Published From Aurangabad & Buldhana

بیشترکمپنیوں میں مسلم نوجوانوں کیلئے نوکری کے دروازے بند!

فرقہ واریت وتعصب کاعفریت ذہنوں پرقابض‘عوامی سطح پر احتجاج ضروری

اورنگ آباد:۱۲؍جنوری(م خ)ملک میں جب سے آرایس ایس اوراس کے سیاسی ونگ بی جے پی برسراقتدارآئی ہے تب ہی سے تقریباہرشعبہ میں تعصب ‘فرقہ واریت کا زہر گھلتا جا رہا ہے۔ شہراورنگ آباد ایک وقت میں ایشیا کا سب سے تیزی سے ترقی کرنے والاشہر ماناجاتاتھا۔ لیکن بی جے پی کی مرکزی وریاستی حکومتوں کی لاپرواہی کے سبب یہاں آئے دن کمپنیاں بندہوتی جارہی ہیں۔ گزشتہ دنوں ہی ویڈیوکان کمپنی کے تمام ملازمین کو انتظامیہ کی جانب سے بارہ یوم کی سختی کی چھٹی پرروانہ کیاجاچکاہے۔ ریاستی حکومت اورنگ آباد شہرکواسمارٹ سٹی میں تبدیل کرناچاہتی ہے‘ یہاں پر دہلی ممبئی انڈسٹریل کوریڈور شروع کرنا چاہتی ہے‘آرک سٹی کے قیام کابھی آغازشروع ہوچکاہے‘ لیکن فرقہ واریت اور تعصب کاعفریت اب صنعتی علاقوں اورکمپنیوں میں گھرکرچکاہے۔محض مسلمان ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ‘ تجربہ کار‘ تمام شرائط پر مکمل اترنے والے نوجوانوں کو شہر واطراف و اکناف کے صنعتی علاقوں میں واقع نامور کمپنی کے ایچ آر منیجرس نوکری دینے سے انکارکررہے ہیں۔ان کے سی ویز ریجیکٹ لسٹ میں ڈال دیے جارہے ہیں۔اکیسوی صدی انفارمیشن تکنالوجی کی صدی ہے۔اس صدی میں ہندوستان کو ترقیوں کے اعلی مدارج طے کروانا انہیں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ذمہ ہے۔ نوجوان ہی کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں‘ آج تک دنیامیں جتنے بھی انقلابات برپاہوئے ہیں اس کی کامیابی میں نوجوان نسل کا کافی اہم ترین حصہ رہاہے۔ لیکن جب تعصب اور فرقہ واریت کا عفریت ذہنوں پر قبضہ کرلیتاہے تو کسی کی صلاحیت‘ استعداد ‘ اور اسکاتجربہ دکھائی نہیں دیتا ‘دکھائی دیتاہے توصرف مذہب اور اس کا نام۔آرایس ایس اور بی جے پی برسہابرس سے برادران وطن بالخصوص نوجوانوں میں یہ زہر گھولنے کی کوشش کررہی تھی جو اب کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سنگھ کی شاکھاؤں میں ہرکسی کو بس یہی تعلیم د ی جاتی ہے کہ تمہارے دشمن کون ہیں؟تمہیں ان کے ساتھ کیسابرتاؤ کرناہے؟انہیں سماجی‘ معاشی‘سیاسی‘ ودیگر شعبہ جات میں کس طرح شکست سے دوچار کرنا ہے؟اخبارہذاکے نمائندہ نے شہرکے کنسلٹنسی کمپنیوں کے ذمہ داران سے گفتگوکی توانہوں نے بتایاکہ شہرکی اکثروبیشترکمپنیو ں میں محض مسلم نام اورشناخت کی وجہ سے اعلی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار نوجوانوں کو نوکریاں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ ذمہ داران کاکہناہے کہ کئی اسمال اسکیل انڈسریز انتظامیہ مسلم امیدوارکوشارٹ لسٹ ہی نہیں کرتے‘ اگر اسے انٹرویوکے لئے بلابھی لیں تو نوکری نہیں دیتے‘ بعدمیں استفسار پر کہتے ہیں کہ ہماری جائیداد پرہوگئی۔دراصل یہاں پرلابی سسٹم چلتاہے‘ کوئی بھی مخلوعہ جائیداد پر اپنے پسندیدہ امیدوارکو نوکری دیتے ہیں‘ حالانکہ مسلم امیدوار چاہے کتنا ہی صلاحیت مندہو‘تجربہ کارہو‘اعلی تعلیم یافتہ ہو‘اسے ترجیح نہیں دی جاتی۔ مسلم پروفیشنل کے ایک واٹس ایپ گروپ پر اسی سازش کے شکارایک نوجوان نے اپنی آپ بیتی بیان کی۔ اس نے لکھاکہ شہرکی دس سے زائد کمپنیوں نے اس کے ریزیوم کومحض اس لئے مستردکردیاکیونکہ وہ مسلم ہے۔ اس ضمن میں ایک برادروطن کنسلٹنسی کے مالک نے خوداسے بتایاکہ چارتاپانچ کمپنیوں نے تمہاری سی وی محض اس لئے ردی کی ٹوکری کی نذرکردی کیونکہ تم مسلم ہو۔اس ضمن میں عوامی احتجا ج نہایت ضروری ہے۔مسلم عوامی نمائندوں سے ہماری گزارش ہیکہ وہ تعلیم یافتہ تجربہ کارمسلم نوجوانوں کی ان مشکلات کودورکریں ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!