Published From Aurangabad & Buldhana

بابری مسجد فیصلے کے بعد ایودھیا میں سب کچھ معمول پر رہا

بابری مسجد۔رام مندر متنازع اراضی ملکیت معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے دن سنیچر کو ایودھیا کے باشندوں نے نہ تو ہار کا غم ظاہر کیا اور نہ ہی جیت کا جوش دکھایا اور پورا شہر معمول کے مطابق روز مرہ کے کام کرتا نظر آیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت متنازع 2.77 ایکڑ زمین رام جنم بھومی نیاس کو دی جائے گی اور ایودھیا میں پانچ ایکڑ زمین مسجد کی تعمیر کے لئے حکومت فراہم کرے گی۔ اس فیصلے کو لے کر گذشتہ کچھ دونوں سے سارے ملک کو بے صبری سے انتظارتھا۔ مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے افواہوں کی روک تھام اور شر پسند عناصر پر نکیل کسنے کے پورے انتظام کئے تھے۔احتیاط کے طور پر لوگوں نے جمعہ کی شام کھانے پینے کی اشیاء خرید لی تھیں۔

دوسری جانب ایودھیا میں کل صبح بھی عام دنوں کی طرح معمول پر دکھی۔ مقامی افراد نے تاریخی فیصلے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے بے چینی کا یا ہڑبڑاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ کئی لوگوں کو دیر صبح تک پتہ بھی نہیں تھا کہ آج فیصلہ آنے والا ہے۔ بازاروں میں رونق عام دنوں کی طرح ہی تھی۔بدھ کو چودھ کوسی پری کریما ختم ہونے کے بعد جمعہ کو عقیدت مندوں نے پنچ کوسی پری کرما بھی پوری کی۔ پوجا پاٹ کی کی دوکانوں کے ساتھ دیگر اشیاء خوردنی کی دوکانیں معمول کے مطابق کھلی تھیں۔صبح دس بجے سےپہلے تک شہر میں بھیڑ رہی حالانکہ احتیاط کے طور پر ضلع انتظامیہ نے باہر سے آنے والے چار پہیہ گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔

یو این آئی

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!