Published From Aurangabad & Buldhana

بابری مسجد کی کیا ہے Chronology؟


مجتبیٰ منیب

حال ہی میں بابری مسجد کو تباہ کرنے سے متعلق CBI عدالت نے فیصلہ سنایا، عقل رکھنے والوں اور دنیا کی سمجھ رکھنے والوں کو اسی فیصلہ کی امید تھی۔
جو لوگ سینہ ٹھوک کر اعلان کرتے تھے کہ ہم نے بابری مسجد کو توڑا ہے اور آج اتنے سال بعد عدالت کہتی ہے کہ جناب آپ کے مجرم ہونے کا کوئی
ثبوت نہیں ملا اس لئے آپ تمام صاحبان بری کیے جاتے ہیں۔
خیر آیے چلتے ہیں اور آج ایک نئی Chronology جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ویسے Chronology بتانا کسی اور کا ڈپارٹمنٹ ہے لیکن میں
آج یہاں بابری کی Chronology بتانا چاہتا ہوں۔

1528: میں ایودھیا میں میر باقی نے مغل بادشاہ بابر کی ہدایت پر بابری مسجد کی تعمیر کی۔
1855: بابری مسجد سے 1 کلو میٹر دور واقع ایک مندر ہنومان گڑھی کے بارے میں شہر کے مسلمانوں نے مسجد ہونے کا دعویٰ کیا۔ چند مسلمانوں کا
ایک گروہ جمع ہوا اور اس نے ہنوما ن گڑھی مندر پر حملہ کردیا۔ لیکن وہاں اس مندر کے شردھالوں جنہیں بیراگیز کے طور پر بھی جانا جاتا ہے 500 کی
تعداد میں موجود تھے، ان پر حملہ کردیااور ان میں سے اکثر کو ماردیا۔ بیراگیز واپس حملہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے پیچھے بابری مسجد تک چلے آئے۔
لیکن اس وقت کے نواب واجد علی شاہ نے صلاح کروائی اور وہ بھی اس حد تک کے وہاں کے مسلمان اور ہندو مل کر انگریزوں کے خلاف لڑے۔

