Published From Aurangabad & Buldhana

بی جے پی اور جے ڈی ایس دونوں نے حکومت سازی کا دعوی پیش کیا، گورنرکس پر ہوں گے مہربان؟

میسور: کرناٹک میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملنے کے بعد اب گیند کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا کے پالے میں ہے۔ بی جے پی اور کانگریس کی حمایت سے جے ڈی ایس نے بھی دعویٰ پیش کیا ہے وہیں بی جے پی وزیراعلیٰ عہدہ کے امیدوار بی ایس یدی یورپا نے بھی گورنر سے ملاقات کرکے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کردیا ہے۔ اس کے بعد اب گورنر کس پر مہربان ہوں گے یہ دیکھنے کی بات ہوگی۔

اس پورے معاملے میں سب سے اہم رول کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا کا ہوگا۔ ان کے فیصلوں پر اب سب کی نظریں مرکوز ہوں گی کہ وہ کیا کرتے ہیں۔کس پارٹی کو حکومت سازی کے لئے مدعو کرتے ہیں۔

جے ڈی ایس اور بی جے پی کی حکومت سازی کے دعوے پر اب کرناٹک کے گورنر کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کرتے ہیں۔

سدارمیا کا کہنا ہے کہ ہم نے جے ڈی ایس کو حمایت دینے کا اعلان کردیا ہےا ور ہم نے گورنر کو بتادیا ہے کہ ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ سدارمیا نے کمار سوامی کے ساتھ گورنر سے ملاقات کی ہے۔

کانگریس اور جے ڈی ایس کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ کانگریس نے بلاشرط حمایت دی ہے اور کانگریس باہر سے حمایت دے گی۔

شمال مشرقی ریاستوں میں نتائج آنے کے بعد بی جے پی کی حکمت عملی سے شکست سے دوچار ہونے والی کانگریس کرناٹک میں الیکشن کے نتائج آنے سے پہلے ہی سرگرم ہوگئی ہے۔ انتخابی نتائج مکمل ہونے سے قبل ہی کانگریس نے جے ڈی ایس کو حکومت بنانے کے لئے بغیر شرط حمایت دینے کا اعلان کردیا۔

اب کرناٹک کے گورنر کیا کریں گے، کیا وہ سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے بی جے پی کو بلائیں گے۔ یا پھ دوسرے متبادل کی طرف دیکھیں گے۔

حالانکہ گوا اور منی پور میں کانگریس کو بڑی جماعت ہونے کے بعد بھی حکومت بنانے کا موقع وہاں کے گورنر نے نہیں دیا تھا۔ بجائے اس کے ان پارٹیوں کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کرلیا، جو گٹھ جوڑ کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے اکثریت کا دعویٰ پیش کررہے تھے۔ تقریباً! یہی صورتحال کرناٹک مین ہے۔ اگر جے ڈی ایس خود بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے نہیں آتی ہے تو گورنر کیا کریں گے؟

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!