Published From Aurangabad & Buldhana

بحری جہاز سے سفر حج کو منظوری

2019 میں سفر ممکن، ہند۔سعودی حج معاہدہ، حکومتِ سعودی عربیہ کی منظوری بغیر محرم جانے والی خواتین کیلئے علاحدہ رہائش کا انتظام :مختار نقوی

ممبئی: مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور وحج مختار عباس نقوی نے آج یہاں اعلان کیا ہے کہ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدہ کے بعد عازمین حج کیلئے بحری جہاز سے سفرممکن ہوگا اور آئندہ سال 2019میں اس کا آغا ز ہوجائے گا ،اس بارے میں کئی طرح کی تیاریاں کی جائیں گے ،البتہ سعودی عرب حکومت نے سبز جھنڈی دکھا دی ہے۔جبکہ امسال تقریباً 1400خواتین نے بغیر محرم سے خواتین کے گروپ میں حج پر جانے کی درخواستیں دی ہیں۔2018کا حج مکمل طورپر ’ڈیجیٹل حج ‘کہا جاسکتا ہے ۔درخواستوں سے لیکر دیگر امور کو بھی انٹرنیٹ سے وابستہ کیا گیا ہے۔ آج شام جدہ سے حج معاہدہ پر دستخط کے بعدواپسی پر جنوبی ممبئی میں واقع اسلام جمخانہ کے وسیع میدان میں منعقد کی گئی ’ہنر ہاٹ ‘ کے دورہ کے پس منظر میں مختار نقوی نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ دونوں حکومتوں کے افسران ٹیکنیکل اور عملی امور اورضابطوں کا جائزہ لینے کے بعد بحری جہاز شروع کریں گے۔جوکہ 1995میں بند کردیا گیا اور مکمل طورپر ہوائی سفر میں تبدیل کردیا گیا۔ جس بحری سفر کے دوران 8-10دن سفرمیں لگتے تھے، لیکن اب سفر تین ۔چار دنوں میں ممکن ہوسکے گا۔اس کا فضائی سفر پر کوئی اثر نہیں ہوگا ۔پہلا روانگی مقام ممبئی ہی ہوگا اور بعد کے دورمیں کوچی دوسرا مرکز بن سکتا ہے۔ نقوی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ غریب ہندوستانی مسلمان حاجی کو مالی طورپر فائدہ ہوگا کیونکہ سبسڈی کا خاتمہ ہوگیا اوربحری سفر سستا ہوگا جبکہ ان تین چار دنوں میں حج کے متعلق تربیت بھی دی جاسکے گی ۔ امسال بغیر محرم سے فریضہ حج کی خواہش مند خواتین کو علاحدہ رہائش گاہ کے ساتھ ساتھ نقل وحمل کے انتظامات بھی کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 1400 درخواستوں کو قرعہ اندازی سے مستثنیٰ کیا گیا ہے اور 45سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو چار مستورات کے گروپ میں جانے کی اجازت ہوگی ۔نقل و حمل کے ساتھ ساتھ خاتون رضاکارکا بھی تقررکیا جائے گا۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!