1859 :بابری مسجد کےبھگوان رام کی جنم بھومی ہونے کے ہندو وں کے دعوے کے بعد برٹشرس کے دور اقتدار کے ایودھیا کے
administration نے بابری مسجد میں fence لگا دی جس میں باہر کے حصہ کو ہندووں کی پوجا کے لئے رکھا گیا اور مسجد کو نماز کے لئے رکھا گیا۔
1885 : مہنت رگھوبیر داس نے لوکل عدالت میں پٹیشن ڈالی کہ انہیں اس باہر کے چبوترے پر مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس اپیل کو
عدالت نے reject کردیا۔
مارچ 1934: ہندو اور مسلمانوں میں ایک فساد ہوا جس میں مسجد کی گنبد اور عمارت کو نقصان پہنچا۔ بعد میں اسے برٹش سرکار نے repair کیا۔
1947 :چونکے اس عمارت پر سنی وقف بورڈ کے ساتھ شیعہ وقف بورڈ کا بھی دعویٰ تھا تو مقامی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ بابری مسجد سنی وقف بورڈ
کے تحت ہوگی۔
22 December 1949: کو بابری مسجد کے اندر ہندومہاسبھا کے ممبران نے رام کی مورتیاں رکھ دی۔ ویواد پیدا ہوا۔ لیکن اس وقت کے کلیکٹر
کے ۔کے ۔ نیّر نے مسجدکے اندر سے مورتیاں ہٹانے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کے اس سے فساد پھیل جائےگا۔ نیّر بعد میں جن سنگھ (اس
وقت کی BJP) کو Join کیا تھا اور پارلیمنٹ کے ممبر بھی بنے تھے۔ مسجد پر تالا لگا دیا گیا اور نماز پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
1950 : فیض آباد کورٹ میں مسلم اور ہندو پارٹیوں نے عرضی دیتے ہوئے وہاں نماز اور پوجا کی اجازت مانگی۔ مسجد کے دروازے نہیں کھولے گئے۔
وہاں پجاری کو وقتی طور پر اجازت ملی لیکن دوسری پارٹی کو اجازت نہیں ملی۔
1959: نرموہی اکھاڑہ جس کے صدر مہنت بھاسکر داس تھے کی جانب سے ایک تیسری عرضی عدالت میں ڈالی گئی جس میں Disputed Area پر
پوجا کی اجازت مانگی۔
1961: اتر پردیش کے سنی سینٹرل وقف بورڈ نے چوتھی عرضی داخل کی جس میں مسجد کے اندر مسلمانوں کو نماز کی اجازت مانگی گئی تھی۔
1981: سنی سینٹرل وقف بورڈ نے زمین پر قبضہ کی بھی عرضی کا بھی مطالبہ کیا۔
1984: ’’ رام جنم بھومی موومنٹ‘‘ نے زور پکڑا اور اس وقت کی نئی آئی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر ایل۔ کے۔ ایڈوانی اس تحریک کے رہنما بنے۔
وشو ہندو پریشد نے ’’ شری رام جانکی رتھ یاترہ بہار کی سیتا مراہی سے دہلی تک نکالی۔ اتر پردیش میں اسی طرح کی 6 اور یاترائیں نکلی۔ اس وقت کے
لوک سبھا الیکشنس میں BJP کو 541 میں سے 2 سیٹ ملی۔
1986 : PMO کے حکم کے تحت historian رام چندر گوہا کے مطابق District Judge نے بابری مسجد کے دروازے کھول کر ہندووں
کو پوجا کرنے کی اجازت دے دی۔جس کے جواب میں مسلمانوں نے ’ بابری مسجد ایکشن کمیٹی‘ کی بنیاد ڈالی۔
پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے شاہ بانو کیس سے متعلق فیصلے کے خلاف
Muslim Women (Protection of Rights on Divorce ) Act, 1986 پاس کیا جس نے BJP کے ایودھیا موو منٹ میں مضبوط
کیا۔ جس کے بعد ایڈوانی پارٹی کے صدر بن گئے۔
1989: وشو ہندو پریشد کے Vice President اور سابق جج دیوکی نندن اگروال کی اس جگہ کو ’’ ساکھا‘‘ بنانے کی درخواست پر
الہٰ آباد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے معاملے میں پرانےفیصلے کو برقرار رکھا۔
9 November 1989 : راجیو گاندھی نے وشو ہندو پریشد کو شیلا نیاس (laying of the foundation stone)
کرنے کی اجازت دے دی۔
25 September 1990: BJP صدر ایل کے ایڈوانی نےسومناتھ سے ایودھیا تک رتھ یاترہ لانچ کی ۔ لیکن اس وقت کے بہار کے وزیر اعلیٰ
لالو پرساد یادو نے نومبر 1990 کو ایڈوانی کو گرفتار کرلیا۔ وشو ہندو پریشد کے نیتا اشوک سنگھل کو بھی اس وقت گرفتار کیا گیا تھا۔
30 October 1990 : کار سیوک کا پولس کے ساتھ clash ہوا اور اس میں کم سے کم 20 لوگ مارے گئے۔ اتر پردیش میں فسادات
شروع ہوئے۔
1991 : BJP نے وی پی سنگھ سرکار سے اپنا سمرتھن واپس لے لیا، جو اس وقت 121 سیٹوں کے ساتھ Second Largest Party کے طور پر
ابھری تھی۔ اس وقت اتر پردیش میں BJP کی سرکار بنی جس کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ تھے۔
6 December 1992 : بھارت کی تاریخ کے کالے دنوں میں یہ وہ کالا دن تھا جب BJP لیڈران اور VHP کے ذمہ داران جس میں
ایل کے ایڈوانی ، مرلی منوہر جوشی شامل ہیں کی تقاریر پر تقریباً 1,50,000 لوگ وہاں جمع ہوئے۔ Crowdنے مسجد پر حملہ کردیا اور اسے چند
گھنٹوں میں تباہ کردیا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے مسجد توڑنے کی باضابطہ Practice کی گئی تھی۔حالانکہ کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ
داخل کیا تھا کہ وہ مسجد کو ٹوٹنے نہیں دینگے۔ لیکن جو ہوا وہ اصل والا Contempt of Court تھا۔ یہ کوئی پرشانت بھوشن والا Contempt
Of court نہیں تھا۔ بابری مسجد کو توڑنے کے بعد کارسیوک نے ایودھیا میں بسے مسلمانوں پر حملہ کردیا، انکے گھر توڑے انہیں لوٹا۔18 مسلمان
کو مار دیا گیا، ان کے تقریباً تمام گھر، دکانیں جلا دی گئی جس میں تقریباً 23 مساجد شامل تھی۔ اس کے فوراً بعد پورے ملک میں فسادات کا سلسلہ شروع
ہوا جس میں ممبئی اور دیگر علاقوں میں 2000لوگ مارے گئے۔
دو FIRs داخل کی گئی جس میں سے ایک کار سیوکوں کے خلاف اور دوسری ایڈوانی، جوشی اور بھارتی کے خلاف۔ جس میں ان لیڈران
پر Communal Speeches دی جس کے بعد مسجد توڑ دی گئی۔
8 December 1992 : پاکستان سے خبر آئی کے وہاں کےمسلمانوں نے 30 ہندو مندر کو توڑا۔ بابری مسجد توڑنے کے خلاف پاکستان سرکار نے ایک
دن کے لئے اسکولس اور آفسیس بند رکھے۔
16 December 1992 : نرسمہا راو سرکار نےاس معاملے کی تحقیقات کے لئے لبراہن کمیشن قائم کیا۔

