Published From Aurangabad & Buldhana

بھیماگوریگاؤں حادثہ کے رد عمل میں شہر میں جابجاپتھراؤ‘ دکانیں بندکروائی گئیں

شہرکے اہم چوراہوں پر دلت نوجوانوں کاپرتشدداحتجاج‘ گاڑیوں بسوں کونقصان، ٹائر جلانے کے واقعات ، سینٹرل بس اسٹینڈ کے قریب بھی پتھراؤ

اورنگ آباد: یکم جنوری( اسٹاف رپورٹر )پونہ ضلع کے کوریگاؤں بھیماتاپیرنا پھاٹہ کے درمیان آج صبح دوگروہوں کے درمیان بینرس کے نصب کرنے کے تنازعہ پرزوردار پتھراؤ ہواتھا۔ اس حادثہ کی خبرجیسے ہی اورنگ آباد شہر میں پھیلی ’عثمانپورہ اورکرانتی چوک علاقہ میں کچھ سماج دشمن عناصر نے اچانک دکانیں بندکروانی شروع کیں ۔مخالفت پر کچھ دکانداروں کو زدوکوب کیاگیا اور پتھراؤ شروع کردیاگیا۔ علاقہ کی سڑکوں سے گزررہی کئی گاڑیوں کی توڑپھوڑکی گئی۔ شام ہوتے ہوتے شہرکے جالنہ روڈ‘ ٹی وی سینٹر‘ ہڈکو کارنر‘ جٹواڑہ چوراہا‘بس اسٹینڈ‘ ریلوے اسٹیشن‘ کانچن واڑی‘ پٹن روڈ‘ اورکئی علاقوں میں ہجوم بناکر شرپسندعناصر نے سڑکوں سے گزرتی گاڑیوں پر پتھراؤ کیااورزوردارنعرے بازی کی۔ ان علاقوں میں زبردستی دکانیں بندکرنے کی کوشش کی گئیں۔ ہجوم اتنا مشتعل تھاکہ پولس کے سمجھانے پربھی سمجھ نہیں پارہاتھا۔ اس دوران دیکھاگیاکہ پولس ملازمین کی قلت کے سبب ہجوم نے ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ شہرکے مختلف علاقہ جات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق رات دیرگئے تک حالات تناؤ سے بھرے تھے۔کئی خانگی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ تقریباآٹھ ایس ٹی بسوں پربھی پتھراؤ کیاگیا۔سب سے پہلے عثمانپورہ کے پیر بازارعلاقہ میں ہنگامہ کاآغاز ہوا۔ اس علاقہ کی دلت بستیوں سے ہجوم کی شکل میں نکلے دلت نوجوانوں نے دکانداروں پر زبردستی دکانیں بندکرنے کادباؤ ڈالا۔ مخالفت کرنے پر انہوں نے کئی دکانداروں سے مارپیٹ کی۔ یہ ہجوم پیر بازار چوک سے نکل کر درگاہ روڈ تک دوڑدوڑکر دکانیں اور ہوٹلیں بندکروارہاتھا اور گاڑیوں پر پتھراؤ کررہاتھا۔اچانک ٹوٹ پڑی اس آفت سے راہگیر و سوار گھبراہٹ کاشکارہوچکے تھے ۔کسی کوکچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکہ کیاہورہاہے؟ نصف گھنٹے بعد اس علاقہ میں اطلاع ملنے پر پولس عملہ پہنچا اور اشرارکو روکنے کی کوشش کی لیکن لاٹھی چارج کے بعد ہی ہجوم منتشرہوا۔ منتشرہونے کے بعد یہ ہجوم دوبارہ گلیوں سے نکل کر پتھراؤ کرنے لگا ۔پولس نے کمک منگوائی۔ درگاہ علاقہ کے چوراہے پر بھی ہجوم نے دکانوں میں توڑ پھوڑ شروع کی۔ اس حادثہ کے بعد کرانتی چوک کے شیواجی مجسمہ کے پاس بھی بھیڑجمع ہونی شروع ہوئی اورنعرے بازی کی گئی۔ یہاں پر ٹریفک جام کردیاگیا۔کچھ سوشل ورکر اورسماجی قائدین نے ہجوم کو پتھراؤ سے منع کرنے کی کوشش کی لیکن مشتعل ہجوم کسی کی ماننے کوتیارنہیں تھا۔بہرحال کچھ دیربعدیہاں بھی پولس عملہ پہنچااورکسی طرح ہجوم کو پیر بازار کی جانب روانہ کیا۔ کرانتی چوک پرکئی گاڑیوں پرپتھراؤ کیا گیا۔ شام چھ بجے پٹن روڈ پر واقع کانچن واڑی پر راستہ روکوآندولن کیا گیا۔ یہاں بھی پتھراؤ کیاگیا۔ جبکہ پٹن سے آرہی ایک بس کی توڑپھوڑکی گئی۔ بس میں سوار مسافرین نے اپنی جان بچاکر یہاں سے جانے میں عافیت سمجھی۔ اسی طرح جئے بھوانی نگر‘ پنڈلک نگر‘ گجانن مندر علاقہ میں بھی تناؤ پیداہوگیا۔ان متواترحادثات کے بعدسخت پولس بندوبست عائد کیا گیا۔ بتایاگیاہے کہ اس علاقہ میں چارتاپانچ سو افراد کا ہجوم سڑکوں پر اتراتھا اور دکانیں زبردستی بند کروارہے تھے۔چھ بجے کے درمیان ہی اس علاقہ میں لوگوں نے سڑکوں پرٹائر جلانے شروع کیے۔اس کی تفصیلات جیسے ہی ہڈکو کارنر ٹی وی سینٹر پہنچی تو یہاں بھی ہجوم نکل کھڑاہوا اور سبزی فروشوں کو لوٹا گیا۔ یہاں کی سبزی منڈی بھی زبردستی بندکروائی گئی۔ جن دکانداروں نے مخالفت کی ان کی سبزیاں سڑکوں پر پھینک دی گئی اوران سے رقومات لوٹ لی گئیں۔ اس کے سبب یہاں بھگڈر مچ گئی تھی۔اس ضمن میں بتایاگیاکہ ٹی وی سینٹرپر واضح ورٹیک اسپیکنگ کلاس کے شیشے توڑے گئے اورڈی مارٹ پر پتھراؤ کیاگیا۔ سلوڑ سے آرہی ایس ٹی بس کی توڑپھوڑکی گئی۔ اے پی آئی کارنرپرواقع بھارت بازارکو بندکیاگیا۔ شام ہوتے ہوتے جئے بھوانی نگر گارکھیڑہ شیواجی نگر میں بھی کئی نوجوان سڑکوں پراترآئے اور دکانیں بندکروائیں۔دیولائی چوک‘ تانڈہ کے قریب پونہ سے آرہی ایک بس پر پتھراؤ کیاگیا۔ٹاؤن ہال علاقہ میں دوایس ٹی بسوں پر دلت نوجوانوں نے پتھراؤ کیا۔ جس کے سبب حالات سنگین ہوگئے۔ اسی طرح قدیم شہرکے سٹی چوک‘ شاہ گنج‘ تلک پتھ‘ گلمنڈی ‘ پٹن گیٹ علاقہ میں بھی دلت نوجوانوں نے زبردستی دکانیں بند کروائیں۔ جس کے سبب مسافرین میں سراسیمگی پھیل گئی۔اس درمیان اے سی پی ونائیک ڈھاکنے ‘پی آئی منڈے اوردیگرپولس انتظامیہ نے ٹی وی سینٹر چوک پر مشتعل ہجوم کو منتشرکرنے کیلئے ہلکالاٹھی چارج کروایا۔اس درمیان ایس ٹی انتظامیہ کی جانب سے بتایاگیاکہ شہرکے مختلف علاقوں میں آٹھ ایس ٹی بسوں پر پتھراؤکیاگیاجس کے سبب بسوں کے شیشے چکناچورہوگئے۔