Published From Aurangabad & Buldhana

بینکنگ گھپلہ کے لئے مودی حکومت ذمہ دار : کانگریس

نئی دہلی، 15 فروری (یو این آئی) کانگریس نے پبلک سیکٹرکے پنجاب نیشنل بینک میں ہونے والے گھپلہ کو آزادی کے بعد کا سب سے بڑا بینکنگ گھپلہ قرار دیتے ہوئے آج الزام لگایا کہ اس کے اہم ملزم کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تعلقات ہیں اور اسی وجہ سے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی نیز اسے بیرون ملک فرار ہونے کا موقع دیا گیا ۔ کانگریس کے کمیونیکیشن شعبہ کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد ہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم کو اس گھپلہ کی پوری معلومات تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں 26 جولائی، 2016 کو ایک ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ وزیر اعظم کے دفتر نے اس شکایت کو نوٹس میں لیا اور اسے کارروائی کے لئے بھیج بھی دیا گیا، اس کے باوجود اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس گھپلہ سے پورا بینکنگ نظام درہم برہم ہو گیا ہے ۔ اب تک، یہ 20،000 کروڑ روپیے سے زیادہ کا گھپلہ ثابت ہو چکا ہے ۔کیس کے اہم ملزم زیورات کے ڈیزائنر نیرو مودی پر 11200 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کرنے کا الزام ہے ، جبکہ اس کے مامو میھول چوکسی کی کمپنی کے خلاف 8872 کروڑ روپیے کے گھپلے کا انکشاف ہوا ہے ۔ اس طرح، یہ 20 ہزار کروڑ روپیے سے زائد کاگھپلہ ہو چکا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ اس گھپلہ میں صرف ایک ہی بینک شامل نہیں ہے ۔ اس میں پنجاب نیشنل بینک کے علاوہ الہ آباد بینک، ایکسس بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، یونین بینک، بینک آف بڑودا، انڈین اوورسیز بینک، کارپوریشن بینک، آندھرا بینک، وجیا بینک، سینٹرل بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک، آئی ڈی بی بینک، ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف انڈیا بھی شامل ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی جانچ کے بعد یہ کم از کم 30 ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ ہو گا۔ سرجے والا نے الزام لگایا ہے کہ بینک گھپلہ کے اس پورے معاملے میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور یہ تمام واقعات وزیراعظم کے دفتر کی ناک کے نیچے ہوئے ہیں۔ بینک گھپلوں کے معاملے میں 42 ایف آئی آر زیر التوا ہیں اور وزیر اعظم کا دفتر ان سب سے واقف تھا۔ اس کے باوجود، نیرو مودی حال ہی میں وزیراعظم کے ساتھ داووس جانے والے وفد میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے دانستہ طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گھپلہ کی تہیں کھلنے پر اس میں ملوث بہت سے ممتاز اور با اثر افراد کے نام سامنے آئیں گے ، اس لئے اس معاملہ میں کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ کانگریس کے ترجمان نے گھپلہ کو سنگین بتاتے ہوئے سوال کیا کہ کس وجہ سے بینک کے خطرے سے متعلق تمام فریقوں نے اس معاملہ میں کام کرنا بند کر دیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ بینکوں نے کسی ضمانت کے بغیراتنا زیادہ قرض کیسے دے دیا اور کیسے بینکوں میں ہوئے سب سے بڑے گھپلہ کے ملزم کو بھاگنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت میں’گھپلہ کرو اور بیرون ملک بھاگ جاؤ ‘ ایک وطیرہ بن گیا ہے ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!