1993 : مرکزی حکومت نے Acquisition of Certain Area at Ayodhya Act کے تحت بابری مسجد کے آس پاس
67.703 ایکر زمین قبضہ میں لی۔ CBI نے کیس اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ایڈوانی کے ساتھ دیگر 19 لوگوں کے خلاف مسجد توڑنے پر ابھارنے کے
لئے چارج شیٹ داخل کی۔

1994 : سپریم کورٹ نے اس وقت کے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کو مجرم قرار دیا اور علامتی طور پر ایک دن کی قید اور 20,000کا جرمانہ لگایا۔
2001: مرکز میں NDA کی سرکار بنی۔اور CBI عدالت نے ایڈوانی، منوہر جوشی، اما بھارتی، بال ٹھاکرے اور دیگر کے خلاف Proceedings
اور Conspiracy Charges کو drop کردیا۔
2002: وزیر اعظم واجپائی نے اپنے آفس میں’ ایودھیا سیل‘ قائم کیا اور سینر افسر شتروگن سنگھ کو ہندو اور مسلمانوں کے درمیان بات چیت کی ذمہ داری
دی۔ دوسری جانب اتر پردیش الیکشن میں BJP نے اپنے Manifesto میں رام مندر کا وعدہ نہیں کیاتو VHP نے مندر بنانے کی Deadline
15 مارچ دے دی۔ایودھیا میں جگہ پر سیکڑوں رضا کار جمع ہوگئے۔الہٰ آباد ہائی کورٹ نے ASI (Archiological Survey of India )کو
یہ جاننے کے لئے کہ کیا وہاں مندر تھا،بابری کی جگہ کو Excavate کرنے کا حکم دیا۔
2003: ASI نے رپورٹ جمع کروائی جس میں مسجد کے نیچے 10 ویں صدی کے مندر کے ثبوت ہیں۔CBIکی اسپیشل کورٹ نے فیصلہ دیا کہ
ہندوتوا کے 7لیڈرس پر بابری مسجد توڑنے کے لئے لوگوں کو بھڑکانے کا مقدمہ چلایا جائے ،لیکن اس وقت کے Deputy Prime Minister ایڈوانی
کے خلاف کوئی Charges Push نہیں کیے۔حالانکہ اس وقت اس مقام پر ایڈوانی بھی موجود تھے۔
2004: عدالت نےاس فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا فیصلہ دیا جس میں ایڈوانی پر مسجد کو تڑوانے کے الزام سے سبکدوش کردیا گیا تھا۔
2005: 6 لوگ جن کو سرکار نے لشکر طیبہ کے دہشت گرد بتایا تھا نے رام جنم بھومی کامپلیکس پر حملہ کیا۔
2009: لبراہن کمیشن نے اپنے بننے کے 17سال بعد رپورٹ جمع کروائی۔ کمیشن کی رپورٹ میں بہت سے BJPلیڈران جیسے اٹل بہاری واجپائی،
لال کرشن ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، کلیان سنگھ، پرامود مہاجن، اوما بھارتی اور وجئے راجے سندیا اور VHP کے لیڈران جیسے گری راج کشور اور
اشوک سنگھل اور شیو سینا چیف بال ٹھاکرے اور Former RSS لیڈر کے۔ این۔ گوندچاریہ کو مسجد توڑنے کے معاملے میں مجرم قرار دیا تھا۔

2010: الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ ایودھیا میں موجود Disputed زمین کو تین حصوں میں بانٹا جائے اور ان میں two third part
جن دو ہندو پارٹیوں نے عرضی ڈالی ہے انہیں دی جائے اور One Third سنی مسلم وقف بورڈ کو دیا جائے۔

