٹا سوچتا ہے اچھا گوبر وغیرہ کی صاف صفائی سے جان چھوٹ جائے گی لیکن بعد میں اسے احساس ہوتا ہے دودھ کا تھن بھی تو گائے کے پچھلے حصے میں ہی ہے۔ اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ بڑا بھائی دودھ ملائی کھائے اور چھوٹے بھائی کو چارہ کھلانے کی ذمہ داری سونپ دی جائے ۔ مودی یگ میں بڑا بھائی دودھ کے علاوہ گوبر اور گائے کا پیشاب بیچ کر بھی روپیہ بناتا ہے۔
پچھلی مدت کار میں بی جے پی نے شیوسینا کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر اس کے ساتھ یہی سلوک کیا لیکن اب شیوسینا کو انتقام لینے کا موقع ملا ہے اور وہ بی جے پی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہی ۔ بی جے پی نے اگر شیوسینا کے ساتھ شفقت کی ہوتی تو آج اس کو بڑے بھائی کی عزت ملتی لیکن بی جے پی نے جو بویا تھا وہی کاٹ رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دوسرے ہی دن دشینت سنگھ سے رابطہ کرکے اس کو راضی کرنے والی بی جے پی نے ابھی تک شیوسینا کو گفت و شنید کے لیے بلانے کی زحمت نہیں کی ہےکیونکہ اس کے ارادے نیک نہیں ہیں ورنہ بی جے پی کے ایوان بالا میں رکن سنجے کاکڑےکھلے عام یہ اعلان نہ کرتے کہ شیوسینا کے ۴۵ ارکان اسمبلی ہمارے رابطے میں ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد از جلد دیویندر فرد نویس کی حکومت قائم ہوجائے۔ شیوسینا کے ارکان کی کمزوری کا اظہار انہوں نےاس طرح کیا کہ اب انہیں اقتدار میں رہنے عادت پڑ گئی اب وہ کرسی کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ یہ تو گویا سیدھے سیدھے شیوسینا کو توڑنے کی کے دھمکی ہے۔

ہندوتوا کے نظریہ کی حامل جماعت کے ساتھ جس پارٹی کا یہ سلوک ہے وہ غیروں کے ساتھ کیسا معاملہ کرتی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ نوٹ کے بل بوتے پر آج کل نہ صرف ووٹ بلکہ ان کے ارکان اسمبلی کو بھی خریدا جاسکتا ہے۔ کرناٹک اورگوا وغیرہ میں اس کی مثالیں سامنے آچکی ہیں۔ مہاراشٹر کے اندر کانگریس کے رہنما کو پارٹی میں شامل کرنے کے بعد وزارت نواز کر خود بی جے پی نے اس کی مثال قائم کی ہے ایسے میں سنجے راوت کا شرد پوار سے ملاقات کرنے کے بعد یہ اعلان کرنا کہ ہم اگر چاہیں تو اپنے بل پر حکومت سازی کرسکتے ہیں غلط نہیں لگتا۔ ہندوتوادیوں کی اس مہابھارت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کے نزدیک نظریہ کی اہمیت کسی مکھوٹے سے زیادہ نہیں ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کی خاطر اسے چڑھا لیا جاتا ہے اور اسی کی خاطر اس کونوچ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے سینا اور بی جے پی نے اقتدار کی ہوس میں اندھا ہوکر ہندوتوا کو پھانسی دے دی ہے۔ انتخاب میں واضح اکثریت حاصل کرلینے کے بعد دس دنوں تک حکومت کی تشکیل میں ان کی ناکامی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے ورنہ شاہ جی تو الیکشن ہارنے کے بعد بھی تین دن کے اندر اپنی حکومت بنالیتے ہیں۔
(۰۰۰۰۰۰۰۰۰جاری)

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!