Published From Aurangabad & Buldhana

بھارت بند : پرتشدد واقعات میں اب تک 9 اموات ، مایاوتی نے کہا : ہم مودی سرکاری کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے

نئی دہلی: درج فہرست ذات وقبائل انسدادمظالم ایکٹ میں فوری گرفتاری کا التزام ختم کرنےکےخلاف آج دلتوں کے بھارت بند کی وجہ سےکئی جگہوں پر پرتشددواقعات رونماہوئے جس سے عام زندگی متاثرہوئی۔ مدھیہ پردیش میں 6 ، راجستھان میں ایک اور اترپردیش میں پرتشدد واقعات میں اب تک دو افراد کی موت ہوگئی ہےجبکہ ملک کی متعدد ریاستوں میں ہلاکتوں کی خبر ہے ۔
راجستھان،مدھیہ پردیش،بہار،اترپردیش سمیت کئی صوبوں میں احتجاج کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔جبکہ پنجاب میں سی بی ایس سی بورڈ کے امتحانات ملتوی کردیےگئےہیں۔کئی شہروں میں ریل،سڑکوں پرآمدورفت اور گاڑیوں میں آگ لگانے جیسی خبریں موصول ہوئی ہیں۔راجستھان میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔

اسی درمیان مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ حکومت نے درج فہرست ذات وقبائل ایکٹ میں حال ہی میں آئے فیصلے کو دیکھتے ہوئے عدالت عظمی میں نظر ثانی کی اپیل دائر کردی ہے۔انہوں نے تمام پارٹیوں،تنظیموں اورلوگوں سے تشدد نہ بھڑکانے اور امن وامان بنائےرکھنے کی اپیل کی ہے۔

شیوراج کی امن بنائے رکھنے کی اپیل
مدھیہ پردیش کے شمالی علاقے میں تشدد اور آگ زنی کے واقعات میں 5لوگوں کی موت اورکئی لوگوں کےزخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔اسی کےپیش نظر وزیراعلی مسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے امن وامان بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے۔مرینا اورگوالیارمیں احتجاج کےدوران پرتشددواقعات ہوگئے ۔مرینا میں ایک نوجوان کی گولی لگنے سے موت کے بعد ضلع ہیڈکوارٹرپر کرفیو نافذ کر دیا گیاہے۔ ضلع کے تمام حساس علاقوں میں پولس فورس کی اضافی ٹیم کو لگادیا گیاہے۔بھنڈ ضلع میں بھی ایک مظاہرہ کر رہےشخص کی گولی لگنے سے موت کی خبرآئی ہے۔بھنڈ کے کئی علاقوں اورساگرضلع ہیڈکوارٹرپرحکم امتناع نافذکردیاگیاہے۔اس کے علاوہ اندور،سیونی،رتلام،اجین،جھابوا،جبل پورمیں بند کے ملےجلےاثرات کی خبر ہے۔مرینا ضلع میں مظاہرین کےریل ٹریک کو روکنےسےریل سروس بھی متاثرہوئی ہیں۔

راجستھان کے کئی اضلاع میں انٹرنیٹ کی سروس بند
راجستھان میں جگہ جگہ پرتشددواقعات کے دوران الورکےداؤدپورپھاٹک پرریل پٹری اکھاڑنے،پولس پرحملےاورتھانوں پرپتھراؤجیسےواقعات رونماہوئےہیں۔جگہ جگہ پر پرتشددواقعات ہونے،آگ زنی اور پتھراؤ کو دیکھتے ہوئےباڑھ میرکےسیوانی اورجالور کے سانچور میں حکم امتناعی نافذ کردیا گیا ہے۔ساتھ ہی کئی اضلاع میں انٹرنیٹ کی سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔بند پیش نظرریلوےانتظامیہ نے بھی تقریباً نصف درجن ٹرینوں کے روٹ میں ترمیم کیا ہے۔ساتھ ہی چار ترینوں کو رد کردیاہے۔