ایس ٹی مہامنڈل کے افسران نے بتایاکہ سینٹرل بس اسٹینڈ اورسڈکو بس اسٹینڈ سے کچھ دیرکیلئے باہرجانے والی بسوں کوروک دیا گیا تھا۔ حالات ابھی بھی بہترنہیں ہیں۔ جیسے ہی حالات میں سدھارآئیگا۔ بیرونی بسوں کوروانہ کیاجائیگا۔شہرکے زیادہ تر علاقوں میں شورشرابہ اور ہنگامہ ہونے کے سبب پولس نے سخت بندوبست تعینات کردیاہے۔ پولس نے اب تک کسی کوگرفتارنہیں کیاگیا۔سینٹرل بس اسٹینڈ کے قریب بھی کچھ ایس ٹی بسوں پر پتھراؤ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ یہاں بھی حالات کشیدہ ہیں اور کافی وقفہ تک بس اسٹینڈ سے بسیں روانہ نہیں کی گئیں تھیں۔پتھرا ؤ میں ایک پریس فوٹوگرافر سچن اباڑے زخمی ہوئے ہیں۔ان پر ہڈکوکارنر علاقہ میں پتھراؤ کیاگیا۔ تادم تحریر ہڈکوکارنرکے حالات ناسازگارہیں اور ٹائر جلاکردلت نوجوان دہشت پیداکررہے ہیں۔اسکے علاوہ سینٹرل بس اسٹینڈ علاقہ میں بھی دلت نوجوانوں کی دہشت جاری ہے۔کئی آملیٹ وڑاپاؤ ودیگر گاڑیوں پرحملہ کیاگیااوران کاسامان پھینکاگیا۔اس راستے سے گزرنے والی کاروں‘ رکشہ‘ بسوں پرپتھراؤ کیاگیا۔

15ایس ٹی بسوں پرپتھراؤ، بیرون شہر جانے والی بسیں منسوخ
پونہ پٹن بس نمبرایم ایچ ۲۰؍ بی ایل ۳۳۱۱؍ پرسنس واڑی میں پتھراؤ کیا گیا‘اورنگ آبادناند ر ایم ایچ ۲۰؍ بی ایل ۱۹۶۲؍ پر کانچن واڑی میں پتھراؤ کیاگیا‘اورنگ آبادپٹن ایم ایچ ۲۰؍ بی ایل ۸۸۵؍ گیورائی تانڈہ میں پتھراؤ کاشکارہوئی‘کنڑسلوڑ ایم ایچ ۲۰؍بی ایل ؍ ۱۴۷۹ ؍ پرسلوڑمیں پتھراؤ کیاگیا‘ملکاپوراورنگ آبادایم ایچ ۱۴؍ بی ٹی ۴۷۵۱؍‘راویر پونہ ایم ایچ ۲۰؍بی ایل؍۴۲۷۸؍ پرٹاؤن ہال پر پتھراؤکیاگیا‘جلگاؤں اورنگ آباد ایم ایچ ۲۰؍بی ایل ؍ ۳۴۵۱؍ ڈونگرگاؤں میں پتھراؤ کی زدمیں آئی‘سلوڑپاچورہ ایم ایچ ۱۴؍ بی ٹی ۲۶۴۷؍ سلوڑ میں پتھراؤ کاشکاربنی‘اسکے علاوہ دیگر سات بسوں پربھی پتھراؤ کیاگیا۔جس میں امبہ جوگائی اورنگ آباد بس ایم ایچ ۲۰؍بی ایل؍ ۱۹۰۰؍ پراورنگ آباد میں پتھراؤ ہوا۔ایم ایچ ۲۰؍بی ایل ۸۴۸۶؍ پر ٹاؤن ہال پر پتھراؤ کیاگیا‘ایم ایچ ۲۰؍بی ایل ۲۸۷۴؍ پرعام خاص پرپتھراؤ کیاگیا‘ایم ایچ ۲۰؍بی ایل ۲۳۵۸؍ پر کرانتی چوک میں پتھراؤ کیاگیا‘ایم ایچ ۲۰؍ بی ایل ؍۴۲۵۵؍ پرہرسول میں پتھراؤ کیاگیا۔ اسکے علاوہ ہرسول اورامبی لوہڑمیں دوبسوں پر پتھراؤ کیاگیاجس کے سبب ایس ٹی مہامنڈل انتظامیہ کا کافی نقصان ہوا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!