Published From Aurangabad & Buldhana

بنگال میں این آر سی کے نفاذ سے بی جے پی کو خوفناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑیگا: ممتا بینرجی

کولکاتا: آسام میں این آر سی کے خلاف منعقد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے ایک بار پھر کہا کہ این آر سی کے نام پر بنگالیوں کو پریشان کرنے نہیں دیا جائے گا اور بنگال میں این آر سی کے نفاذ کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

31 اگست کو جاری این آر سی کی حتمی فہرست میں 19لاکھ افراد جگہ پانے میں ناکام رہے۔ممتا بنرجی کی قیادت میں یہ ریلی شمالی کلکتہ کے شیام بازار5پوائنٹ سے شروع ہوا۔اس کے علاوہ ترنمول کانگریس نے 7ستمبر اور 8ستمبر کو ریاست بھر سے ریلی نکالی ہے۔وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ این آر سی عوام کو تقسیم کرنے کا حربہ ہے۔این آر سی کے نام پر آگ سے کھیلاگیا ہے اور شہریوں کو ایک دوسرے پر سر پیکار کردیا گیا ہے۔ہندو،مسلمان اور عیسائیوں کو ایک دوسرے دست و گریباں کرنے کی کوشش ہم کسی بھی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ ملک کی آزاد ی کے 70سال بعد ہندوستان کے عوام کواپنی شہریت کا ثبوت دینے کی ضرورت کیوں پیش آگئی ہے۔ممتا بنرجی نے کہاہے کہ آسام کی طرح بنگال میں بھی پولس کا استعمال کرکے ہماری آوازوں کو خاموش نہیں کرسکتے ہیں۔ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی سے مذہبی اقدار سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔بنگال میں ہم سب درگا پوجا، کالی پوجا، عید اور محرم مل کرمناتے ہیں اور یہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول ہے۔

خیال رہے کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران کے وزیر داخلہ امیت شاہ اور دیگر بی جے پی لیڈران نے بنگال میں بھی این آر سی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔امیت شاہ نے کہا تھا کہ اگر ہم اقتدار میں آگئے تو بنگال سمیت پورے ملک میں این آرسی نافذ کریں گے۔اور ایک غیر ملکی کی شناخت کرکے ہندوستان سے انہیں نکال باہر کیا جائے گا۔

تاہم 31اگست کو این آر سی کی حتمی فہرست منظر عام پر آنے کے بعد بی جے پی سمیت کئی دیگر حلقے جواین آر سی کے حامی تھے وہ اس کی مخالفت کرنے لگے ہیں۔آسام میں بی جے پی کے سینئر لیڈر و ریاستی وزیر خزانہ ہیمانت بسواس شرما اورآسام بی جے پی کے صدر رنجیت داس نے این آر سی کی حتمی فہرست کو خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فہرست میں کئی حقیقی شہری جگہ پانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔جب کہ بڑے پیمانے پرغیر ملکی این آرسی میں جگہ پانے میں کامیاب ہوگئے۔

رنجیت داس نے کہا کہ ہم این آر سی کے فہرست کی دوبارہ تصدیق کرانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔خیال رہے کہ این آر سی کی حتمی فہرست شایع کرنے سے قبل 3فیصد ناموں کی دوبارہ تصدیق کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق این آر سی کے حتمی فہرست میں 13لاکھ ہندو بنگالی ہیں جب کہ 6مسلم بنگالی اپنی جگہ پانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔گزشتہ سال جولائی میں دوسری فہرست جاری ہونے کے بعد 40لاکھ افراد اس فہرست سے باہر ہوگئے تھے مگر حتمی فہرست میں 21لاکھ مزید افراد جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!