Published From Aurangabad & Buldhana

بابری مسجد – رام مندر تنازع کی سماعت سپریم کورٹ میں کل سے ہوگی شروع ، سبھی فریقوں کے وکلا تیار

نئی دہلی : سپریم کورٹ میں کل سے بابری مسجد – رام مندر تنازع کی سماعت شروع ہوگی ۔ ذرائع کے مطابق یہ سماعت دو پہر بجے سے شروع ہوگی ۔ عدالت کی ہدایت کے مطابق فریقین کے درمیان دستاویزات کے لین دین کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔ گزشتہ سال پانچ دسمبر کو سماعت کے دوران عدالت عظمی نے اس بات کی ہدایت دی تھی ۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ اس معاملہ کی سماعت کررہی ہے۔
ادھر سبھی فریقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیںاور سپریم کورٹ میں اپنے موقف کو پوری مضبوطی کے ساتھ پیش کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ خیال رہے کہ بابری مسجد کی اراضی کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ تین حصوں میں تقسیم کرنے کے فیصلہ کے خلاف دائر اپیل میں قانونی محاذ پرجاری لڑائی اب اس لحاظ سے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے کہ عدالت عظمیٰ یومیہ بنیاد پر اس مقدمہ کی سماعت کرے گی۔

بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے بدھ کو کہا کہ ہماری تیاری پوری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ سے وابستہ سبھی کاغذات تیار کرلئے گئے ہیں ۔ یہ مسلمانوں کا لیڈنگ کیس ہے ۔ شیعہ سینٹرل وقف بورڈ چیئرمین وسیم رضوی کی اپیل پر ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ وہ صرف میڈیا میں چھائے رہنے کیلئے یہ سب کرتے ہیں ۔ ان کا تو اس معاملہ میں کوئی حق ہی نہیں ہے ۔ شیعہ وقف بورڈ کے دعوی سے سپریم میں کیس پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ہے۔
ادھر جمعیۃ علماءہند کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں مضبوط دلائل پیش کرنے کیلئے وکلاء کی ٹیم پوری طرح مستعد ہوگئی ہے۔ کل سے شروع ہونے والی مقدمہ جاتی کارروائی کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے مقرر کردہ سینئر وکلاء ڈاکٹر راجیو دھون اور ڈاکٹر راجو رام چندرن عدالت میں اپنا موقف رکھیں گے۔
نرموہی اکھاڑہ نے بھی اپنی تیاری مکمل کرلی ہے ۔ اکھاڑہ کی جانب سے ایس کے جین، رنجیت لال ورما، ہندو مہاسبھا کی طرف سے ہری شنکر جین اور وشنوشنکر جین اور رام للا وراجمان کی طرف سے پراشرن عدالت میں اپنا موقف پیش کریں گے۔ رام للا وراجمان کے وکیل مدن موہن پانڈے کو اترپردیش حکومت نے سرکاری وکیل مقرر کردیا ہے۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!