پنجاب میں بھی حالات کشیدہ لیکن قابو میں
پنجاب میں دلت تنظیموں کو تتربترکرنے کے لئےپولس کو لاٹھی چارج کا سہارالیناپڑا۔اس کے باوجودحالات کشیدہ لیکن قابو میں ہے۔اس کے باوجود صوبے میں ریل سروس اور سڑکوں پر آمدورفت متاثررہی۔موصولہ اطلاع کےمطابق مظاہرہ کی وجہ سےبھارت پاک ،دہلی لاہوربس سروس سرہندمیں پھنسی رہی۔ پٹیالہ فیروزپور سمیت کئی ٹریکوں پرجام کی وجہ سےٹرین روک دی گئی۔فیروزپور میں ڈی ایم یو ٹرین روک دی گئی۔گرداس پور میں بند کی وجہ سےپٹرول پمپ سمیٹ تمام دفاتراورکاروباری ادارےبند رہے۔فگواڑا ضلع میں پولس نے فلیگ مارچ کیا۔لیکن کاروباری ادارے بند رہے۔صوبے میں اسکول،بینک،بسیں اور انٹرنیٹ خدمات معطل رہی اوردسویں اور بارہویں کے امتحانات ملتوی کر دئے گئے۔ہریانہ میں بند کے اثرات سے بازار بند رہے اورلوگوں نے ضلع ہیڈکوارٹرپراحتجاجی مظاہرہ کیا۔ روہتک، بھوانی، کرنال،رواڑی اور انبالہ میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔
مہاراشٹر میں کئی مقامات پر جھڑپیں
مہاراشٹرمیں بھی دلت تنظیموں نے احتجاجی مظاہرہ کیااورجلوس نکالا۔ پونے،کولہاپور،ناگ پوراورممبئی سےمظاہرے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔اس کےعلاوہ مظاہرین کی پولس اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔

دہلی میں کئی مقامات پراحتجاج
دہلی میں بھی دلتوں نے کئی مقامات پراحتجاجی مظاہرہ کیا۔اصل مظاہرہ پارلیمنٹ کے پاس کیاگیا۔اس کے علاوہ شہرمیں مختلف مقامات پر دلتوں نےاحتجاجی مظاہرہ کیا۔
جنوبی ہندوستان میں عام زندگی متاثر
جنوبی ہندوستان سے بھی بھارت بند کے اثرات کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔چنئی،وشاکھاپٹنم،وجےواڑا،حیدرآباد،بنگلورو،تروننت پورم اورگواوغیرہ میں بھی بند کی وجہ سے عام زندگی متاثرہوئی ہے۔تلنگانہ کے کئی ضلعوں میں آمدورفت کی خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ مظاہرین نے مختلف مقامات پربسوں کو ڈپو سے نکلنے نہیں دیا۔

گجرات :دکانوںوتعلیمی اداروں کو زبردستی کروایا گیا بند
گجرات میں وسیع پیمانےپرمظاہرےہوئے۔کئی مقامات پرریل۔سڑک جام،پتھراؤاوردکانوںوتعلیمی اداروں کو زبردستی بندکروایاگیا۔بند کے حامیوں نے کچ ضلع کےگاندھی دھام شہر میں سرکاری گاڑیوں پرپتھراؤکردیا۔اسی طرح مشتعل بھیڑنے جوناگڑھ،راجکوٹ،راجولااورکچھ دیگرجگہوں پردکانوں میں توڑپھوڑبھی کی مظاہرین اور پولس کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں بھی ہوئیں۔مظاہرین نےاحمدآباداور دیگر شہروں میں 20سےزائدسٹی بسوں کے علاوہ مختلف گاڑیوں پرپتھراؤکیااورانہیں تباہ وبربادکرنے کی کوشش کی۔ لیکن کسی مسافرکےزخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔احمدآباد میں سٹی بسوں کو کئی روٹوں پر بند کرنا پڑا۔بند حامیوں نے پاٹن،ہمت نگر، تھراد، بھروچ، گھنیرا، بھاؤنگر،جام نگر گونڈل،امریلی،تاپی اورسارندکےعلاوہ مختلف مقامات پر ریلیاں بھی نکلیں۔

