Published From Aurangabad & Buldhana

بھارت نے ہم سے91.63عرب روپئے عطیہ لیے 27.49عرب روپئے کا پتلا بنا دیا: برطانیہ کا طنز

اگر بھارت کے پاس اتنا بڑا مجسمہ بنانے پیسہ ہے تو برطانیہ کو پیسہ دینا بند کردینا چاہیے: برطانوی ممبر پارلمنٹ

مرکز کی NDAحکومت سردار ولبھ بھائی پٹیل کا 182میٹر اونچا دنیا کا سب سے اونچا پتلا بنانے کی وجہ سے تنازعات کا شکار ہے۔ ان تنازعات میں حالیہ طنز برطانیہ کی جانب سے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ نے بھارت کو تقریباً 91.63عرب روپئے دیے تھے۔ برطانیہ 2012سے بھارت کو پیسہ عطیہ کر رہا ہے ٹھیک اسی وقت سے جب سے اسٹیچو آف یونیٹی کا کام شروع ہوا تھا۔ پہلا عطیہ تقریباً 2540کروڑ روپئے کا تھا جو 2013میں آیا۔ اس کے بعد 2014اور 2015میں برطانیہ نے بھارت کو 2635کروڑ روپئے دیے اور اس کے بعد 1752کرو ڑ روپئے عطیہ دیے۔ ڈیلی میل اخبار کے مطابق اس موقع پر برطانیہ کے ممبر پارلمنٹ پیٹر بون نے کہا کہ ’’ ہم سے تقریباً 1.1بلین یوروکا عطیہ لیکر اسی وقت میں 330ملین یورو کو ایک پتلے پر خرچ کرنا ایک بکواس کام ہے اور اسی طرح کی چیز لوگوں کو پاگل بناتی ہے‘‘۔ پیٹر نے مزید کہا کہ ’’ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں بھارت کو پیسہ نہیں دینا چاہیے۔ یہ ان پر ہے کہ وہ انکاپیسہ کیسے استعمال کرتے ہیں، لیکن اگر وہ اس پتلے کے متحمل ہیں تو یہ واضح ہے کہ ہمیں انہیں اب کوئی مدد نہیں دینی چاہیے‘‘۔ اخبار کے مطابق برطانیہ سے عطیے میں ملابھارت کو یہ پیسہ دیگر ضروری کاموں میں استعمال کرنا چاہیے تھا نہ کہ امریکہ کے’ اسٹیچو آف لبرٹی ‘کی اونچائی سے دو گناہ اونچا پتلا بنانا چاہیے تھا۔ برطانیہ بھارت کے پروجیکٹ کو عطیہ ملک کی معیشت کو مزید ترقی دینے کے لئے دیتا ہے۔ برطانیہ نے پیسہ خواتین کے حقوق کے تحفظ ، سولار پینل اور دیگر توانائی کے ذرائع کے لئے دیا تھا۔

واضح ہو کہ 31؍ اکتوبر کو وزیر اعظم نے سردار پٹیل کا جس مجسمہ کا اجراح کیا اسے لارسن اینڈ ٹربو لمٹیڈ نے بنایا ہے جس کی کل لاگت 2989کروڑ روپئے آئی ہے۔ اس کے بنانے میں 1.80لاکھ کیوبک میٹر سمنٹ، 18500ٹن اسٹیل ، 6500ٹن ڈھانچہ کا اسٹیل، 1700ٹن تانبہ اور 1850ٹن تانبہ کا عمارتی ملبوسہ لگا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!