Published From Aurangabad & Buldhana

بابری مسجد – رام جنم بھومی تنازع : پڑھیں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران کس فریق نے کیا کہا ؟

نئی دہلی : عدالت عظمی نے جمعرات کو کہا کہ سیاسی طور پر حساس رام جنم بھومی – بابری مسجد ملکیت کیس کا معاملہ پوری طرح سے ایک زمینی تنازع کا معاملہ ہے اور اسے معمول کی کارروائی کے تحت نپٹایا جائے گا۔اس معاملہ کی اگلی سماعت 14 مارچ کو ہوگی۔ عدالت عظمی میں اجودھیا تنازع کی حتمی سماعت شروع ہونے کے ساتھ ہی الگ الگ فریقوں کی جانب سے پیش وکلا نے بھی اپنی دلیلیں دینی شروع کردی ہیں اور ان کے درمیان گرما گرم بحث بھی ہوئی ۔
قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی بینچ الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنو بینچ کے 2010 کے فیصلہ کو چیلنج کرنی والی درخواستوں پر سماعت کررہی ہے۔ 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اپنے فیصلے میں 2.77 ایکڑ متنازعہ زمین کو سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑا اور رام للا کے درمیان برابر حصوں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف 14 فریقوں نے عدالت عظمی عرضی دائر کی ہے۔

عدالت عظمی میں کس نے کیا کہا ؟
سنی وقف بورڈ
سنی وقف بورڈ نے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ اس معاملے میں ابھی کئی کتابوں جیسے رام چرت مانس کے اہم حصوں کا ترجمہ ہونا باقی ہے۔ وقف بورڈ کا کہنا تھا کہ رام چرت مانس جیسے 10 ایسے گرنتھ یا کتابچے ہیں، جنہیں مخالف فریق اپنے دعوی کی بنیاد بنا رہے ہیں۔ ایسے میں ان کتابوں کے اہم حصوں کا ترجمہ ہونا ضروری ہے، کیونکہ یہ ہندی، سنسکرت اور دیگر زبانوں میں ہیں۔
رام للا براجمان
رام للا براجمان کی جانب سے پیش سینئر وکیل سی ایس ویدناتھن نے کہا کہ فریقوں کو اپنی دلیلوں کا خلاصہ عدالت کو دینا چاہئے اور آپس میں اس کا تبادلہ کرنا چاہئے ۔
اترپردیش حکومت
ادھر اتر پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل تشارمہتا نے بنچ کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے اپنے حصے کے دستاویزات کا ترجمہ کر کے اسے کورٹ میں داخل کر دیا ہے۔
سینئر وکیل کے پاراسرن
ہندوتنظیموں میں سے ایک کی جانب سے پیش سینئر وکیل کے پاراسرن نے کہا کہ وہ (عرضی گزار ) 30 ہزار سال پہلے کا کس طرح کا ثبوت لائیں گے ۔ واقعہ کافی پرانے زمانہ سے متعلق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کو خود کو ریکارڈ میں موجود ثبوتوں تک ہی محدود رکھنا چاہئے ۔
جمعیۃ علما ہند
سپریم کورٹ میں بابری مسجد ملکیت تنازعہ کی سماعت کے دوران جمعیۃ علماء ہندکی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ وہ معاملے کی روز بہ روز سماعت کیئے جانے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ فریق ثانی مقدمہ کے تعلق سے ان کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل دستاویزات مہیا کرائیں۔

You might also like

Subscribe To Our Newsletter

You have Successfully Subscribed!