دلتوں کے ‘بھارت بند پر مرکزی حکومت کی مسلسل نگرانی
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے آج کہا کہ ‘بھارت بند کے دوران ہونے والے پرتشدد مظاہروں پر تمام ریاستوں سے اطلاعات طلب کی گئی ہیں اور ریاستوں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ نے بتایا کہ مرکزی حکومت حالات پر مکمل نظر رکھ رہی ہے اور ریاستوں کی مدد کے لئے مرکزي سلامتی دستے فراہم کئے گئے ہیں۔ ابھی تک مدھیہ پردیش، اترپردیش اور پنجاب نے مرکزی سلامتی دستہ کا مطالبہ کیا ہے جو انہیں فراہم دیے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے مطابق تمام ریاستوں کو جان و مال کی حفاظت کے لئے پختہ انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

کانگریس دلتوں کے ساتھ: راہل گاندھی
کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے عدالت عظمی کے فیصلے کے مخالفت کرتے ہوئےکہاکہ کانگریس پارٹی دلتوں کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہزاروں دلت بھائی بہن آج سڑکوں پر اتر مودی سرکار سے اپنے حقوق کی حفاظت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وہ انہیں سلام کرتے ہیں۔اسی درمیان لوک سبھا میں کانگریس کےلیڈر ملکا ارجن کھڑگے اوردرج فہرست ذات وقبائل کےسابق مرکزی وزیراور جھبوا سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کانتی لال بھوریا نے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ اور پارلیمانی امور کےوزیر اننت کمارسےملاقات کی اور عدالت کے اس ٖفیصلےکی وجہ سے جو صورت حال پیدا ہوئی ہےاس سے آگاہ کرایا۔

حکومت دلتوں کے ساتھ رابطےکرنے میں ناکام ثابت ہوئی: ادت راج
بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جےپی)کے رکن پارلیمنٹ ادت راج نے کہاکہ حکومت دلتوں کے ساتھ رابطےکرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔حکومت یقینی طور سےدلتوں تک اپنی بات نہیں پہنچا سکی ہے۔لوک جن شکتی پارٹی کے صدر اورمرکزی وزیررام ولاس پاسوان نے الزام لگایا کہ کانگریس اور دیگراپوزیشن پارٹیاں دلتوں کے مسائل پر سیاست کررہی ہے۔ملک میں سرکاری نوکریوں میں درج فہرست ذات وقبائل اوراوبی سی کے ریزرویشن کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
نظرثانی کی عرضی ایک جھانسہ:کماری سیلجہ
سابق مرکزی وزیراور رکن پارلیمان کماری سیلجہ نے درج فہرست ذات وقبائل مسٔئلے میں مرکز کی جانب سے عدالت عظمی میں داخل کی گئی نظرثانی کی عرضی کو ایک جھانسہ قرار دیا۔

غیر سماجی عناصر نے دلتوں کے احتجاج کو پرتشدد بنایا : مایا وتی
دلت برادری کے احتجاج پر بی ایس پی سپریمو مایا وتی نے بھی ایک پریس کانفرنس کی ۔ کانفرنس کے دوران انہوں نے مودی حکومت پر جم کر نشانہ سادھا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ غیر سماجی عناصر اس احتجاج کو پرتشدد بنارہے ۔ مختلف ریاستوں میں دلت و دیگر پسماندہ طبقات کے لوگوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ دلت بی جے پی سے ناراض ہیں، دلتوں کیلئے بنائے گئے 1989 کے ایکٹ کو بے اثر کرنے کی مودی حکومت اور مہاراشٹر حکومت کی کوشش نے دلت برادری کو آندولن کرنے پر مجبور کردیا ۔ ( نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ) ۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!