2011: ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ہندو اور مسلم پارٹیوں کی عرضی پر سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر روک لگا دی۔
2016 : BJP ممبر پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے سپریم کورٹ میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر بنانے کی اجازت کی پٹیشن ڈالی ۔اس وقت
نریندر مودی BJP سے ملک کے وزیر اعظم تھے۔بابری مسجد کیس کے سب سے پرانے عرضی ڈالنے والے ہاشم انصاری کی موت ہوگئی۔
2017 : ہندو یوا واہینی کے فاونڈر آدتیہ ناتھ نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ایڈوانی ، جوشی اور اوما بھارتی سمیت
بی جے پی ممبران اور کار سیوکوں پر Criminal Chrages کے تحت مقدمہ چلے گا۔کلیان سنگھ کو لسٹ میں نہیں رکھا گیا تھا کیوں کہ وہ تب
راجستھان کے گورنر تھے۔ مقدمہ کی سنوائی کے دوران بہت سے لیڈران جس میں بال ٹھاکرے بھی شامل ہیں اب دنیا میں موجود نہیں
تھے۔ کورٹ نے آرڈر دیا کہ سنوائی لکھنو میں ہوگی اور دو سالوں میں مکمل کی جائے۔ Special CBI Court نے بی جے پی لیڈران کے خلاف
چارجس لگائے لیکن انہیں ضمانت بھی دے دی۔
2018: سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کی سنوائی شروع کی جس میں سوامی کی پٹیشن بھی شامل تھی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے پانچ جج کی بینچ کو کیس
سونپنے سے بھی انکار کردیا۔
2019: سپریم کورٹ نے 5ججس کیConstitution بنچ بنائی جس کو چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی Head کر رہے تھے۔ دیگر میں
جسٹس ایس اے بوبڑے، این وی رامانہ، یو یو للت اور ڈی وائے چندر چوڑ موجود تھے۔ جسٹس یو یو للت نے سنوائی سے قبل خود کو الگ کردیا۔
اس کے بعد نئی بینچ میں CJI گوگوئی، جسٹس بوبڑے، ڈی وائے چندر چوڑ، اشوک بھوشن اور ایس اے نظیر شامل تھے۔
14 October 2019 : ایودھیا ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن نے ایودھیا میں دسمبر 10 تک سیکشن 144 لگا دیا۔

16 October 2019 : سنوائی کے آخری دن اچانک سے کیس کے Primary مسلم عرضی دار نے اپنا دعویٰ اس درخواست کے ساتھ واپس لے لیا
کہ سرکار اس کے بدلے پورے ملک میں موجود اس طرح کی عبادت گاہوں پر آنچ نہیں آنے دے گی اور انکی حفاظت کرے گی۔اس آفر
سے دوسرے مسلم گروپس نے خود کو الگ کردیا۔ وہ اس کے لئے راضی نہیں تھے۔ جوکہ VHP کو بھی منظور نہیں تھا۔

8 November 2019 : سپریم کورٹ رجسٹرار نے بتایا کہ فیصلہ 9 November 2019 کو صبح 10:30 بجے سنایا جائیگا۔ِ
9 November 2019: سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا، جس میں زمین ہندو گروپ کو دے دیا گئی اور سنی وقف بورڈ کو الگ سے سرکار
کو 5ایکر زمین دینے کا حکم دیا۔
8 May 2020: بابری مسجد توڑنے کے کیس کی سنوائی کو سپریم کورٹ نے تین ماہ کا extra time دیااور کہا کہ فیصلہ 31 اگست تک آجانا چاہیے۔
جسے اگست میں ایک مہینے کے لئے بڑھا دیا گیا۔
5 August 2020:کورونا کال کے Peak میں وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں بھومی پوجن کیا گیا۔ملک کے تقریباً تمام چینلوں پر اسے
telecast کیا گیا۔
16 September 2020 : اسپیشل CBIکورٹ نے بتایا کہ وہ اس معاملے میں ستمبر 30 کو فیصلہ سنائے گی۔
26 September 2020: اس مقدمہ میں ایک ملزم اوما بھارتی نے بی جے پی صدر جے۔پی۔ نڈّا کو خط لکھ کر کہا کہ اگر سزا ہوتی ہے
تو ضمانت نہیں لیں گی۔
30 September 2020: یعنی کل، اسپیشل CBIکورٹ نے تمام 32ملزمین کو ثبوت کی کمی ہونے کی بنیاد پر با عزت بری کردیا۔

تو یہ تھی اب تک کی بابری مسجد سے متعلق اس کی Chronology جو بہت کچھ بیاں کرتی ہے۔ لیکن انہیں دیکھنے کے لئے جو چاہیے وہ ہے انصاف کی آنکھیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!